تدبیر اور تقدیر: فکری مغالطے اور اسلامی نقطہ نظر!!!

0
29
شبیر گُل

مالکِ کائنات اللہ رب العزت نے اس جہانِ رنگ و بو کی تخلیق ایک خاص ترتیب اور ضابطے کے تحت فرمائی ہے اور کائنات کے اس عظیم الشان نظام کو چلانے کے لیے ٹھوس اصول و قوانین وضع کیے ہیں۔ نظامِ کائنات کی تقسیمِ کار اور انتظام و انصرام کی ذمہ داریوں کے لیے انسان کو روئے زمین پر اپنا خلیفہ مقرر کیا اور اسے زندگی گزارنے کے لیے سنہری اصول عطا فرمائے۔ ان الہی قوانین اور ضوابط کو بنی نوع انسان تک پہنچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام مبعوث فرمائے تاکہ وہ انسان کو ترقی کی حقیقی منازل اور کامیابی کے طریق کار سے روشناس کرا سکیں۔ زندگی کے ان بنیادی مبادیات کی تعلیم کے لیے رسولوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا اور پھر تمام انبیاء کے امام اور خاتم النبیین جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا گیا جنہوں نے اللہ کی بندگی، اطاعتِ رسول اور خدمتِ خلق کا وہ جامع نظام پیش کیا جو انسانی زندگی کا اصل حاصل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و فعل سے کردار سازی، افکار کی درستی اور معاشرتی اخلاقیات کے وہ پختہ اصول بتلائے جن پر چل کر ہی کامیابی ممکن ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ دورِ حاضر میں ہم بے تدبیری اور اصولوں سے انحراف کے ایک ایسے حصار میں جکڑ چکے ہیں جسے ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے بنا رکھا ہے۔ اس بے تدبیری کے خول سے باہر نکلنے کے لیے ہمیں ان الہی اصولوں کو اپنانا ہوگا اور وہ تدابیر اختیار کرنی ہوں گی جن کی وساطت سے ہم زندگی کے نظام کو بہتر بنا سکیں۔ اللہ رب العزت نے انسان کو عقل و شعور محض جینے کے لیے نہیں بلکہ خود میں تبدیلی لانے، نظامِ زندگی کو بہتر کرنے اور معاشرتی بگاڑ کی اصلاح کے لیے عطا فرمایا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم اس عقل و شعور کو بروئے کار لانے کی کوشش نہیں کرتے اور اپنی انفرادی و اجتماعی ناکامیوں کا بوجھ تقدیر کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔ اپنی کوتاہیوں کو تقدیر کا نام دینا دراصل اپنی ناکامی کا اعتراف اور کاہلی کا شاخسانہ ہے کیونکہ یہ کائنات بہانوں پر نہیں بلکہ اصولوں پر چلتی ہے۔ ہم نے تقدیر کو ایک ایسا بہانہ بنا لیا ہے جس کے پیچھے ہم اپنی نالائقیوں کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی تگ و دو نہ کرے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ہر موڑ پر تدبیر اور حکمتِ عملی کو اختیار کیا۔ اگرچہ آپ کے لیے معجزات کا ظہور ممکن تھا لیکن آپ نے نظامِ قدرت کے تحت منصوبہ سازی کو ترجیح دی۔ آج ہم اللہ کی مشیت کا غلط تصور اپنا کر ذہنی معذوری کا شکار نظر آتے ہیں اور خود کو دھوکا دے رہے ہیں۔ یہ کائنات تماشائیوں کے لیے نہیں بلکہ عملی میدان کے کھلاڑیوں کے لیے بنائی گئی ہے جہاں ہر عمل کا ایک منطقی انجام ہوتا ہے۔ ہم نے تقدیر کو ایک ایسی کالی چادر بنا لیا ہے جس کے نیچے ہم اپنی بے تدبیری اور ہر محاذ پر اپنی بزدلی کو چھپا کر سکون کی نیند سونا چاہتے ہیں۔ جب اللہ نے انسان کو زمین پر اپنا امین بنایا تو اسے عقلِ سلیم کی وہ تلوار بھی عطا کی جس سے وہ حالات کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جو گروہ حکمتِ عملی کے بغیر خود کو بربادی کی کھائی میں دھکیل دے وہ دراصل اللہ کے دیے ہوئے نظامِ عقل کی توہین کر رہا ہوتا ہے۔
اسلام کا پورا مزاج بصیرت اور منصوبہ بندی سے عبارت ہے۔ اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے موقع پر غیبی معجزوں پر تکیہ کرنے کے بجائے ایک ایک موڑ کی منصوبہ بندی فرمائی، بستر بدلا، سراغ رسانی کا نظام قائم کیا اور ماہرین کی خدمات حاصل کیں۔ یہ سب اس لیے تھا کہ مومن کو یہ سبق ملے کہ وہ حالات کی لہروں پر بہنے والا تنکا نہیں بلکہ لہروں کا رخ موڑنے والا باہمت انسان ہے۔ قرآن کا قانون واضح ہے کہ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی۔ یہ کوشش محض جسمانی نہیں بلکہ اس ذہنی بیداری کا نام ہے جو انسان کو دوبارہ غلطی کرنے سے روکتی ہے۔ نصرتِ الہی ہمیشہ ان کے شاملِ حال ہوتی ہے جو اپنی عقل کو وحی کے تابع کر کے پوری تیاری کے ساتھ میدانِ عمل میں اترتے ہیں۔ ہمیں اپنی ناکامیوں کا بوجھ اللہ کی مشیت پر ڈالنا بند کرنا ہوگا اور اس سیاسی و سماجی شعور کو اپنانا ہوگا جو ہمارا اصل ورثہ ہے۔
آج ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہم اللہ کے وہ سپاہی بننا چاہتے ہیں جو کائنات کے قوانین کو مسخر کر کے حق کی حاکمیت قائم کرتے ہیں یا وہ گروہ جو اپنی ہی پیدا کردہ بربادیوں پر صبر کا لیبل لگا کر خود کو تسلی دیتا رہے؟ اسلام ہمیں بے بسی کے غار سے نکال کر حکمتِ عملی کے سنگم پر کھڑا کرنا چاہتا ہے۔ اگر ہمارا ایمان ہمیں بیدار مغز اور بہترین منصوبہ ساز نہیں بنا رہا تو ہمیں اپنے تصورِ ایمان کی اصلاح کرنی ہوگی۔ اس سے پہلے کہ وقت ہمیں تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دے، ہمیں اپنی عقل کو وحی کی روشنی میں بیدار کر کے محمدی حکمتِ عملی کا علم بلند کرنا ہوگا۔ ہم فیصلہ سازی میں انتہائی کمزوری کا شکار ہیں اور عبادات و اطاعت میں صرف سہولت کے طالب رہتے ہیں جہاں خود پسندی غالب آ جاتی ہے۔ شخصیت پرستی کے طوق نے ہمیں اصل مقصد سے دور کر دیا ہے اور ہم کرپٹ عناصر کا ساتھ دے کر اپنے مقدر کو کوستے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری کوتاہیوں کو معاف فرمائے اور ہمیں دین و دنیا کے اصولوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here