نیویارک (پاکستان نیوز)آبنائے ہرمز کے حساس ترین بحری راستے کے قریب امریکی فوج کا ایک جدید اپاچی لڑاکا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری سرد جنگ ایک مرتبہ پھر شدید ترین فوجی تصادم میں تبدیل ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک ہنگامی پیغام میں ایران پر براہ راست اس کارروائی کا الزام عائد کیا اور اعلان کیا کہ واشنگٹن اس جارحیت کا بھرپور جواب دینے پر مجبور ہے۔ پینٹاگون کے حکام کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب امریکی ہیلی کاپٹر معمول کے گشتی مشن پر تھا اور وہ ایرانی فضائی حدود کے قریب ایک ایرانی ڈرون طیارے سے ٹکرا گیا۔ ہیلی کاپٹر میں موجود دونوں امریکی پائلٹ بروقت باہر نکلنے میں کامیاب رہے جنہیں بعد میں سمندری حدود سے بحفاظت نکال کر قریبی طبی مرکز منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ اس واقعے کے فوری بعد امریکی صدر کے احکامات پر امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے اندر مختلف دفاعی مقامات پر شدید فضائی حملے کیے۔ امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی کارروائی میں ایران کے میزائل نظام، ریڈار نیٹ ورک اور کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سدباب کیا جا سکے۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خلیج ہرمز میں غیر ملکی افواج کی موجودگی کو تمام تر حادثات کی اصل وجہ قرار دیا ہے اور کسی بھی مزید جارحیت کی صورت میں سخت ترین جواب دینے کی وارننگ دی ہے۔ اس تازہ ترین فوجی تصادم نے خطے میں دونوں ممالک کے درمیان جاری ممکنہ امن اور جوہری مذاکرات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔












