مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور جغرافیائی صورتِ حال ایک بار پھر شدید اضطراب اور تاریخی تبدیلیوں کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ تازہ ترین حالات اور بین الاقوامی منظر نامے سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اور اس کے حریفوں کے درمیان کشیدگی محض روایتی عسکری محاذ آرائی تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ تنازع عالمی توانائی، اقتصادی گزر گاہوں اور تجارتی راستوں کی تسخیر کی جدوجہد میں بدل چکا ہے۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے ارد گرد رونما ہونے والے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں دہائیوں سے قائم عسکری و معاشی توازن کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔سب سے اہم اور گہرا پہلو یہ ہے کہ تہران اپنی حکمتِ عملی میں ایک نہایت بنیادی اور دور رس تبدیلی لا رہا ہے۔ ماضی میں جب بھی تنازعات شدت اختیار کرتے تھے تو اس گزرگاہ کو مکمل طور پر بند کرنے کی دھمکیاں سامنے آتی تھیں، تاہم اب پالیسی ساز ادارے اسے صرف بند کرنے کے بجائے اس کے نظم و نسق اور کنٹرول کو اپنے ہاتھ میں لینے کا نظام وضع کر رہے ہیں۔ تہران کا مقصد یہ ہے کہ یہاں سے گزرنے والی تجارتی و باری جہاز رانی کو اپنی نگرانی اور شرائط کے تحت لایا جائے۔ اگر یہ عملی حکمتِ عملی مکمل طور پر نافذ ہو جاتی ہے تو سوال یہ نہیں رہے گا کہ آبنائے کھلی ہے یا بند، بلکہ اصل سوال یہ ہو گا کہ اس اہم ترین عالمی گزرگاہ سے گزرنے کے قواعد و ضوابط کون طے کرتا ہے۔ اگر ان قواعد کی تدوین کا اختیار تہران کے پاس منتقل ہو جاتا ہے تو یہ خلیج میں طاقت کے توازن کی سب سے بڑی تبدیلی تصور کی جائے گی۔اس نئی بحری و دفاعی سوچ کو تقویت دینے کے لیے تہران اپنے عسکری و تکنیکی وسائل کو بھی وسعت دے رہا ہے۔ جدید ہتھیاروں کی تیاری اور ایسے وسائل کے تجربات کیے جا رہے ہیں جو خلیجی پانیوں میں موجود بڑی غیر ملکی بحری طاقتوں اور جنگی جہازوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد ایک ایسا عسکری جوابی توازن پیدا کرنا ہے جس کے نتیجے میں حریف طاقتوں کو کسی بھی فوجی کارروائی سے پہلے انتہائی بھاری قیمت چکانے کا احساس دلایا جا سکے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اگر حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کا وقت انتہائی مختصر ہو جائے تو کسی بھی بیرونی بحری طاقت کے لیے ساحلی حدود کے قریب کارروائی کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔اس کشیدگی کے معاشی اور تجارتی اثرات خلیجی تعاون کونسل کے ممالک پر خاص طور پر انتہائی نمایاں ہو رہے ہیں۔ خطے کی بیشتر معیشتوں کا انحصار ایندھن کی برآمدات اور خوراک کی درامدات پر ہے۔ شماریاتی اعداد و شمار اور عالمی معاشی تجزیوں سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ خلیجی ممالک میں استعمال ہونیوالی بنیادی خوراک کا غالب حصہ سمندری راستوں سے درامد کیا جاتا ہے۔ اگر اس آبنائے پر مانیٹرنگ اور پابندیاں سخت ہو جاتی ہیں تو نہ صرف ایندھن کی برآمدات شدید متاثر ہوں گی بلکہ ان ممالک کے لیے غذائی تحفظ کے لیے بھی نئے اور بے مثال بحران پیدا ہو جائیں گے۔ معاشی کساد بازاری، زر مبادلہ کی کمی اور پیداواری لاگت میں اضافہ خطے کے مالیاتی استحکام کو دباؤ میں لا رہا ہے۔دوسری جانب، تہران پر عائد معاشی پابندیاں اور اقتصادی دباؤ کی پالیسیاں بھی اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔ اس ناکامی کی سب سے بڑی وجہ تہران کا وہ نظام ہے جسے وہ مزاحمتی معیشت کا نام دیتا ہے۔ چار دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط پابندیوں نے اسے یہ سکھا دیا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی دباؤ کو کس طرح بائی پاس کیا جائے۔ غیر ملکی زرِ مبادلہ پر انحصار ختم کر کے مقامی کرنسیوں، سونے اور متبادل ذرائع کا استعمال، نیز خاموش تجارتی اور سمندری راستوں کے ذریعے ایندھن کی فروخت جاری رکھنا اس حکمتِ عملی کے اہم اجزاء ہیں۔اس تمام منظر نامے میں عالمی طاقتوں کا کردار اور ان کی جیو پولیٹیکل ترجیحات انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ ایک طرف تہران کو ماسکو سے جیو اسٹریٹجک اور تکنیکی تعاون حاصل ہو رہا ہے جس سے اس کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے، تو دوسری طرف بیجنگ اس کا سب سے بڑا معاشی خریدار اور حامی بن کر سامنے آیا ہے۔ چین کے لیے تہران سے ارزاں ایندھن کا حصول معاشی ضرورت بھی ہے اور اس تنازع میں مغربی طاقتوں کی توجہ ایشیا پیسیفک خطے سے ہٹانے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ تہران کی جغرافیائی وسعت اور اس کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ زمینی رابطے بھی اس کے لیے ایک مضبوط پناہ گاہ فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے مکمل معاشی حصار قائم کرنا عملہ ناممکن ہو چکا ہے۔مجموعی طور پر، خلیج اور آبنائے ہرمز کے ارد گرد پیدا ہونے والا یہ نیا بحران اس بات کا ثبوت ہے کہ محض یکطرفہ پابندیوں یا بحری موجودگی سے تہران کو تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی معیشت، ایندھن کی سپلائی چین اور بین الاقوامی بازاروں پر اس کشیدگی کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ آنیوالے دنوں میں اگر سفارتی راستے اختیار نہ کیے گئے تو یہ بحران صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی کساد بازاری اور تجارتی انحطاط کا باعث بنے گا، جس میں بالآخر طاقت کے نئے مراکزی توازن کو تسلیم کرنا ہی تمام فریقین کی مجبوری بن جائے گا۔(تحریر : مجیب ایس لودھی)
٭٭٭










