زندگی کے بعض بڑے اسباق نہایت سادہ اور معمولی لمحوں میں سیکھنے کو ملتے ہیں۔ اسکول کے زمانے کا ایک ایسا ہی دن آج بھی حافظے میں تازہ ہے جب ہمیں اطلاع دی گئی کہ ابتدائی طبی امداد کی تربیت دینے والی ایک ٹیم آنے والی ہے۔ اگلے روز جب ہم سب اسکول کے لان میں جمع ہوئے تو سفید لباس میں ملبوس تربیت یافتہ افراد نے بغیر کسی تمہید کے عملی مشق کا آغاز کیا۔ زخم پر پٹی باندھنے، بے ہوش شخص کو سنبھالنے اور سانس بحال کرنے جیسے مراحل اس وقت ایک دلچسپ سرگرمی محسوس ہو رہے تھے مگر وقت نے ثابت کیا کہ یہ محض مشق نہیں بلکہ زندگی کا بنیادی شعور تھا۔ اسی شعور کی عملی صورت ہر سال 8 مئی کو منائے جانے والے عالمی یوم ریڈ کراس میں نظر آتی ہے جو اس ادارے کے بانی ہنری ڈونان کی ولادت سے منسوب ہے۔ سال 2026 کا موضوع انسانیت کو زندہ رکھنا دراصل اسی پیغام کی توسیع ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، انسانی ہمدردی اور خدمت کا جذبہ کبھی ماند نہیں پڑنا چاہیے۔ ہنری ڈونان نے میدان جنگ میں زخمیوں کی بے بسی دیکھ کر یہ سوال اٹھایا تھا کہ کیا جنگ کے عالم میں بھی انسانیت کو زندہ نہیں رکھا جا سکتا؟ یہی سوال بعد ازاں انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کے قیام کا سبب بنا۔
تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے دوران اس ادارے نے زخمیوں کی نگہداشت، جنگی قیدیوں کی دیکھ بھال اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو باہم ملانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کٹھن حالات میں بھی ایک اصول ہمیشہ مقدم رہا اور وہ ہے غیر جانب داری۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امداد صرف انسان ہونے کی بنیاد پر فراہم کی جائے نہ کہ اس کی قومیت، مذہب یا وابستگی کو مدنظر رکھ کر۔ آج یہ تحریک دنیا کے بیشتر ممالک میں سرگرم عمل ہے۔ پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی، امریکن ریڈ کراس اور برٹش ریڈ کراس جیسے ادارے قدرتی آفات، طبی ہنگامی صورت حال اور سماجی بحرانوں میں فوری امداد فراہم کرتے ہیں۔ ابتدائی طبی امداد کی تربیت، خون کے عطیات، امدادی کیمپوں کا قیام اور عوامی آگاہی ان کی نمایاں خدمات میں شامل ہیں۔
یہ امر نہایت اہم ہے کہ ابتدائی طبی امداد کی مہارت کو صرف تعلیمی اداروں تک محدود نہ رکھا جائے کیونکہ یہ ہر فرد کی ضرورت ہے۔ حادثات اور ہنگامی حالات کسی بھی وقت پیش آ سکتے ہیں، لہذا اگر عام افراد کو بروقت مدد فراہم کرنے کا ہنر آ جائے تو بے شمار قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ یوں یہ محض ایک مہارت نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری کا تقاضا ہے۔ ہمارے مذہبی اور اخلاقی نظام میں بھی انسانیت کی خدمت کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اسلام ایک جان بچانے کو پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف قرار دیتا ہے۔ یہی تصور آج ریڈ کراس کی عملی کاوشوں میں پوری طرح جھلکتا ہے اور یہی پیغام انسانیت کو زندہ رکھنے کے عنوان میں بھی پوشیدہ ہے۔ ریڈ کراس کی اصل قوت اس کے رضاکار ہیں جو بے لوث جذبے کے ساتھ خدمت انجام دیتے ہیں۔ وہ ہر آفت میں سب سے پہلے پہنچتے ہیں اور سب سے آخر میں واپس لوٹتے ہیں۔ ان کی خاموش جدوجہد دراصل انسانیت کی وہ صدا ہے جو ہر دور میں سنائی دیتی رہی ہے۔ آج جب 8 مئی کا دن آتا ہے تو یہ محض ایک یادگار نہیں بلکہ ایک سوال بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے کہ کیا ہم اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں؟ انسان کی پہچان اس کے الفاظ سے نہیں بلکہ اس عمل سے ہوتی ہے جب وہ کسی دوسرے کے دکھ کو اپنا سمجھ کر آگے بڑھتا ہے۔ عالمی یوم ریڈ کراس کے موقع پر دنیا بھر میں ان تمام رضاکاروں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے جو خاموشی سے انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔ یہ خراج صرف الفاظ نہیں بلکہ اس عزم کا اعتراف ہے جو ہر لمحہ اور ہر جگہ انسانیت کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔














