پاکستان کے جمہوری نظام میں اتحاد یا اتحادی حکومت اب کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں رہا بلکہ بظاہر جمہوری سیاست کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ سیاسی جماعتیں جن کے درمیان کبھی زمین آسمان کا فرق دکھائی دیتا تھا، آج اقتدار کے ایک ہی پلیٹ فارم پر کھڑی نظر آتی ہیں۔ کل کے سیاسی حریف آج کے اتحادی ہیں، اور جن رہنماؤں کی سیاست ایک دوسرے کو ناکام ثابت کرنے کے گرد گھومتی تھی، وہی آج ایک دوسرے کے شانہ بشانہ چلتے دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مثال سب کے سامنے ہے۔ ایک زمانے میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی شدید سیاسی مخالف تھیں، جہاں ایک دوسرے پر الزامات لگانا، حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنانا اور سیاسی میدان میں ایک دوسرے کو شکست دینا ان کی سیاست کا نمایاں حصہ تھا۔ لیکن وقت نے حالات ایسے بدلے کہ آج دونوں جماعتیں ایک ہی حکومتی بندوبست کا حصہ ہیں کیونکہ سیاسی ضرورت نے ماضی کی تلخیوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔
اسی طرح پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ ق اور دیگر کئی سیاسی رہنما بھی ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے رہے ہیں۔ ایک دوسرے کی سیاست، کردار اور قیادت پر سوال اٹھانے والے بہت سے چہرے آج ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ ایسے میں اصل سوال یہ نہیں کہ سیاسی اتحاد کیوں بنتا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ اگر نظریات اور اصول ہی مسلسل بدلتے رہیں تو پھر ووٹر کس بنیاد پر کسی جماعت کو اپنا نمائندہ منتخب کرے؟
جمہوریت میں سیاسی اتحاد کوئی بری چیز نہیں ہے اور دنیا کے کئی جمہوری ممالک میں مختلف جماعتیں اپنے مشترکہ منشور اور قومی مفاد کے تحت حکومتیں تشکیل دیتی ہیں۔ تاہم مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اتحاد اصولوں، منشور اور عوامی مفاد کے بجائے صرف اقتدار کے حصول کا ذریعہ بن جائے۔ اگر کل تک جس جماعت کو ملک کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا تھا، آج اسی کے ساتھ اقتدار میں بیٹھنا سیاسی حکمت عملی کہلاتا ہے، تو پھر عام ووٹر کے لیے نظریاتی سیاست کی اہمیت ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں فوجی مداخلت بھی ایک تلخ حقیقت رہی ہے۔ مختلف ادوار میں فوجی حکمرانوں نے براہِ راست اقتدار سنبھالا اور سیاسی نظام کو اپنی مرضی کے مطابق تشکیل دینے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں سیاسی جماعتوں کی ساخت، قیادت اور باہمی تعلقات بھی شدید متاثر ہوئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ براہِ راست مارشل لا کے بجائے سیاسی انجینئرنگ کی بحث زیادہ نمایاں ہوتی گئی۔
یہ تاثر بھی پاکستانی سیاست میں بارہا زیر بحث رہا ہے کہ طاقتور حلقے سیاسی اتحاد بنانے، حکومتیں تشکیل دینے اور حکومتیں تبدیل کرنے میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اگر یہ تاثر درست ہے تو یہ جمہوری نظام کے لیے ایک نہایت سنجیدہ سوال ہے، کیونکہ جمہوریت میں حکومت بنانے اور گرانے کا حتمی اختیار کسی غیر منتخب طاقت کے پاس نہیں بلکہ عوام کے ووٹ اور آئینی اداروں کے پاس ہونا چاہیے۔
بدقسمتی سے ہماری سیاسی جماعتیں بھی اس صورتحال سے مکمل طور پر بری الذمہ نہیں ہیں۔ جب اقتدار کے لیے اصولوں پر سمجھوتہ کیا جائے، نظریات کو وقتی مصلحت کے تابع کر دیا جائے اور سیاسی مخالف کو آج کا دشمن اور کل کا بہترین اتحادی بنا دیا جائے تو پھر سیاست میں نظریاتی وابستگی کا کمزور ہونا ایک فطری امر ہے۔
آج پاکستان کے عام شہری کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آخر وہ کس سیاست پر اعتماد کرے؟ اگر جماعتیں اپنے منشور سے زیادہ اقتدار کے ریاضی کو اہمیت دیں گی تو سیاسی بے یقینی کبھی ختم نہیں ہوگی۔ اس لیے عوام کو ایسی سیاست درکار ہے جس میں سیاسی اختلاف دشمنی میں نہ بدلے، اتحاد محض اصولوں کی بنیاد پر ہو اور اقتدار صرف عوام کے ووٹ سے آئے۔
پاکستان کو ایسی جمہوریت کی اشد ضرورت ہے جہاں حکومتیں سیاسی جوڑ توڑ یا طاقتور حلقوں کی مرضی سے نہیں بلکہ عوام کے حقیقی مینڈیٹ سے بنیں اور اپنی آئینی مدت پوری کریں۔ جب تک سیاسی جماعتیں اپنے نظریات، منشور اور عوامی وعدوں کو اقتدار سے زیادہ اہمیت نہیں دیں گی، اتحادی سیاست کا یہ مبہم چکر یوں ہی جاری رہے گا اور نظریاتی سیاست کا زوال مزید گہرا ہوتا جائے گا۔











