ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے !!!

0
3

کل جب ہم اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ یعنی اسنا کے تریسٹھویں سالانہ کنونشن میں شرکت کیلئے مشہورِ زمانہ شہر موٹر سٹی یعنی ڈیٹرائیٹ کے ہوائی اڈے پر اترے تو اندازہ ہوا کہ ہمارا استقبال ایک ایسے مہربان کرم فرما کی زیرِ نگرانی ہو رہا ہے جو مقامی پولیس ڈیپارٹمنٹ کی باوقار وردی میں ملبوس ہیں۔ اویس عالم جو امریکہ میں رہتے ہوئے بھی ہمیشہ زندہ دلانِ لاہور کی نمائندگی کرتا ہوا دکھائی دیتا تھا، اچانک ہمارا پروٹوکول افسر بنا ہوا پایا گیا تو پہلے تو بالکل یقین ہی نہیں آیا۔ بہر حال مختصر گفتگو کے بعد ہی ہمیں پتہ چل گیا کہ آتش کے اس شعر کو آدھا تو صحیح سمجھنا ہی پڑے گا۔ آدھا اس لئے کہ اویس عالم تو خوشیوں بلکہ قہقہوں کا ایک متلاطم سمندر ہے اور اسے بھلا غم و غصے سے کیا لینا دینا۔
غم و غصہ و رنج و اندوہ و حرماں
ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے
ہوائی اڈے سے کنونشن سنٹر جاتے ہوئے سفر کے دوران اویس عالم نے مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ موٹر سٹی یعنی ڈیٹرائیٹ شہر کی بحالی کا کام بڑی تیزی سے جاری ہے۔ تقریباً سو سال قبل یہی شہرِ ڈیٹرائیٹ امریکہ کی پچھتر فیصد موٹر کاریں بناتا تھا اور تینوں بڑی موٹر کمپنیوں فورڈ، جنرل موٹرز اور کرائسلر کا طوطی چار دانگ عالم میں بولتا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ اس صنعت میں ایسی بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئیں کہ حالات بالکل ہی بدل گئے اور آخرکار ان تینوں کمپنیوں کے سربراہ امریکی حکومت سے مالی مدد لینے وائٹ ہاؤس جا پہنچے۔ پریم رنگ پوری نے خوب کہا تھا کہ!
بہاریں بھی آئیں خزائیں بھی آئیں
بدلتے ہیں رنگ جہاں کیسے کیسے
اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ کا یہ سالانہ کنونشن، اسی اور نوے کی دہائیوں میں امریکی مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع ہوا کرتا تھا۔ 1986ء میں جب میں نے اس میں پہلی مرتبہ شرکت کی تھی تو اس وقت بھی شرکاء کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ لیکن آہستہ آہستہ امریکہ کی مسلم برادری میں بڑی بنیادی تبدیلیاں آتی چلی گئیں اور اسنا کی قیادت اس تنظیم کو نئی ضرورتوں سے ہم آہنگ نہ کر سکی۔ یہ تریسٹھواں سالانہ کنونشن حاضری کے لحاظ سے کافی کمزور رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ امریکہ کی گرتی ہوئی معیشت بھی ہو سکتی ہے لیکن تنظیمی کمزوری کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں آتش کا یہ شعر یاد آ رہا ہے کہ!
زمینِ چَمَن گل کھلاتی ہے کیا کیا
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
موٹر سٹی کا یہ علاقہ آجکل سیاسی لحاظ سے بہت سرگرم ہے۔ عبدل السید امریکی سینیٹ کے لئے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار ہیں اور پورے امریکہ کی مسلم برادری بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ وہ ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے امریکی سینیٹ میں پہلے مسلمان کو منتخب کروا سکیں۔ عبدل السید نے آج اسنا کنونشن سے بھی خطاب کیا۔ مختلف تنظیموں کے رابطکاری اجلاسوں کے دوران بھی زیادہ تر ذکر اسی سینیٹ کے انتخاب کا رہا۔ اس دوران عبدل السید کی انتخابی مہم کی انتظامی کمیٹی کے کئی اراکین سے بھی ملاقاتیں رہیں اور وہ سب کے سب اپنی ممکنہ فتح کے لئے کافی پرامید نظر آئے۔ ایسے میں آتش کا یہ شعر بھی حسبِ حال لگتا ہے کہ
توجہ نے تیری ہمارے مسیحا
توانا کیے ناتواں کیسے کیسے
آج اللہ تعالیٰ کے حضور تین دعائیں ہیں: اول یہ کہ موٹر سٹی کی معیشت کو دوبارہ سے بہتر کر دے تاکہ ہمارا پورا ملک اس سے مستفید ہو سکے۔ دوم یہ کہ اسنا کے دن بھی بدلیں تاکہ مسلمانوں کی یہ اہم تنظیم اپنا پرانا اثر و رسوخ دوبارہ حاصل کر سکے۔ سوم یہ کہ عبدل السید اپنے انتخاب میں فتح یاب ہوں تاکہ مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی زیادہ بہتر انداز سے ہو سکے۔ آمین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here