یومِ مزدور: تاریخ، اہمیت، اور پیغام!!!

0
24
ڈاکٹر مقصود جعفری
ڈاکٹر مقصود جعفری

ہر سال یکم مئی کو منایا جانے والا یہ دن مزدوروں کی منصفانہ اوقاتِ کار، مناسب اجرت اور انسانی وقار کے لیے ان کی طویل جدوجہد کی یاد تازہ کرتا ہے۔ اس دن کی بنیاد 1886ء میں شکاگو میں پیش آنے والے ان واقعات سے جڑی ہے جہاں مزدوروں نے روزانہ 8 گھنٹے کام کے مطالبے کے حق میں آواز اٹھائی تھی۔ جب ایک پرامن مظاہرے کو تشدد کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی گئی تو کئی مزدور رہنماؤں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا جس کے بعد 1889ء میں دوسری انٹرنیشنل نے یکم مئی کو عالمی یومِ مزدور قرار دیا تاکہ ان کی عظیم قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جا سکے۔ آج دنیا کے 80 سے زائد ممالک میں اسے سرکاری تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے مگر یہ محض ایک چھٹی نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ انسانی تہذیب کی ہر عمارت، ہر فصل اور ہر مشین کی حرکت محنت کشوں کے ہاتھوں کی مرہونِ منت ہے۔
یہ دن تین بنیادی سچائیوں یعنی وقار، حقوق اور یکجہتی کو اجاگر کرتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی کام حقیر نہیں اگر وہ دیانتداری سے کیا جائے اور منصفانہ اجرت و محفوظ ماحول کسی کا احسان نہیں بلکہ مزدور کا بنیادی حق ہے۔ یورپ کے قدیم معاشرے میں غریبوں کے استحصال اور ان کی حالتِ زار کو چارلس ڈکنز کے ناول اولیور ٹوئسٹ میں بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ اسلام نے بھی صدیوں پہلے مزدور کے وقار کو تسلیم کرتے ہوئے واضح کیا کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کی جائے۔ نبی کریم حضرت محمد ? نے محنت کش کے کھردرے ہاتھوں کو بوسہ دے کر انہیں اللہ کا دوست قرار دیا جبکہ قرآن مجید میں بھی عمل کی اہمیت اور ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے وعید بیان کی گئی ہے۔ حضرت آدم سے لے کر حضرت داؤد تک اور خود نبی کریمۖ کی زندگی یہ پیغام دیتی ہے کہ محنت کرنا انبیاء کی سنت ہے۔
حکیم الامت علامہ اقبال نے بھی مزدور کے دکھ اور اس کے بلند مرتبے کو اپنی شاعری میں موثر انداز سے بیان کیا ہے:
تْو قادرو عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات
آپ نے فارسی کلام میں بھی یہ واضح کیا کہ کس طرح سرمایہ دار مزدور کے خون سے اپنے لیے لعل و جواہر کشید کرتا ہے اور جاگیرداروں کا ظلم کسان کی فصل کو برباد کر دیتا ہے جس کے علاج کے لیے آپ نے ایک حقیقی اور اخلاقی انقلاب کی ضرورت پر زور دیا:
خواجہ از خونِ رگِ مزدور سازد لعلِ ناب
از جفاء دہخدایان کشتِ دہقاناں خراب
انقلاب، انقلاب، اے انقلاب
2026ء کے موجودہ دور میں بھی یومِ مزدور کی معنویت برقرار ہے کیونکہ کراچی کی فیکٹریوں سے لے کر اسلام آباد کے جدید ڈیجیٹل کارکنوں تک استحصال کی نئی صورتیں موجود ہیں۔ آج بھی کم اجرت، غیر محفوظ ماحول اور سماجی تحفظ کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے جن کا حل بطور آجر بروقت ادائیگی، بطور شہری محنت کش طبقے کا احترام اور بطور ریاست قوانین کے سخت نفاذ میں پنہاں ہے۔ ادبی محاذ پر پی بی شیلے جیسے برطانوی شعراء سے لے کر اردو ادب میں جوش، فیض، ساحر لدھیانوی، احسان دانش، احمد فراز اور افتخار عارف تک سب نے سماجی انصاف کے لیے آواز بلند کی ہے۔ شکاگو کے شہداء کا خون رائیگاں نہیں گیا بلکہ اسی سے دنیا بھر میں اصلاحات کی بنیاد پڑی اور کارل مارکس نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف داس کیپیٹل کے ذریعے سائنسی سوشلزم کا تصور پیش کیا جس کے ثمرات آج یورپ کے فلاحی نظاموں میں نظر آتے ہیں۔ تمام شہداء کو سلام پیش کرتے ہوئے یہ عہد کیا جاتا ہے کہ ایک ایسے منصفانہ عالمی نظام کی جستجو جاری رہے گی جہاں جاگیرداری اور سرمایہ داری کے غلبے کا خاتمہ ہو سکے جیسا کہ ماؤزے تنگ نے محنت کشوں کو اپنی زنجیریں توڑنے اور جدوجہد کرنے کی ترغیب دی تھی۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here