حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ قیمتی شخص کون ہے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص میں جتنا زیادہ احساس ہوگا اتنا ہی وہ قیمتی ہوگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان ہیرے جواہرات اور دولت سے قیمتی نہیں بنتا بلکہ انسان احساس کی دولت سے قیمتی ہوتا ہے، مگر افسوس کہ آج کے دور میں یہ قیمتی دولت نایاب ہو چکی ہے۔ بقول احمد فراز !
محبت ان دنوں کی بات ہے فراز
جب مکان کچے اور لوگ سچے تھے
یہ اس زمانے کی ایک یاد ہے جب محبت ہوا کی طرح ہر سو چلتی اور جسم و جاں کو راحت پہنچاتی تھی۔ اس دور میں اپنوں کے علاوہ بیگانوں سے بھی محبت و اپنائیت ہوا کرتی تھی اور لالچ کی وباء نہیں پھیلی تھی۔ تب فاسٹ فوڈ اور پیزا جیسی غذائی عادات سے پیدا ہونیوالی بیماریاں میلوں دکھائی نہیں دیتی تھیں۔ گاؤں دیہات میں چھوٹے بڑے تمام گھروں میں مٹی کا چولہا کھانا پکانے کے لیے استعمال میں آتا تھا، جس میں ایندھن کے طور پر گوہے، تھاپڑیاں (جو بھینس اور گائے کے گوبر سے تیار کی جاتیں)، بن چھٹی یعنی کپاس کے پودوں کی لکڑی اور سوکھی لکڑی استعمال کی جاتی تھی۔ بارش کے موسم میں ایندھن کا تمام تر سامان گیلا ہو جانے کی وجہ سے آگ جلانے میں کافی دشواری اور محنت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ گھر میں چولہے کی کمرہ نما جگہ کو رسوئی کا نام دیا جاتا تھا جو مٹی سے تیار کی جاتی تھی اور عید و تہوار کے موقع پر اس کی خاص طور پر لیپاپوتی کی جاتی تھی۔ اگرچہ گھر کی دیواریں کچی تھیں لیکن باہمی رشتے انتہائی پکے اور مضبوط تھے۔ اس مٹی کے چولہے پر بنا ہوا سالن، روٹی، چائے اور شکرگندی بڑی ذائقہ دار ہوا کرتی تھی اور دیر تک گرم رہتی تھی۔
روٹی پکانے کے لیے توے کا استعمال کیا جاتا تھا جس پر بڑے سائز کی روٹی تیار ہوتی تھی۔ اس کی تیاری میں چار خواتین ایک ساتھ شامل ہوتیں، جن میں سے ایک پیڑے بناتی، دوسری پیڑے کو بیلتی، تیسری توے پر ڈالتی اور چوتھی روٹیاں سیکتی تھی۔ بڑے گھرانوں یا زیادہ افراد پر مشتمل گھر میں یہ چولہا لازمی پایا جاتا تھا۔ آگ جلانے کے لیے اکثر و بیشتر محلے کے دیگر گھروں کے چولہے سے آگ لینے جایا جاتا تھا، جہاں لڑکیاں چمٹے کی مدد سے دو ایک ادھ جلی ہوئی تھاپڑی یا گوسا لا کر اپنے چولہے میں رکھتی تھیں۔ اس کے آس پاس مزید تھاپڑیاں رکھ کر درمیان میں کاغذ یا تھیلی وغیرہ کی مدد سے آگ سلگائی جاتی تھی اور ہوا دینے کے لیے لوہے کے تقریباً ڈیڑھ فٹ لمبے پائپ یعنی پھونکنی کا استعمال کیا جاتا تھا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب لوگوں میں باہمی بھائی چارہ بہت زیادہ تھا، پورا محلہ ایک گھر کی مانند ہوتا تھا اور محلے دار قبیلے کی طرح ہوا کرتے تھے۔ محلے کے غم مشترکہ اور خوشیاں سانجھی ہوا کرتی تھیں۔ جب محلے میں کسی کا انتقال ہو جاتا تو احترام اور ہمدردی میں تمام دکانیں اور کاروبار بند کر دیے جاتے اور محلے دار تمام کام کاج اور پریشانیاں نمٹانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ اسی طرح محلے کی شادی کو اپنی شادی سمجھی جاتی تھی اور کھانے پکانے سے لے کر مہمان نوازی کے تمام امور محلے اور پڑوس کے افراد خود انجام دیتے تھے۔ اس دور میں اپنے اور پرائے کی اصطلاح وجود میں نہیں آئی تھی اور تمام لوگ ایک دوسرے کو اپنا سمجھتے تھے، جو کہ یقیناً ایک دلکش اور سکون آور دور کی یادیں ہیں۔












