کس کس کی تباہی میں تیرا ہاتھ نہیں ہے !!!

0
5

دیوارِ برلن گرنے سے کچھ عرصہ پہلے ہی دنیا بھر کے عالمی نظام کو چلانے کی ذمہ داری امریکہ نے بزعم خویش سنبھال لی تھی۔ خیال یہ تھا کہ سویت یونین کے ساتھ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد، دنیا بھر میں امن و امان قائم ہو جائے گا اور نادار و غریب بھی بالآخر خوشحال ہو جائیں گے۔ افسوس صد افسوس کہ معاملہ اس کے برعکس ہوا اور یک قطبی عالمی نظام، اس دنیا کے باسیوں کیلئے پہلے سے بھی زیادہ خونخوار ثابت ہوا۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمارا نیا وطن، ریاست ہائے متحدہ امریکہ ہی ان تباہیوں اور بربادیوں کا سرغنہ بن گیا اور ظلم و جبر کا شکار ہونے والے زیادہ تر ممالک وہ تھے جہاں مسلمانوں کی اکثریت بستی ہے۔ تقریباً نصف صدی کے اس قصے کو احسان دانش نے اپنے اس شعر میں سمیٹنے کی اچھی کوشش کی ہے۔
کس کس کی زباں روکنے جاؤں تری خاطر
کس کس کی تباہی میں ترا ہاتھ نہیں ہے
افغانستان اور فلسطین سے شروع کرلیں اور ایران، عراق، لیبیا، لبنان، شام اور ہارن آف افریقہ سے ہوتے ہوئے یمن پہنچ جائیں، ہر جگہ آپ کو خونی پنجوں کے نشانوں کے پیچھے امریکہ کی مہر نظر آئے گی۔ اردن، مصر اور پاکستان جیسے ممالک، اپنی بے پناہ جی حضوری اور وفاداری کی وجہ سے براہِ راست امریکی خونریزی کا شکار نظر نہ بھی آتے ہوں لیکن پھر بھی امن کے گہوارے تو وہ بھی اب کبھی نہیں رہے۔ پیٹرو ڈالر اور تیل کی دولت پیش کرنے والے عرب خلیجی ممالک بھی اب بالآخر ظالمانہ عالمی نظام کی لائی ہوئی تباہیوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ عام لوگوں کے مالی وسائل، اسلحے کے غیر ضروری ذخائر پر ضائع ہوتے دیکھ کر بیحد تکلیف ہوتی ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ اسلحے کے یہ ذخائر اب اْن علاقوں کے رہنے والوں کی خاطر خواہ حفاظت بھی نہیں کر پا رہے۔ منیر نیازی نے یہ شعر پتہ نہیں کس سیاق و سباق میں کہے ہوں گے لیکن موجودہ حالات دیکھ کر مجھے یہ بہت یاد آ رہے ہیں۔
ہیں رواں اس راہ پر جس کی کوئی منزل نہ ہو
جستجو کرتے ہیں اس کی جو ہمیں حاصل نہ ہو
دشت نجد یاس میں دیوانگی ہو ہر طرف
ہر طرف محمل کا شک ہو پر کہیں محمل نہ ہو
آج کل امریکہ اور اس کی پروردہ صیہونی ریاست میں چونکہ عام انتخابات کا بہت چرچا ہے اور عوامی رائے عامہ کے غیض و غضب سے بچنے کیلئے، یہاں کے حکمرانوں نے براہِ راست بمباری میں وقفہ کیا ہوا ہے لیکن ان انتخابات کے فوراً بعد، یہ لوگ تباہی اور بربادی کے راستے پر دوبارہ گامزن ہو جائیں گے۔ غزہ، لبنان، ویسٹ بنک، یمن اور ایران کے رہنے والے اپنے بچاؤ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ کاش اْس خطے کے باقی ممالک کچھ ہوش کے ناخن لیتے اور اپنی باری آنے سے پہلے ہی ان ظالمانہ کارروائیوں کو روکنے کی کوشش کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے اور وہ ہمیشہ اپنی آزادی کیلئے جدوجہد کرتا رہے گا۔ اس جدوجہد کی کامیابی میں دیر تو ہو سکتی ہے اور ممکن ہے اگلی نسلوں تک معاملہ چلا جائے لیکن وہ دن تو آخرِ کار ضرور آئے گا جب آزادیوں کے متوالے جشن منا رہے ہوں گے۔ دیکھئے، منیر نیازی کی ایک معصوم خواہش!
چاہتا ہوں میں منیر اس عمر کے انجام پر
ایک ایسی زندگی جو اس طرح مشکل نہ ہو
اس دنیا کے عالمی نظام کے محافظ اور ظالم و جابر حکمران بھی یہ بات ضرور مدِ نظر رکھیں کہ اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ اس کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ غزہ کے معصوم بچوں پر آخر تم کتنا ظلم ڈھا لو گے؟ لبنان کے لوگوں پر کب تک اپنا جبر مسلط کرو گے؟ ویسٹ بنک میں کتنی ناجائز بستیاں بسا لو گے؟ عراق کا کتنا مزید تیل نکال لو گے؟ ایران میں کتنے رجیم تبدیل کر لو گے؟ صیہونی ریاست کو کتنے مزید عرصے تک بچا لو گے؟ آخر کب تک !!! کسی شاعر نے بڑی اچھی نصیحت آموز بات کی ہے، اس پر ہی کچھ عمل کر لیجیے۔
راج کرنا ہے تو سرکار، دلوں پر کیجیے
کوئی سر کاٹ کے سردار نہیں ہو سکتا
غزہ، لبنان، ایران اور یمن کے موجودہ حالات دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ وہاں کے مظلوم اور مجبور لوگ اب تنگ آمد بجنگ آمد پر اتر آئے ہیں۔ پوری دنیا جانتے بوجھتے ہوئے بھی ان پر ہونے والے ظلم کے سامنے کوئی بند باندھنے کیلئے تیار نہیں۔ غزہ کا بیس سالہ محاصرہ بھی صیہونی ریاست کو سکیورٹی فراہم نہیں کر سکا۔ حالات دو ہزار سات سے بھی زیادہ خراب ہیں۔ یمن پر امریکہ کی ایک دہائی کی بمباری بھی سعودی عرب کے تیل کو محفوظ نہیں بنا سکی۔ ایران پر چالیس سالہ عالمی پابندیاں اور سرد و گرم جنگیں، اس کی مقتدرہ کو کمزور نہیں کر سکیں۔ اب بہت بڑا سوال یہی ہے کہ عام انتخابات کے بعد، امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر آخر کون سا ایسا مہلک مجرمانہ و ظالمانہ اقدام کرے گا کہ اس کی ساری پرانی غلطیوں کا ازالہ ہو جائے گا اور سارے کمزور لوگ اس کی دہلیز پر سجدہ ریز ہونے کیلئے تیار ہو جائیں گے۔ ایسے میں حبیب جالب کے یہ اشعار دہرانے کو دل چاہ رہا ہے۔
صبح و شام فلسطیں میں خوں بہتا ہے
سایہ مرگ میں کب سے انساں رہتا ہے
بند کرو یہ باوردی غنڈہ گردی
بات یہ اب تو ایک زمانہ کہتا ہے
ظلم کے ہوتے امن کہاں ممکن یارو
اسے مٹا کر جگ میں امن بحال کرو
جینے کا حق سامراج نے چھین لیا
اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here