قرآنی تعلیمات اور ٹیکنالوجی کا استعمال!!!

0
4

قرآنِ مجید کی تعلیمات ہماری آن لائن زندگی میں بھی رہنمائی کرتی ہیں۔ ٹیکنالوجی کا مقصد صرف تفریح یا وقت گزاری نہیں، بلکہ علم حاصل کرنا، اچھائی پھیلانا اور انسانیت کی خدمت ہونا چاہیے۔ ہمیں بے مقصد اسکرولنگ سے شعوری اور مفید استعمال کی طرف بڑھنا ہے۔ وقت کی قدر اور درست استعمال کے حوالے سے اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے۔ اس لیے سوشل میڈیا کے لیے روزانہ مخصوص وقت مقرر کریں، نماز، تعلیم، تلاوتِ قرآن اور اہلِ خانہ کو ترجیح دیں اور بے مقصد ویڈیوز اور مسلسل اسکرولنگ سے بچیں۔ خبر اور معلومات کی تصدیق کے بارے میں ہدایت کی گئی ہے کہ پس تحقیق کر لیا کرو۔ اس حکم پر عمل کرتے ہوئے وائرل خبر، تصویر یا ویڈیو آگے بھیجنے سے پہلے اس کی صحت جانچیں، افواہوں، جھوٹے الزامات اور گمراہ کن معلومات سے بچیں، کیونکہ ہر وائرل خبر سچ نہیں ہوتی، اور ہر سچی خبر کو شیئر کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ ڈیجیٹل حیا اور اخلاقی حدود قائم رکھنا بھی ایمانی تقاضا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے کہ مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔ حیا کا تعلق نگاہ، گفتگو، کردار اور آن لائن رویوں سے بھی ہے۔ نامناسب مواد سے بچیں اور دوسروں کی تصاویر یا ذاتی معاملات بلا اجازت شیئر نہ کریں۔ اسی طرح آن لائن گفتگو میں حسنِ سلوک اختیار کرنا چاہیے اور لوگوں سے اچھی بات کہنی چاہیے۔
اختلافِ رائے میں بھی نرم، مہذب اور بااحترام زبان استعمال کریں، گالم گلوچ، ٹرولنگ، کردار کشی اور عوامی تضحیک سے اجتناب کریں، اور آن لائن بھی وہی اخلاق اپنائیں جو آمنے سامنے گفتگو میں ضروری ہیں۔ رازداری اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کے ضمن میں فرمایا گیا ہے کہ اور ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ لگو۔ اس کی روشنی میں اپنی اور اہلِ خانہ کی نجی معلومات محفوظ رکھیں، دوسروں کی گفتگو، تصاویر اور معلومات اجازت کے بغیر نشر نہ کریں، مضبوط پاس ورڈ اور دو مرحلوں والی تصدیق استعمال کریں اور مشکوک لنکس، جعلی اکاؤنٹس اور نامعلوم پیغامات سے محتاط رہیں۔ مسلسل نوٹیفکیشنز اور مختصر ویڈیوز توجہ، مطالعے اور نیند میں خلل ڈال سکتے ہیں۔ بچوں کے غیر متوازن اسکرین ٹائم سے زبان سیکھنے، جسمانی سرگرمی اور سماجی میل جول پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم سائنسی وضاحت یہ ہے کہ اسکرین ٹائم کو آٹزم کی ثابت شدہ وجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ بعض مطالعات میں تعلق پایا گیا ہے، لیکن سبب و نتیجے کا ثبوت الگ معاملہ ہے۔ بچوں کے لیے کھیل، گفتگو، مطالعے اور حقیقی سماجی سرگرمیوں کا وقت یقینی بنائیں۔
سوشل میڈیا پر لوگوں کی زندگی کے منتخب خوشگوار مناظر دیکھ کر اپنی زندگی سے غیر ضروری موازنہ پیدا ہو سکتا ہے، جس سے بے اطمینانی، حسد اور پریشانی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ لہذا سوشل میڈیا کی ظاہری چمک کو حقیقی کامیابی کا مکمل معیار نہ سمجھیں، دوسروں کی کامیابی پر خوش ہوں، اپنی نعمتوں پر شکر کریں اور قناعت، اعتدال اور حقیقی رشتوں پر توجہ دیں۔ جدید دور میں مصنوعی ذہانت تعلیم اور تحقیق میں مددگار ہے، لیکن جعلی آوازیں، ڈیپ فیک ویڈیوز، فرضی شناختیں اور بلیک میلنگ جیسے خطرات بھی موجود ہیں۔ مشکوک ویڈیو یا آڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق کریں، حساس معلومات اور ذاتی تصاویر غیر ضروری طور پر شیئر نہ کریں اور ٹیکنالوجی کو تحقیق، تدریس اور مثبت کاموں میں استعمال کریں۔ ہر ہفتے چند منٹ نکال کر اپنا ڈیجیٹل محاسبہ کریں اور وقت کا حساب لیں کہ کتنا وقت گزارا اور کیا حاصل کیا۔ کردار کا حساب کریں کہ کیا میری پوسٹ یا تبصرے سے کسی کی دل آزاری ہوئی، ترجیحات کا حساب کریں کہ کیا موبائل نے نماز، تعلیم یا خاندان کا وقت لیا، اور فائدے کا حساب کریں کہ کیا علم پھیلایا یا کسی کی مدد کی۔ موبائل کھولنے سے پہلے خود سے پوچھیں کہ میں اسے کس مقصد کے لیے استعمال کر رہا ہوں۔ نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کے قرآنی حکم کے مطابق قرآنِ مجید کی درست تعلیمات اور مستند علم کو عام کریں، تعلیم، اصلاح اور مثبت سماجی رویوں کو فروغ دیں، ضرورت مندوں کی مدد، دعوت اور خدمتِ خلق کے مواقع پیدا کریں اور مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو مفید تحقیق اور سیکھنے کے لیے اپنائیں۔ حقیقی رشتوں کو ترجیح دیتے ہوئے اہلِ خانہ کے ساتھ گفتگو، محبت اور توجہ کے لیے موبائل سے الگ وقت رکھیں۔ آن لائن فالوورز کی تعداد حقیقی قربت کا بدل نہیں ہے۔ والدین، بچوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ کھانے اور گھریلو ملاقاتوں میں فون کے استعمال کو محدود کریں، بچوں کے سامنے اپنے رویے سے متوازن استعمال کی مثال قائم کریں اور گھر کے افراد کی بات توجہ سے سن کر براہِ راست تعلق مضبوط کریں۔ چند اہم باتوں کو اپنے عمل میں محفوظ کر لیں، یعنی وقت کی حفاظت کریں اور موبائل کو ذمہ داریوں پر حاوی نہ ہونے دیں، سچائی اور تحقیق و تصدیق سے پہلے خبر آگے نہ بڑھائیں، حیا اور اخلاق کو آن لائن رویوں میں بھی اسلامی اقدار کے ساتھ اپنائیں، احترام اور رازداری کے ساتھ دوسروں کی عزت اور نجی زندگی محفوظ رکھیں، اور مثبت استعمال سے ٹیکنالوجی کو علم، دعوت، تعلیم اور معاشرتی بھلائی کے لیے استعمال کریں۔ موبائل انسان کے ہاتھ میں ہونا چاہیے، انسان کی زندگی کا اختیار موبائل کے ہاتھ میں نہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here