واشنگٹن (پاکستان نیوز)تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری تصادم میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ سمیت شدید عالمی ردعمل کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر 20 فیصد ٹیکس وصول کرنے کا اپنا حالیہ فیصلہ واپس لے لیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ٹیکس کو امریکا میں خلیجی ممالک کی سرمایہ کاری کے معاہدوں سے تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرمایہ کاریاں ان ممالک کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوں گی۔ تاہم، انہوں نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے تصفیہ اب بھی ممکن ہے۔ دوسری جانب، ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے واضح کیا ہے کہ ایرانی افواج آبنائے ہرمز پر اپنے اصولی مؤقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گی۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ اہم تجارتی آبی گزرگاہ کسی جنگ، شرارت یا امریکی دباؤ کے ذریعے دوبارہ نہیں کھولی جا سکتی، بلکہ اس کا واحد حل ایرانی عوام کے حقوق کا احترام اور جائز مطالبات کی تسلیم کرنا ہے۔ اس سیاسی تناؤ کے بیچ، امریکا کی جانب سے ایران پر نئے حملے کیے گئے ہیں جن میں 3 افراد شہید ہو گئے۔ کشیدگی کو مزید بڑھاتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایرانی قیادت کو سخت دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے ان کے ملک پر حملہ کرنے کی جرات کی تو اسرائیل ان پر نہایت کاری اور تباہ کن ضرب لگائے گا۔ عالمی مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی یہ فوجی سرگرمیاں کسی بڑے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔










