ترکی و اسرائیل کے مابین بڑھتی خلیج: نئے عسکری تصادم کا خدشہ!!!

0
25

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ سے ہی پیچیدہ ابہام اور تزویراتی تبدیلیوں کا مرکز رہی ہے لیکن حالیہ برسوں میں ترکی اور اسرائیل کے مابین پیدا ہونے والی تلخی نے عالمی مبصرین کو ایک نئے تذبذب میں مبتلا کر دیا ہے۔ تاریخی طور پر ان دونوں ممالک کے تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں مگر موجودہ صورتحال ماضی کے تمام بحرانوں سے کہیں زیادہ سنگین اور تشویشناک رخ اختیار کر چکی ہے۔ یہ محض دو ریاستوں کے درمیان سفارتی سرد مہری کا معاملہ نہیں رہا بلکہ اب یہ سوال پوری شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ لفظی جنگ کسی مسلح محاذ آرائی میں بدل سکتی ہے۔ اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے ہمیں ان دونوں ممالک کی داخلی سیاست اور خطے میں ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا گہرا جائزہ لینا ہو گا۔ ایک جانب ترکی اپنی خلافتِ عثمانیہ کی تاریخی عظمت کے احیا اور عالمِ اسلام کی قیادت کا داعی بن کر ابھر رہا ہے تو دوسری جانب اسرائیل اپنی بقا اور علاقائی بالادستی کے لیے ہر حد پار کرنے پر تلا ہوا ہے۔ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے سربراہان کی جانب سے جس طرح کی زبان استعمال کی گئی ہے وہ بین الاقوامی سفارتی آداب کے برعکس براہِ راست دشمنی کی عکاسی کرتی ہے۔ انقرہ کی جانب سے تل ابیب پر انسانی حقوق کی پامالی اور نہتے فلسطینیوں پر مظالم کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف سے ترکی کو دہشت گرد گروہوں کا پشت پناہ قرار دے کر اسے ایک ایسے دشمن کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو خطے کے امن کے لیے ایران سے بھی بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
سیاسی ماہرین اس صورتحال کو محض بیانات تک محدود نہیں دیکھ رہے بلکہ ان کا خیال ہے کہ شام، قبرص اور مشرقی بحیرہ روم کے پانیوں میں دونوں ملکوں کے مفادات کا ٹکراؤ کسی بھی وقت چنگاری کا کام کر سکتا ہے۔ ترکی اپنی بحری حدود کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے جبکہ اسرائیل یونان اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر توانائی کے وسائل پر گرفت مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ یہ معاشی اور جغرافیائی مفادات کا ٹکراؤ دونوں ممالک کی افواج کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کر سکتا ہے۔ اگرچہ ترکی شمالی اوقیانوسی معاہدے کی تنظیم کا ایک اہم رکن ہے اور اس کی فوجی طاقت عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے، لیکن اس کی بڑھتی ہوئی خود مختار خارجہ پالیسی نے مغرب اور بالخصوص امریکہ کے لیے بھی کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ اسرائیل کے سیاسی حلقوں میں اب ترکی کو ایک نئے ایران کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو کہ ایک انتہائی خطرناک رجحان ہے۔ یہ موازنہ اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ عالمی برادری کی ہمدردیاں حاصل کی جا سکیں اور ترکی کو تنہا کیا جا سکے۔ تاہم ترکی اور ایران میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ترکی ایک جمہوری ڈھانچہ رکھتا ہے اور اس کے معاشی مفادات براہِ راست یورپ اور امریکہ سے جڑے ہوئے ہیں۔
اس تمام تر کشیدگی میں داخلی سیاست کا عمل دخل بھی کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ دونوں ممالک کے موجودہ حکمران اپنی عوامی مقبولیت برقرار رکھنے کے لیے قوم پرستی کا سہارا لے رہے ہیں۔ جب داخلی سطح پر معاشی مشکلات یا سیاسی دباؤ بڑھتا ہے تو بیرونی دشمن کا خوف پیدا کر کے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دونوں جانب سے اشتعال انگیز بیانات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس سے واپسی کا راستہ مشکل دکھائی دیتا ہے۔ کیا یہ محض ایک سیاسی شعبدہ بازی ہے یا واقعی دونوں ریاستیں ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی تیاری کر رہی ہیں؟ اس کا جواب دونوں ملکوں کی فوجی قیادت کے رویے میں پنہاں ہے۔ اگرچہ سیاسی قیادت شعلہ بیانی کر رہی ہے لیکن عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کی افواج براہِ راست جنگ کے ہولناک نتائج سے واقف ہیں اور وہ فی الحال کسی بڑے تصادم سے گریز کرنا چاہیں گی۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ بعض اوقات حادثاتی طور پر شروع ہونے والی چھوٹی جھڑپیں بڑے پیمانے کی جنگوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہیں۔
مستقبل قریب میں تعلقات کی بحالی کے امکانات انتہائی معدوم نظر آتے ہیں۔ اعتماد کا جو فقدان پیدا ہو چکا ہے اسے ختم کرنے کے لیے کسی تیسرے فریق کی ثالثی کی ضرورت ہے لیکن عالمی طاقتیں خود اس وقت منقسم ہیں۔ امریکہ کی جانبداری اور یورپی ممالک کی خاموشی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ترکی اب صرف ایک علاقائی کھلاڑی نہیں رہا بلکہ وہ اپنی سرحدوں سے دور بھی اپنے اثر و رسوخ کے پنجے گاڑ رہا ہے۔ لیبیا سے لے کر آذربائیجان تک ترکی کی فوجی مداخلت اور کامیابیوں نے اسرائیل کو دفاعی طور پر چوکنا کر دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کی استواری نے ترکی کو یہ باور کرایا ہے کہ اسے خطے میں تنہا کرنے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ تزویراتی گھیرابندی ترکی کے لیے ناقابلِ قبول ہے اور وہ اپنی طاقت کے بھرپور اظہار کے ذریعے اس حصار کو توڑنے کی کوشش کرے گا۔ اس رسہ کشی میں سب سے زیادہ نقصان خطے کے امن اور ان عوام کا ہو رہا ہے جو پہلے ہی دہائیوں سے جنگوں اور خانہ جنگی کی آگ میں جل رہے ہیں۔
آج 2026 میں ہم ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں سفارت کاری اپنی اہمیت کھو رہی ہے اور طاقت کا استعمال ہی مسائل کا حل سمجھا جانے لگا ہے۔ اگر ترکی اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اسی طرح بڑھتی رہی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سیاست اس کی لپیٹ میں آ جائے گی۔ توانائی کی سپلائی لائنیں متاثر ہوں گی اور عالمی منڈیوں میں ایک نیا بحران پیدا ہو جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی ادارے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں اور دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے دباؤ ڈالیں۔ جذباتی نعروں اور نظریاتی انتہا پسندی نے پہلے ہی انسانیت کو بہت دکھ دیے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا جائے اور خطے کو ایک نئی تباہ کن جنگ سے بچانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو تاریخ ان حکمرانوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی جنہوں نے اپنے اقتدار کی طوالت کے لیے امن کی شمع کو گل کر دیا۔ ترکی اور اسرائیل کے درمیان یہ سرد مقابلہ کسی بھی وقت گرم جنگ میں بدل سکتا ہے اور اس کی روک تھام اب صرف بیان بازی سے ممکن نہیں بلکہ ٹھوس اقدامات کی متقاضی ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here