آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا!!!

0
16

ہمارا پیارا ملک پاکستان دولخت ہوا تو 1970ء کی دہائی میں بیرون ملک ہجرت کے رجحان میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے عام پاکستانیوں کے لیے پاسپورٹ جاری کرنے کی پالیسی انتہائی نرم کر دی جس کے نتیجے میں بہت سے پاکستانیوں نے مشرق وسطیٰ کا رخ کیا۔ اسی دوران امریکہ کی امیگریشن بھی کھل چکی تھی اور ساتھ ساتھ مغربی تہذیب کی چکا چوند بھی اپنے عروج پر تھی۔ ہر طرف، خصوصاً ہمارے تعلیمی اداروں میں امریکہ کی آزاد روی اور ہنگامہ خیز پارٹی کلچر کے چرچے عام تھے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان کے لیے اس طوفان بدتمیزی کا مقابلہ کرنا بے حد مشکل ہو جاتا تھا کیونکہ غالب تہذیب کے نرالے انداز ہمارے نوجوانوں کے لیے خاصے پرکشش اور متاثرکن تھے۔ ان حالات میں جولائی 1977ء میں نیویارک کا مشہور زمانہ بلیک آؤٹ واقعہ پیش آیا جب تکنیکی خرابی کی وجہ سے پورے نیویارک شہر کی بجلی چلی گئی۔ 13 اور 14 جولائی کی اس تاریک رات کے دوران لوٹ مار اور دیگر جرائم نے مغربی تہذیب پر چڑھائے گئے سنہری ملمع کو اتنی تیزی سے اتارا کہ ہمارے لیے پاکستان میں مشرقی اور اسلامی اقدار کا پرچار کرنا کافی آسان ہو گیا۔
نیویارک کی رات کی تاریکی میں پانچ سو سے زائد پولیس افسر زخمی ہوئے جبکہ پانچ ہزار کے قریب عام لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ مادی نقصان کا اندازہ تو آج کل کے ڈالروں میں 1.5 بلین کا لگایا جاتا ہے لیکن اخلاقی بے راہ روی کا عیاں ہو جانا مغربی تہذیب کے لیے یقیناً ایک بہت بڑا دھچکا ثابت ہوا۔ بہادر شاہ ظفر کے الفاظ میں
ظفر! آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
خوف خدا کی یہی کمی ہے جس نے امریکہ اور اسرائیل کے حکمرانوں کو اتنا سنگ دل بنا دیا ہے کہ آج وہ فلسطین، لبنان اور ایران کے شہریوں کو انسان ہی نہیں سمجھتے۔ بچوں اور خواتین کا خون ناحق بہانے میں انہیں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی اور جھوٹ، دروغ گوئی، مبالغہ آرائی و غلط بیانی ان کی روزمرہ سیاسی لغت کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے کہ
ترجمہ: ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا،پھر ہم نے اسے پست سے پست ترین حالت کی طرف لوٹا دیا(القرآن)
امریکی اشرافیہ کے اخلاقی انحطاط کا اندازہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر کے ساتھ صحافیوں کے عشائیہ کے دوران ہونے والی فائرنگ کے ردعمل سے بھی ہوا۔ سیکیورٹی کے تمام تر انتظامات کے باوجود تمام بہادر حاکم خواتین کو پیچھے چھوڑ کر سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے۔ صدر صاحب کو تو مقامی اصطلاح میں ٹنگا ٹوڑی کر کے لے جانا پڑا۔ عورتوں کے احترام میں لیڈیز فرسٹ کا خوش نما نعرہ لگانے والے دوغلے لوگ خطرے کے وقت صنف نازک کو روندتے ہوئے فرار ہوئے۔ آخر میں جب اس ترقی یافتہ ملک کی حکمران اشرافیہ کو کھانے کی میزوں سے بچا کھچا مال غنیمت چراتے ہوئے دیکھا گیا تو شرم کے مارے سر جھک گیا۔ اس دنیا کی زمام کار اگر اس اشرافیہ کے قبضے میں رہی تو پھر بہتری کی توقع رکھنا محال ہے۔ حبیب حیدرآبادی نے صحیح کہا ہے کہ
انسان کی بلندی و پستی کو دیکھ کر
انساں کہاں کھڑا ہے ہمیں سوچنا پڑا
امریکی حکومت کے گرتے ہوئے معیار و کردار کو چند دن قبل کانگریس کی اس نشست میں بھی دیکھنے اور پرکھنے کا موقع ملا جس میں وزیر جنگ نے عوام کے منتخب نمائندوں کے ایران سے متعلق معقول سوالوں کے خاصے نامعقول جواب دیے۔ چونکہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اس لیے وزیر جنگ کی حالت دیدنی تھی کیونکہ جھوٹا شخص ہمیشہ گھبراہٹ کا شکار ہو جاتا ہے اور اپنے جھوٹ پر زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ یہاں غالب کا یہ شعر اس انسانی المیے کی مکمل شرح بن کر سامنے آتا ہے کہ
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here