دنیا بھر میں غذائی تحفظ پر منڈلاتے سائے اور مہنگائی کی لہر!!!

0
15

دنیا بھر میں غذائی
تحفظ پر منڈلاتے سائے اور مہنگائی کی لہر!!!

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی حالیہ ناکہ بندی نے جہاں عالمی معیشت کے ایوانوں میں ارتعاش پیدا کر دیا ہے وہیں انسانی بقا کے حوالے سے ایک ایسا خوفناک منظر نامہ ابھر کر سامنے آیا ہے جس پر توجہ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ عام طور پر جب بھی اس خطے میں تناؤ بڑھتا ہے تو دنیا کی تمام تر نظریں محض خام تیل کی قیمتوں اور توانائی کی ترسیل پر مرکوز ہو جاتی ہیں لیکن اس بار معاملہ محض ایندھن تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ بحران انسانی زندگی کے بنیادی ستون یعنی خوراک کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن کر ابھرا ہے۔ موجودہ حالات میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ تو شاید برداشت کر لیا جائے لیکن پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے اناج کی عدم دستیابی وہ سنگین المیہ ہے جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ انسانی زندگی کے تسلسل کے لیے خوراک کی اہمیت مسلمہ ہے اور اس خوراک کا براہ راست تعلق زمین کی زرخیزی سے ہے جو دور جدید میں کیمیائی کھادوں کے بغیر ممکن نہیں۔ ماہرین کے مطابق کیمیائی کھادوں کی تیاری میں امونیا کا کردار بنیادی ہے جس کے حصول کے لیے قدرتی گیس کا ہونا لازمی ہے۔ دنیا میں امونیا کی کل پیداوار کا ایک تہائی حصہ خلیجی ممالک میں تیار ہوتا ہے جو اسی سمندری راستے یعنی آبنائے ہرمز سے گزر کر دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچتا ہے۔ ایران نے اسی دروازے کو مقفل کر دیا ہے جس کے دوسری طرف دنیا کی غذائی بقا کا سامان پڑا ہوا ہے۔ اس ناکہ بندی کے اثرات اب واضح طور پر نظر آنا شروع ہو گئے ہیں اور یورپی منڈیوں میں خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ برازیل اور بھارت جیسے بڑے زرعی ملک میں کھاد کی تیاری کے کارخانے اپنی پیداوار کم کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں کیونکہ وہاں قدرتی گیس کی فراہمی میں تعطل پیدا ہو گیا ہے۔ جنوبی مشرقی ایشیا میں یوریا کی قیمتوں میں چالیس فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ امریکہ میں بھی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں محض ایک ہفتے کے دوران یوریا کی قیمت پانچ سو ڈالر سے بڑھ کر سات سو ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ستمبر تک کھیت اناج سے خالی ہوں گے اور سال کے آخر تک جب لوگ بازاروں کا رخ کریں گے تو انہیں خالی ہاتھوں لوٹنا پڑے گا۔ اس غذائی بحران کی زد میں سب سے زیادہ وہ ممالک آئیں گے جو اپنی ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ مصر جو گندم کا سب سے بڑا خریدار ہے اور پاکستان و بنگلہ دیش جیسے ممالک جن کی معیشت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے اس لہر سے بری طرح متاثر ہوں گے۔ اسی طرح افریقہ کے وہ خطے جہاں کروڑوں لوگ پہلے ہی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں وہاں فاقہ کشی کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ ماضی قریب میں سری لنکا کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں کھاد کی قلت نے نہ صرف زراعت کو تباہ کیا بلکہ وہاں کی حکومت کے خاتمے کا سبب بھی بنی۔ ایران کا یہ اقدام محض تیل کی سپلائی روکنا نہیں بلکہ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جس نے پوری دنیا کی خوراک کو یرغمال بنا لیا ہے۔ عالمی سطح پر امیر طبقہ تو شاید بلند قیمتیں ادا کر کے اپنی ضروریات پوری کر لے لیکن عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول ناممکن ہو جائے گا۔ اس کڑے وقت میں ضرورت اس امر کی ہے کہ خوراک کے ضیاع کو روکا جائے اور ذخیرہ اندوزی سے اجتناب کرتے ہوئے مستقبل کے اس متوقع بحران کے لیے خود کو تیار رکھا جائے۔ اگر عالمی برادری نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور اس سیاسی کشیدگی کا حل نہ نکالا تو انسانیت کو ایک ایسے قحط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ ستمبر 2026 تک کے مہینے اس حوالے سے انتہائی اہم ہیں اور یہ وہ وقت ہے جب دنیا کو اپنی ترجیحات کا ازسرنو تعین کرنا ہوگا۔ ترسیل کے نظام میں یہ تعطل محض ایک تجارتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ کروڑوں انسانوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے جس پر فوری عالمی توجہ اور مصالحت کی ضرورت ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here