اسلام آباد جو کہ ملک کا دارالحکومت اور منصوبہ بندی کے اعتبار سے ایک مثالی شہر سمجھا جاتا ہے، آج کل ایک ایسی بحث کی زد میں ہے جس نے نہ صرف شہری نظم و ضبط پر سوال اٹھایا ہے بلکہ ادارہ جاتی کارکردگی کو بھی کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک رہائشی عمارت کے غیر قانونی ہونے کا معاملہ خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے اور یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ آخر ایسی تعمیرات وجود میں کیسے آ جاتی ہیں جو بظاہر ضوابط کی آنکھوں میں دھول جھونک کر مکمل ہو جاتی ہیں۔ یہ تاثر اب عام ہوتا جا رہا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم غفلت یا دیدہ و دانستہ چشم پوشی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اگر کسی عمارت کی بنیاد سے لے کر اس کی تکمیل تک کے مراحل پر غور کیا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہر قدم پر متعلقہ اداروں کی منظوری، نگرانی اور مداخلت ضروری ہوتی ہے، لہٰذا یہ کہنا بجا ہے کہ اگر کوئی غیر قانونی ڈھانچہ مکمل ہو جاتا ہے تو اس میں ادارہ جاتی ناکامی کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔
اسی تناظر میں وفاقی ترقیاتی ادارے کا کردار سب سے زیادہ زیر بحث آتا ہے کیونکہ یہی ادارہ شہر میں تعمیراتی ضوابط کا ذمہ دار ہے، مگر عملی صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے جس سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں یا پھر بااثر حلقوں کا دباؤ انہیں مؤثر کارروائی سے روکے ہوئے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بااثر افراد کی مداخلت اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف کارروائی سے بچ نکلتے ہیں بلکہ تعمیرات کو جاری رکھنے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں عام شہری کے لیے قانون کی پاسداری ایک مذاق بن کر رہ جاتی ہے۔ اس پس منظر میں عوامی ردعمل بھی سخت ہوتا جا رہا ہے اور لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ایک عام شہری معمولی سی خلاف ورزی پر گرفت میں آ سکتا ہے تو پھر بڑی اور واضح خلاف ورزیوں پر خاموشی کیوں اختیار کی جاتی ہے۔ یہ دوہرا معیار نہ صرف قانون کی بالادستی کو کمزور کرتا ہے بلکہ اداروں پر عوامی اعتماد کو بھی متزلزل کرتا ہے اور اسی تنقیدی ماحول میں یہ تلخ جملے زبان زدِ عام ہیں کہ اسلام آباد میں ایک رہائشی عمارت کے غیر قانونی ہونے کا بہت شور مچا ہوا ہے جس کی اتنی جرأت ہوئی کہ بیوروکریسی اور عدلیہ کو چکما دیتے ہوئے خود ہی بن گئی، اب اس کی دیواروں کو عبرت کا نشان بنانا چاہیے تاکہ دوبارہ شاہراہ دستور پر کوئی ایسی غیر دستوری حرکت کرنے کا تصور بھی نہ کر سکے۔ اگرچہ یہ الفاظ شدید جذبات کی عکاسی کرتے ہیں مگر ان کے پیچھے چھپی بے بسی ایک حقیقی مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے کہ شہری اب قانون کے بلاامتیاز اطلاق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی ترقیاتی ادارہ اور دیگر متعلقہ حکام نہ صرف نگرانی کے نظام کو مضبوط کریں بلکہ شفافیت اور احتساب کو بھی یقینی بنائیں۔ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بروقت کارروائی، افسران کی ذمہ داری کا تعین اور سفارشات کو مسترد کرنا ہی وہ اقدامات ہیں جو اس مسئلے کا پائیدار حل فراہم کر سکتے ہیں۔ اگر آج اس صورتحال کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو کل یہی بے ضابطگیاں ایک بڑے شہری بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہیں کیونکہ اسلام آباد کی خوبصورتی اور اس کا نظم و ضبط اسی وقت برقرار رہ سکتا ہے جب قانون کی حکمرانی کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔














