واشنگٹن (پاکستان نیوز) واشنگٹن میں دہشت گردی کیخلاف طویل عرصے سے تاخیر کا شکار قومی حکمت عملی کے اعلان کے بعد، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اہم ترین شخصیات کو نشانہ بنانے والی ایک انتہائی سنسنی خیز اور پیچیدہ سازش نے ملکی سلامتی کے اداروں کو چونکا دیا ہے۔ گزشتہ ماہ اوہائیو میں مقامی پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ایک ایسے نیٹ ورک کا سراغ لگایا جو واشنگٹن میں صدر کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہونیوالے مارشل آرٹس کے ایک بڑے مقابلے کے دوران ڈرون اور ماہر نشانہ بازوں کی مدد سے حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ اس حملے کے اہداف میں نہ صرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ بلکہ نائب صدر جے ڈی وینس، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور معروف کاروباری شخصیت الون مسک بھی شامل تھے۔ حیرت انگیز طور پر اس سازش میں شامل افراد کے سیاسی اور نظریاتی خیالات امریکی انتظامیہ کی اس حالیہ حکمت عملی سے بالکل مطابقت نہیں رکھتے جس میں بنیادی طور پر بائیں بازو کے انتہا پسندوں کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا تھا۔دریں اثناء اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ ایسی خفیہ معلومات سانجھی کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کے لیے ایک نیا منصوبہ تیار کیا تھا۔ امریکی ذرائع ابلاغ نے وال سٹریٹ جرنل اور معاملے سے باخبر افراد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس نے ایک انتہائی مخصوص اور نئے خطرے کی نشاندہی کی ہے تاہم اس منصوبے کی حتمی تفصیلات کو تاحال عام نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس اداروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ابھی تک آزادانہ طور پر اس مبینہ خطرے کی تصدیق یا جانچ پڑتال نہیں کی ہے۔ اسرائیلی حکام نے یہ خفیہ معلومات حالیہ دنوں یا ہفتوں کے دوران واشنگٹن کے حوالے کی ہیں۔ امریکی حکام سنہ 2020 میں ایک امریکی فضائی کارروائی کے دوران ایرانی عسکری کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ کو لاحق مسلسل خطرات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران امریکی قیادت کو نشانہ بنانا چاہتا ہے اور وہ خود اس فہرست میں شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اب تک ان خطرات سے محفوظ رہے ہیں لیکن شاید یہ سلسلہ زیادہ دیر تک برقرار نہ رہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان فوجی تناؤ عروج پر ہے اور سفارتی بات چیت بھی مکمل طور پر تعطل کا شکار ہو چکی ہے۔ حراست میں لیے گئے ملزمان کی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ یہ گروہ کسی ایک مخصوص نظریے یا سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں تھا بلکہ ان کے نظریات میں دائیں اور بائیں دونوں بازو کی انتہا پسندی کے رنگ نمایاں تھے۔ مثال کے طور پر گرفتار ہونیوالے 19 سالہ نوجوان ٹائسن پروپر، جس نے واشنگٹن میں حملوں کے لیے مقامات کی نشاندہی کی تھی، فیس بک پر جرمن آمر ہٹلر کے حق میں بیانات دے چکا تھا، جبکہ اس سازش کے مبینہ سرغنہ 31 سالہ ابراہم ہرموسیلو الوریز کا تعلق بائیں بازو کے ماحولیاتی اور مقامی لوگوں کی زمینوں کی واپسی کے نظریات سے ظاہر ہوتا ہے۔ ایک اور ملزم 32 سالہ مائیکل ایلن تھامس کے بیانات ایک مشہور سازشی نظریے کی نئی شکل کو پیش کرتے ہیں، جس کے تحت وہ یہ مانتا ہے کہ امریکی حکومت کو ایک ایسا خفیہ طبقہ چلا رہا ہے جو بچوں کے استحصال میں ملوث ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب ان مجرموں کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ یہ تمام نظریات اور خیالات امریکی قومی سلامتی کی اس یادداشت کے دائرہ کار سے باہر ہیں جس میں صرف اینٹی فاشسٹ گروپوں کو روایتی امریکی خاندان اور مذہب کا دشمن قرار دے کر نشانہ بنانے کا حکم دیا گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سازش دائیں بازو کے اس روایتی امریکی انتہا پسندانہ نظریے کی طرف واپسی کی علامت ہے جو کئی دہائیوں سے حکومت مخالف تشدد پر یقین رکھتا ہے۔ اس نظریے کے تحت اب ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں کی حکومتوں کو ایک ہی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور انہیں بدعنوان قرار دیا جاتا ہے۔ اس گروہ کے ایک اور اہم رکن ڈینیئل ایسکریج کے پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ موجودہ امریکی آئینی نظام کو کارپوریٹ اور غیر ملکی قوتوں کے ہاتھوں یرغمال تصور کرتا تھا اور اس کا خیال تھا کہ یہ حملہ ایک دوسرے امریکی انقلاب کا پہلا معرکہ ثابت ہوگا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ ایسے اہداف کا انتخاب کریں جن سے یہ لڑائی دائیں اور بائیں بازو کی جنگ میں تبدیل نہ ہو، اسی لیے الون مسک کو نشانہ بنانے کی تجویز دی گئی تھی کیونکہ وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جن پر دونوں اطراف سے تنقید کی جاتی ہے۔ اس نیٹ ورک نے امریکی سینیٹرز مارشا بلیک برن، جم جسٹس، ٹام کاٹن اور دیگر نمائندگان کو بھی ان کی اسرائیل نواز پالیسیوں کی وجہ سے اپنے نشانے پر رکھا ہوا تھا۔ وفاقی تحقیقاتی اداروں کی جانب سے اس نیٹ ورک کے موبائل فونز اور دیگر آلات کی تلاشی کے بعد یہ تحقیقات تیزی سے پھیل رہی ہیں اور اب اس کے تار دیگر ریاستوں تک بھی پہنچ گئے ہیں۔ اس تفتیش کے دوران کئی ایسے نوجوانوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جو اگرچہ براہ راست اس سازش میں شریک نہیں تھے لیکن وہ انٹرنیٹ پر ملزمان کے ساتھ رابطے میں تھے۔ الیگزینڈر مرکاڈو نامی 20 سالہ نوجوان کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب اس نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنے فون سے سگنل ایپلی کیشن کو ختم کر دیا، جبکہ ایک اور ریاست میں 19 سالہ ٹریون میک ڈینیئل کو وفاقی عمارت کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی دھمکی کے الزام میں پکڑا گیا کیونکہ اس نے الوریز کے ساتھ ٹک ٹاک پر پیغامات کے تبادلے میں اشاروں کنایوں میں اہم تنصیبات پر حملوں کی بات کی تھی۔ تفتیش کے دوران ایک مسلح بائیں بازو کی خاتون ڈوبرمین کے گھر پر بھی چھاپہ مارا گیا جس کے بعد ان کا فون ضبط کر لیا گیا اور مبینہ طور پر انہیں مخبر بننے کی پیشکش کی گئی جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔ ان تمام کڑیوں کو جوڑنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ان نوجوانوں کے غصے کی بڑی وجوہات میں جیفری ایپسٹین کی فائلوں کا معاملہ، حکومتی بدعنوانی اور ڈیٹا سینٹرز کی وجہ سے مقامی پانی کی قلت جیسے انوکھے مسائل شامل ہیں۔ تحقیقات کاروں اور محققین کا ماننا ہے کہ اس کثیر الجہتی سازش کے بعد حکومت کو انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے اپنے مروجہ طریقوں پر نظرثانی کرنی ہو گی۔ اب صرف کسی ایک سیاسی یا سماجی نظریے کو بنیاد بنا کر خطرات کا جائزہ لینا کافی نہیں رہا، بلکہ انٹرنیٹ پر تیزی سے پھیلنے والے ذاتی اور مقامی نوعیت کے گلے شکووں کو بھی مانیٹر کرنا ہو گا جو بظاہر غیر متعلقہ دکھائی دینے والے لوگوں کو ایک خوفناک منصوبے پر اکٹھا کر دیتے ہیں۔ اس معاملے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ موجودہ دور میں انتہا پسندی کسی ایک نظریاتی سانچے میں بند نہیں ہے بلکہ یہ مختلف پس منظر کے حامل افراد کا ایسا اتحاد بن چکی ہے جو اپنے مشترکہ نظام مخالف غصے کے تحت خطرناک کارروائیوں کے لیے متحد ہو رہے ہیں۔ تفتیش کاروں کے مطابق آٹھ افراد کے خلاف دہشت گردوں کو مادی مدد فراہم کرنے اور اقدام قتل کی سازش کے تحت باقاعدہ فرد جرم عائد کر دی گئی ہے اور اب وفاقی ادارے اس پورے خفیہ نیٹ ورک کی جڑوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔










