جنگ عظیم اول اور دوم کے اختتام کے بعد انسانیت پر مبنی نظریات یعنی اشتراکیت اور سوشلزم کی مخالفت میں عالمی سطح پر مختلف اتحاد تشکیل دئیے گئے جن کا بنیادی مقصد صرف سرمایہ دارانہ، اجارہ دارانہ اور جاگیردارانہ استحصالی نظاموں کا تحفظ تھا۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے یورپ اور امریکہ کا ایک عسکری گٹھ جوڑ نیٹو کی صورت میں سامنے آیا جو دہائیوں تک مختلف ریاستوں کو پامال کرتا رہا۔ اس کے برعکس چین اور روس کے مابین وہ مضبوط اتحاد قائم نہ ہو سکا جس کی ضرورت تھی کیونکہ ان کے دانشور محض اپنے نظام کو دنیا میں برتر ثابت کرنے تک محدود رہے۔ دوسری جانب تیسری دنیا کے ممالک کا اتحاد بھی سامنے آیا جس کی قیادت بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو، یوگوسلاویہ کے صدر ٹیٹو اور مصری رہنما کرنل ناصر کر رہے تھے مگر یہ بھی زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکا۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی سرمایہ داری نے پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لے لیا اور مسلم دنیا کو یہ تاثر دیا کہ اشتراکیت ایک خدا بیزار اور کافرانہ نظام ہے جس کے ذریعے دائیں بازو کے مسلمانوں کو گمراہ کیا گیا حالانکہ اس نظرئیے کا کسی مذہب سے براہ راست ٹکراؤ نہیں تھا۔ اس کی بہترین مثال ہندوستان کے وہ جید رہنما ہیں جو بیک وقت مذہبی عالم بھی تھے اور ترقی پسند سوشلسٹ بھی جن میں مولانا بھاشانی، مولانا حسرت موہانی اور مولانا ابوالکلام آزاد نمایاں ہیں۔ اسی طرح اہل یورپ کو جمہوریت کے خاتمے کا ڈر دکھایا گیا اور امریکی عوام کو سوویت یونین کے ہتھیاروں اور خفیہ اداروں سے خوفزدہ رکھا گیا۔ جب 1990 کی دہائی میں یہ نظریاتی کشمکش ایک نئی شکل میں ڈھلی تو چین ایک عظیم عالمی قوت بن کر ابھرا جہاں آج غربت کا خاتمہ ہو چکا ہے اور عوام خوشحال ہیں یہاں تک کہ وہی سرمایہ دار جو کبھی چین کے دشمن تھے آج وہاں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
آج کے بدلتے ہوئے حالات میں سوشلزم کے خلاف بنائے گئے پرانے اتحاد بکھر رہے ہیں اور وہ امریکہ جو کل تک یورپ کا دست و بازو تھا اب اپنے اتحادیوں سے دور ہو رہا ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی عسکری قوت کمزور پڑ چکی ہے۔ اس کا واضح مظاہرہ حالیہ ایرانی تنازع میں نظر آتا ہے جہاں عالمی طاقت ہونے کے باوجود امریکہ ایران کو اس طرح زیر نہ کر سکا جیسے اس نے ماضی میں عراق، افغانستان اور لیبیا کو نشانہ بنایا تھا۔ ایرانی قوم نے متحد ہو کر ثابت کر دیا کہ زندہ قومیں مشکل حالات میں بھی اپنی بقا کی جنگ لڑ سکتی ہیں جس سے امریکہ کو عالمی سطح پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔
آج دنیا کی تمام استحصالی قوتیں داخلی انتشار کا شکار ہیں اور یورپ روس کے خوف سے اپنی سرحدوں پر دیواریں کھڑی کر رہا ہے۔ اس سارے منظر نامے میں یوکرین کے سربراہ ولنسکی کو ایک مہرے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور وہاں کی عوام گزشتہ کئی سالوں سے ناکہ بندی اور جنگی ہولناکیوں کا شکار ہے۔ یوکرینی عوام کو جلد یا بدیر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پڑوسیوں سے مستقل دشمنی اور پابندیوں کی زندگی چاہتے ہیں یا ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر پرامن مستقبل کے خواہاں ہیں۔ موجودہ عالمی صورتحال بتا رہی ہے کہ بہت جلد دنیا میں نئے اتحاد جنم لینے والے ہیں جن کے نتائج سے عالمی سیاست کا رخ متعین ہوگا اور یہ واضح ہو جائے گا کہ اونٹ اب کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)











