اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بعض بظاہر مختصر نیکیوں کے بدلے بڑی برکات سے نوازا ہے جن میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سرِ فہرست ہے۔ اس بابرکت آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد حاصل ہوتی ہے اور اس میں ایسی روحانی قوت پوشیدہ ہے جس کا ادراک ایک عام مسلمان کے لیے ممکن نہیں۔ یہ امر باعث افسوس ہے کہ ایسی عظیم طاقت کی موجودگی میں بھی لوگ مایوسی کا شکار ہوتے ہیں۔ فرمانِ نبوی ? کے مطابق یہ وہ منفرد آیت ہے جو حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد صرف آپ ۖ پر نازل ہوئی۔ روایات میں درج ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو کائنات کے قدرتی مظاہر میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں، بادل چھٹ گئے، ہوائیں تھم گئیں اور سمندر ساکن ہو گئے جبکہ شیاطین پر آسمانی شعلوں کی بارش ہوئی۔ پروردگارِ عالم نے اپنی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان فرمایا کہ جس شے پر یہ نام لیا جائے گا اس میں برکت لازمی ہوگی۔حضرت ابن مسعود کے بقول جہنم کے انیس داروغوں سے نجات کی خواہش رکھنے والوں کو یہ کلمات پڑھنے چاہئیں کیونکہ اس آیت کے حروف کی تعداد بھی انیس ہی ہے۔ مسند احمد کی ایک روایت کے مطابق سفر کے دوران سواری کے لڑکھڑانے پر شیطان کو برا بھلا کہنے کے بجائے بسم اللہ پڑھنا اسے مچھر کی طرح ذلیل و خوار کر دیتا ہے۔ احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ہر وہ کام جو اللہ کی حمد و ثناء اور بسم اللہ سے شروع نہ کیا جائے وہ برکت سے محروم اور ادھورا رہتا ہے۔ اللہ کا شکر زبان سے قولی طور پر اور احاکمات کی پیروی کے ذریعے عملی طور پر ادا کرنا ضروری ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ وضو کے آغاز میں ان کلمات کی ادائیگی سے جب تک وضو برقرار رہتا ہے فرشتے نیکیاں لکھتے رہتے ہیں۔کتبِ تفاسیر میں ایک گناہ گار کا قصہ مذکور ہے جس کی مغفرت صرف اس بنیاد پر ہوئی کہ اس نے ایک مدرسے کے پاس سے گزرتے ہوئے بسم اللہ کی تلاوت سنی اور اس کے دل میں اللہ کے نام کی مٹھاس پیدا ہوئی۔ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہر نیک کام کے آغاز میں تسمیہ خوانی شیطان کو عمل میں شریک ہونے سے روکتی ہے۔ تاریخِ اسلام کا ایک ایمان افروز واقعہ حضرت خالد بن ولیدسے منسوب ہے جنہوں نے منکرین کے سامنے اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے زہرِ قاتل بسم اللہ پڑھ کر پی لیا اور اس کے اثرات سے محفوظ رہے۔ یہ معجزاتی منظر دیکھ کر آتش پرست پکار اٹھے کہ بلاشبہ دینِ اسلام ہی برحق ہے۔
انسان کی روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے چھوٹے بڑے مسائل کا حل اسمِ الٰہی کی برکت میں پوشیدہ ہے۔ جب کوئی بندہ اپنے کاموں کا آغاز اللہ کے نام سے کرتا ہے تو گویا وہ اپنی محدود بساط کو اللہ تعالیٰ کی لامحدود قدرت کے سپرد کر دیتا ہے۔ یہ عمل محض الفاظ کی تکرار نہیں بلکہ اس بات کا اعتراف ہے کہ کائنات کی ہر حرکت اور ہر کامیابی صرف ربِ کریم کی مشیت سے ممکن ہے۔ دینی و دنیاوی معاملات میں بسم اللہ کی یہ برکت بندے کے ارادوں میں پختگی اور عمل میں خیر و عافیت پیدا کرتی ہے۔قرآنی تعلیمات اور اسلاف کے واقعات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ذکرِ الٰہی میں وہ تاثیر ہے جو ظاہری اسباب کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ رزق میں تنگی ہو یا ذہنی اضطراب، بسم اللہ الرحمن الرحیم کا ورد دلوں کو اطمینان اور سکون فراہم کرتا ہے۔ علمائے دین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تلاوتِ قرآن ہو یا عام زندگی کا کوئی جائز کام، تسمیہ کے ذریعے حاصل ہونے والا روحانی تحفظ انسان کو شیطانی وسوسوں اور منفی اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس مختصر سی نظر آنے والی آیت کی برکت سے نہ صرف کام مکمل ہوتے ہیں بلکہ ان میں دائمی اثر اور روحانی پاکیزگی بھی شامل ہو جاتی ہے جو آخرت میں بلندیِ درجات کا سبب بنے گی۔














