عالمی سطح پر ڈالر کی گرتی ہوئی قدراور امریکہ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی
حالیہ معاشی رپورٹس اور اعداد و شمار ایک ایسی خاموش مگر سنگین تبدیلی کی نشاندہی کر رہے ہیں جو براہِ راست عام آدمی کی جیب اور اس کے طرزِ زندگی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ امریکی ڈالر جو طویل عرصے سے عالمی معیشت کا ناقابلِ تسخیر ستون سمجھا جاتا رہا ہے، اب ایک ایسی پستی کا شکار ہے جسے ماہرین معیشت ایک پوشیدہ ٹیکس سے تعبیر کر رہے ہیں۔ گذشتہ چھ ماہ کے دوران اس کی قدر میں ہونے والی دس فیصد کمی محض ایک عددی تبدیلی نہیں بلکہ اس کے پیچھے وہ پیچیدہ معاشی عوامل کارفرما ہیں جو بین الاقوامی تجارت سے لے کر کچن کے بجٹ تک ہر چیز کو متاثر کر رہے ہیں۔ جب ہم ڈالر کی قدر میں اس گراوٹ کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ عمل جہاں ایک طرف برآمدات میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، وہاں دوسری طرف درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کی بنیاد بھی بنتا ہے۔ موجودہ سیاسی تناظر میں جب صدارتی محل سے ایسی پالیسیاں ترتیب دی جا رہی ہیں جو بظاہر مقامی صنعت کو فروغ دینے کے لیے ڈالر کو کمزور رکھنے کی حامی ہیں، تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مہنگائی کا بوجھ بالآخر صارف کے کندھوں پر ہی آ گرتا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ سکّے کی قدر میں یہ کمی ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب دنیا پہلے ہی ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مختلف علاقائی تنازعات کے باعث معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ ڈالر کا انڈیکس جو دیگر بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں اس کی طاقت کا پیمانہ ہے، سنہ 2025 کے پہلے نصف حصے میں گذشتہ پچاس سال کی سب سے بڑی گراوٹ کا شاہد رہا۔ اس گراوٹ کا مطلب یہ ہے کہ اب بیرونِ ملک سے منگوائی جانے والی ہر شے، خواہ وہ خام مال ہو یا تیار شدہ مصنوعات، پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی دستیاب ہوگی۔ بڑے کثیر القومی ادارے تو شاید اس صورتحال سے فائدہ اٹھا لیں کیونکہ ان کی بیرونِ ملک فروخت سے حاصل ہونے والا منافع جب مقامی کرنسی میں تبدیل ہوتا ہے تو وہ زیادہ دکھائی دیتا ہے، لیکن وہ چھوٹے کاروباری ادارے جو صرف مقامی سطح پر کام کرتے ہیں اور اپنی پیداواری ضرورتوں کے لیے غیر ملکی مال پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے یہ صورتحال کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ ان اداروں کو نہ صرف مہنگا مال خریدنا پڑ رہا ہے بلکہ اپنی بقا کے لیے وہ ان اخراجات کا بوجھ قیمتوں میں اضافے کی صورت میں عوام پر منتقل کرنے پر مجبور ہیں۔
خاص طور پر خوراک اور روزمرہ کی ضروریات کی اشیائ پر اس کے اثرات انتہائی تشویشناک ہیں۔ مثال کے طور پر قہوہ یا کافی کی مثال لی جائے جس کی قیمتوں میں حالیہ عرصے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ برازیل جیسے ممالک جو اس جنس کے بڑے برآمد کنندگان ہیں، وہاں کی مقامی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی کمزوری نے براہِ راست قیمتوں کو متاثر کیا ہے۔ جب ڈالر کی قوتِ خرید کم ہوتی ہے تو بین الاقوامی منڈیوں میں اجناس کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عام صارف کو اپنی بنیادی ضرورتوں کے لیے پہلے سے زیادہ رقم خرچ کرنی پڑتی ہے۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جس میں افراطِ زر اور کرنسی کی بے قدری ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں اور عام شہری کی بچتیں تیزی سے ختم ہونے لگتی ہیں۔ سیاحت کے شعبے میں بھی یہی صورتحال درپیش ہے، جہاں اب میکسیکو یا یورپ کا سفر کرنے والے شہریوں کو معلوم ہو رہا ہے کہ ان کا بٹوا اب پہلے جیسا بھرا ہوا نہیں رہا اور ہر خدمت کے لیے انہیں زیادہ ادائیگی کرنی پڑ رہی ہے۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو امریکی صدور ہمیشہ ایک مضبوط ڈالر کی حمایت کرتے رہے ہیں کیونکہ یہ عالمی سطح پر ملک کی اقتصادی برتری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ تاہم موجودہ دور میں اس سوچ میں تبدیلی نظر آتی ہے، جہاں سکّے کی کمزوری کو مقامی مینوفیکچرنگ اور برآمدات کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد امریکی مصنوعات کو عالمی منڈی میں سستا بنانا ہے تاکہ دوسرے ممالک انہیں زیادہ مقدار میں خرید سکیں، لیکن اس کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ملک کے اندر رہنے والے وہ تمام لوگ جو غیر ملکی اشیاء یا خدمات استعمال کرتے ہیں، وہ اس پالیسی کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ معاشی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈالر گذشتہ پندرہ برسوں سے اپنی اصل قدر سے زیادہ مستحکم رہا ہے، اس لیے موجودہ گراوٹ ایک فطری عمل بھی ہو سکتی ہے۔ مگر اس فطری عمل کے ساتھ ساتھ جنگی حالات اور ایندھن کی منڈیوں میں عدم استحکام نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
آنیوالے سالوں کے بارے میں پیش گوئی کرتے ہوئے مالیاتی امور کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ڈالر کی قدر میں مزید پندرہ فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو عالمی منڈی میں تیل اور دیگر خام مال کی قیمتیں ایک نئے ریکارڈ تک پہنچ جائیں گی۔ یہ صورتحال صرف امریکہ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پوری دنیا کی معیشت اس کی لپیٹ میں آئے گی کیونکہ ڈالر اب بھی عالمی تجارت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ جب دنیا کی سب سے بڑی معیشت کا سکّہ لڑکھڑاتا ہے تو اس کی بازگشت ہر براعظم میں سنائی دیتی ہے۔ موجودہ حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشی پالیسی ساز محض قلیل مدتی تجارتی فوائد کے بجائے طویل مدتی استحکام پر توجہ دیں تاکہ عام آدمی کو اس معاشی بوجھ سے نجات مل سکے جو ڈالر کی گرتی ہوئی قدر کی صورت میں ان پر لاد دیا گیا ہے۔ افراطِ زر کا یہ جن جو اب بے قابو ہوتا دکھائی دے رہا ہے، اس پر قابو پانے کے لیے صرف کرنسی کی قدر میں توازن لانا ہی واحد حل نظر آتا ہے، ورنہ مہنگائی کا یہ طوفان معاشی ڈھانچے کو مزید کمزور کر دے گا۔













