بھارتی فلموں سے پاکستانی ڈراموں تک!!!

0
29
کامل احمر

سیاست سے دور آج ہم کچھ اور بات کریں گے اور وہ فلم اور ٹی وی سیریل کے تذکرے ہیں کیونکہ اب یہی ایک تفریح باقی رہ گئی ہے۔ ہماری فلمی صنعت کو تو تالے لگ چکے ہیں اور حکومت کا کبھی تعاون میسر نہ تھا تاہم سنا ہے کہ مریم نواز فلم کے حوالے سے کچھ اقدامات کرنے والی ہیں۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ جب سے جنوری 2005 میں ”ہم ”ٹی وی کا آغاز ہوا تو شروع میں یہ ایک سادہ سا ادارہ تھا لیکن رفتہ رفتہ اس کی بنیاد رکھنے والی سلطانہ صدیقی نے اپنی جدوجہد سے اسے چار چاند لگا دئیے۔ ان کا ادارہ نہ صرف ڈرامہ سیریل کی وجہ سے مشہور ہوا بلکہ اس نے لاتعداد ایسے فنکار بھی پیدا کیے جو اب مستند اداکار بن چکے ہیں اور سیریل کے ہر کردار کو حقیقت کے رنگ میں نبھاتے ہیں۔ اس کا سہرا سلطانہ صدیقی کے سر جاتا ہے جن سے ہمارا تعلق صرف اتنا ہے کہ پاکستان میں آج جو چیز واقعی تعریف کے قابل ہے وہ ہمارا ٹیلی ویژن ہے۔ اس میدان میں اے آر وائی اور جیو بھی شامل ہیں اور دونوں کے درمیان مقابلہ جاری ہے لیکن اے آر وائی کو اچھے ڈراموں کی پہچان مانی جاتی ہے جو ہر چند کہ سال میں چند ہی سیریل لاتے ہیں لیکن شائقین کو ان کا انتظار رہتا ہے۔
ہمارے ڈرامہ سیریل نے پڑوسی ملک بھارت میں اپنی دھاک بٹھا دی ہے۔ پچھلے دنوں میری فون پر بھارت میں مقیم خالہ زاد بھائی سے بات ہو رہی تھی جو ہماری ہم عمر ہیں۔ جب ان سے پوچھا کہ ریٹائر ہونے کے بعد وقت کیسا گزر رہا ہے تو ان کا جواب تھا کہ آپ کے ڈرامے دیکھ کر وقت کٹ جاتا ہے اور ابھی میں ڈرامہ کفیل دیکھ رہا ہوں جس میں اداکارہ نے بہت عمدہ کام کیا ہے۔ یہ آج کی بات نہیں بلکہ بھارت میں دلیپ کمار کے بعد کبھی بھی کوئی ویسا عظیم اداکار پیدا نہیں ہوا لیکن وہاں کا صحافتی حلقہ راجیش کھنہ اور راج کمار کو صدی کا اداکار قرار دیتا رہا ہے۔ دلیپ کمار کے بعد امیتابھ بچن نے ان کی جگہ لی اور جوانی سے زیادہ بڑھاپے کے کرداروں میں آکر وہ جان ڈال دیتے ہیں۔ محبوب خان، کے آصف، گرو دت، علی رائے، امیہ چکر برتی، ہریش کیش مکرجی، ستیہ جت رائے اور راج کپور کے بعد اب رام گوپال ورما، راج کمار ہیرانی، پرکاش جھا اور نتیش تیواڑی جیسے نام سامنے آئے ہیں جن کی بڑی فلم رامائن رنبیر کپور کے ساتھ آنے والی ہے۔ لیکن رنبیر کپور کے علاوہ وہاں کوئی ایسا چونکا دینے والا اداکار نہیں جو ناظرین کو حیران کر دے۔
دوسری طرف پاکستان میں باصلاحیت فنکاروں کی ایک طویل قطار موجود ہے اور ڈرامہ کی کہانی کیسی ہی کیوں نہ ہو، اداکاری ہمیشہ حقیقت سے بھرپور ہوتی ہے۔ پچھلے دنوں ہم نے کئی سیریل دیکھے جن میں مہرین جبار کی ہدایت کاری میں بنا سیریل ڈاکٹر بہو نمایاں ہے۔ اس میں بہترین اداکاری اور ایسی عمدہ ڈائریکشن ہے کہ محسوس ہوتا ہے جیسے کیمرہ کہانی کے کرداروں کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے فلما رہا ہے۔ مہرین جبار دراصل مشہور شخصیت جاوید جبار کی صاحبزادی ہیں اور انہوں نے ڈرامہ نگاری کے فن پر ایک کتاب بھی لکھی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بڑے سلیقے اور اطمینان کے ساتھ کہانی کو آگے بڑھاتی ہیں اور کہیں بھی جھول نظر نہیں آتا۔ صنم مہدی کی تحریر کردہ یہ کہانی اب تک کی اقساط دیکھنے کے بعد لاجواب معلوم ہوتی ہے اور ناظرین کو یہ شکایت نہیں ہوگی کہ فلاں منظر فضول ہے یا اس کردار کی ضرورت نہ تھی۔ اس کے برعکس حال ہی میں ختم ہونے والا ایک سیریل جو 66 اقساط پر مبنی تھا، اس میں ناظرین جگہ جگہ اکتاہٹ کا شکار ہوئے اور ہم بھی صرف انجام دیکھنے کے لیے اسے دیکھتے رہے۔ اس کا اختتام ہدایت کار علی فرحان کے لیے ایک مسئلہ بنا رہا اور کچھ زیادہ متاثر کن نہ تھا۔ اگرچہ سب کی اداکاری لاجواب تھی لیکن صرف کرداروں کو رلانے اور دکھی دکھانے سے ڈرامے اچھے نہیں بنتے۔ یہ سیریل نئی کمپنی جی آر ایس این نے پیش کیا تھا۔
ایک اور بہترین سیریل کفیل ہے جس میں صنم سعید نے شاندار اداکاری کر کے اسے کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ ہدایت کار میشان نقوی نے عمدہ کام کیا ہے اور باقی فنکاروں کا بھی جواب نہیں ہے۔ یہ سیریل اے آر وائی نے عمیرہ احمد کی کہانی پر پیش کیا تھا جنہوں نے اس سے قبل بھی کئی شہرہ آفاق اور جذبات سے بھرپور کہانیاں دی ہیں۔ ان کے مشہور ڈراموں میں زندگی گلزار ہے، بے نشان، الف، جنت سے آگے، دوراہا اور شہر ذات شامل ہیں۔ نئے ڈراموں میں فیروز خان کا شیدائی قابل ذکر ہے جن کا 2025 کا سیریل ہم راز اب تک ذہنوں میں نقش ہے۔ ہم آج کا یہ کالم یہیں ختم کریں گے اور آئندہ بھی سیاست سے ہٹ کر ایسے ہی موضوعات پر گفتگو کرتے رہیں گے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here