حجاب کی آڑ میں کیتھی ہوشل کیخلاف نفرت اور اسلام فوبیا پر مبنی سیاست

0
3

حجاب کی آڑ میں کیتھی ہوشل کیخلاف نفرت اور اسلام فوبیا پر مبنی سیاست

جدید جمہوریت اور مہذب دنیا کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ ہر شہری کو اپنے عقیدے اور مذہبی اقدار کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی حاصل ہو۔ نیویارک جیسی کثیر الثقافتی اور تنوع سے بھرپور ریاست میں گورنر کیتھی ہوچول نے ایک مقامی مسجد کے دورے کے دوران اسلامی روایات کا احترام کرتے ہوئے اپنے سر کو ڈھانپ کر جس اعلیٰ ترین اخلاقی اور آئینی فریضے کی پاسداری کی وہ دراصل تمام مذہبی اقدار کے لیے ان کے دل میں موجود بے پناہ احترام کی عکاسی کرتا ہے۔ کسی بھی عوامی عہدیدار یا سیاسی قائد کا کام صرف پالیسیاں بنانا ہی نہیں ہوتا بلکہ اپنے معاشرے میں بسنے والی تمام اقلیتوں کو تحفظ، یکجہتی اور تعظیم کا احساس دلانا بھی ان کی اولین ذمہ داری ہے۔ گورنر ہوچول نے اسلامی ثقافتی مرکز اور مسجد میں تشریف آوری کے موقع پر مذہبی آداب کو ملحوظ خاطر رکھ کر نیویارک کے تمام شہریوں کے لیے ایک مثبت اور تعمیری مثال قائم کی۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ اقتدار کا اصل مقصد مختلف عقائد کے حامل افراد کے درمیان باہمی اعتماد، بھائی چارے اور باہمی احترام کے پل تعمیر کرنا ہے۔ تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ جہاں اس اعلیٰ ظرفی کی تعریف کی جانی چاہیے تھی وہاں نساؤ کاؤنٹی کے سیاسی رہنماؤں نے اس خالصتاً احترام اور رواداری پر مبنی عمل کو اپنے سیاسی مفادات کی تسکین کے لیے نفرت اور تقسیم کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی۔
سیاستدانوں کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے گورنر کیتھی ہوچول کے اس تعظیمی عمل کو تنقید کا نشانہ بنانا اور اسے سیاسی موقع پرستی کا نام دینا ان کی تنگ نظری اور اسلام فوبیا پر مبنی سوچ کا کھلم کھلا ثبوت ہے۔ جب ایک عوامی رہنما مذہبی رواداری کی اس خوبصورت اقدام کو سیاسی رنگ دینے کی سستی کوشش کرتا ہے تو وہ نہ صرف ایک فرد یا گورنر پر حملہ کر رہا ہوتا ہے بلکہ پوری مسلم برادری کی عزت نفس اور ان کی مذہبی علامات کا مذاق اڑا رہا ہوتا ہے۔ اسلام فوبیا کا یہ بدنما روپ جمہوریت کے بنیادی جذبے کے خلاف ہے۔ چند سیاست دان انتخابات کے دنوں میں ووٹوں کی صف بندی اور انتہا پسند عناصر کو خوش کرنے کے لیے اقلیتوں اور بالخصوص مسلم برادری کو نشانہ بنانے کے خبط میں مبتلا ہیں۔ کسی بھی عبادت گاہ کی حرمت اور وہاں کے مذہبی قواعد و ضوابط کا خیال رکھنا محض ایک سیاسی چہرے کی ضرورت نہیں بلکہ ایک مہذب انسان کی بنیادی عادت ہوتی ہے۔ اس بات کو درکنار کرتے ہوئے اسلامی حجاب کو محض ایک ڈھونگ یا سیاسی ڈرامہ قرار دینا ان تمام مسلم خواتین کی تذلیل کے مترادف ہے جو روزمرہ زندگی میں عزت اور وقار کے ساتھ حجاب پہنتی ہیں۔
سیاسی مفادات کی خاطر اسلام فوبیا کی آگ کو ہوا دینا انتہائی خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ جب بھی دنیا میں اقلیتوں کو خوف زدہ کرنے یا ان کی مذہبی شناخت کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی ہے تو اس کا اثر ہمیشہ معاشرتی بگاڑ اور نفرت کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ نساؤ کاؤنٹی کے نمائندے کو یہ سمجھنا چاہیے کہ نیویارک ریاست کی خوبصورتی اور اس کی طاقت اس کے اندر رہنے والے تمام مذہبی اور ثقافتی گروہوں کے باہمی اتحاد میں پوشیدہ ہے۔ سستی شہرت حاصل کرنے کی دھن میں مسلم برادری کے جذبات سے کھیلنا اور ان کے مذہبی احساسات کو ٹھیس پہنچانا ایک ناقابل معافی سیاسی جرم ہے۔ اسلامی ثقافت اور اقدار کو خوف یا نفرت کے چشمے سے دیکھنا دراصل ان کے اپنے ذہنی جمود کا عکاس ہے۔ ایسے سیاسی رہنماؤں کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ عوامی منصب پر بیٹھ کر تعصب اور نفرت کا بیج بونا معاشرے کو تقسیم تو کر سکتا ہے لیکن یہ کبھی بھی ایک باوقار قیادت کی نشانی نہیں ہو سکتا۔ ان کے اس رویے پر نیویارک کے مسلم رہنماؤں اور انسانی حقوق کی فعال تنظیموں کی طرف سے شدید غم و غصے کا اظہار بالکل بجا اور فطری ہے کیونکہ ایسی زہریلی سوچ کو ابتدائی سطح پر روکنا ہی آئندہ نسلوں کو نفرت سے بچانے کا واحد طریقہ ہے۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہی رہنما ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں جو خوف اور تعصب کے خلاف کھڑے ہو کر اپنے تمام شہریوں کے ساتھ برابری کا سلوک کرتے ہیں۔ گورنر کیتھی ہوچول نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ کسی کے زہریلے بیانیے کے سامنے جھکنے والی نہیں ہیں اور اپنے ہر شہری کی مذہبی شناخت کا تحفظ ان کی ترجیحات میں شامل رہے گا۔ جب ایک گورنر کسی بھی عبادت گاہ میں داخل ہوتے وقت وہاں کے ادب اور احترام کا خیال رکھتی ہیں تو یہ ان کی شرافت، پختگی اور تمام مذاہب کے لیے کھلے دل کا ثبوت ہے۔ مخالفین کا اس پر واویلا مچانا اور اسلام کے خلاف اپنے تعصب کا اظہار کرنا ان کی اپنی سیاسی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔سیاست دانوں کو اپنے اس تنگ نظر بیانیے پر شرمندگی محسوس کرنی چاہیے اور ان تمام لوگوں سے معافی مانگنی چاہیے جن کے مذہبی جذبات کو ان کے ناپاک اور گھناؤنے بیانات سے ٹھیس پہنچی ہے۔ نیویارک کے باشعور عوام کو بھی ایسے تمام تفرقہ انگیز عناصر کو مسترد کرنا ہوگا جو باہمی محبت، رواداری اور بھائی چارے کے ماحول کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کسی بھی مذہبی برادری کو محض اپنے عقیدے یا علامات کی بنیاد پر سیاسی نشانہ نہ بنایا جائے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here