مجھے مکہ شریف آئے دو دن ہو چکے تھے جب طواف کے دوران حجر اسود کے قریب سے گزرتا تو لوگوں کے ہجوم کو حجر اسود کے گرد دیکھ کر حیران ہو جاتا۔ خانہ کعبہ کو چھونا تو چاہتا تھا لیکن احرام کی حالت کی وجہ سے چھو اور چوم نہ سکا۔ ایک دن میں نے ایک ساتھی سے پوچھا کہ کیا حجر اسود کو چومنا اتنا ہی مشکل ہے یا حج کی وجہ سے زیادہ رش ہے تو وہ بولا کہ عمرہ میں بھی اتنا ہی رش ہوتا ہے لیکن حجر اسود کا بوسہ قسمت والوں کو ملتا ہے۔ انسان سے مدد نہ مانگے اور کسی کو دھکا نہ دے تو وہ رب خود راستہ بنا دیتا ہے۔ تیسرے دن جب وہ ساتھی عمرے کے لیے جانے لگا تو میں نے کہا کہ دو کینسر کے مریض بچوں کی دعا کے لیے آج میں مطاف میں جا رہا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ آج حجر اسود کا بوسہ دلوائیں گے۔ وہ دوست سمجھانے لگا کہ رش بہت ہے دیکھ لو تو میں نے جواب دیا کہ جو رب وہی سب۔ اس کے بعد میں مطاف میں ایک جگہ بیٹھ گیا۔ اس دن خانہ کعبہ کو بہت چوما، میں 20 سیکنڈ چومتا اور ہٹ جاتا کیونکہ دوسرے بھی لوگ موجود تھے جن کے دل کی خواہش کعبہ کو چومنا تھا اور میں بزرگ افراد کو سہارا دے دیتا کہ وہ بھی چوم لیں اور وہ دعا کر دیتے تھے۔ جب میں رکن یمانی کے سامنے پہنچا تو شرطے نے مجھے ظہر کی نماز کے لیے صف بنانے کو کہا۔ میں جب بیٹھا تو صف کی دوسری لائن میں تھا اور حجر اسود سے صرف 10 میٹر کی دوری پر تھا۔ میرے پیچھے کچھ پٹھان بیٹھے تھے جن میں سے ایک نے پوچھا کہ تم جو کچھ لکھتے ہو وہ ہوتا بھی ہے، جس پر میں نے جواب دیا کہ آج دیکھ لینا کہ میں حجر اسود سے کتنا دور بیٹھا ہوں لیکن اگر اللہ نے چاہا تو ہونٹوں سے بوسہ لوں گا۔ یہ بات سن کر اس کے ساتھ والے نے بھی بوسہ کروانے کی درخواست کی، تاہم جب اس نے طنزاً ہنس دیا تو میں خاموش ہو گیا۔
رب کعبہ کی قسم، میرے آگے ایک شخص بیٹھا تھا جسے اتنی شدید گرمی لگی کہ وہ وہاں سے اٹھ گیا اور میں اس کی جگہ پر بیٹھ گیا۔ میں نے مڑ کر ان سے کہا کہ اگر یقین ہو تو راستہ خود بن جاتا ہے۔ اب میں رکن یمانی کے بالکل سامنے اس جگہ موجود تھا جہاں 70 ہزار فرشتے دعا مانگنے والے کے لیے آمین کہتے ہیں۔ میں نے نماز ظہر پڑھی اور جیسے ہی سلام پھیرا، شرطہ اپنی جگہ سے ہٹ گیا اور تمام لوگ کعبہ کی طرف بھاگے۔ میں حجر اسود کی طرف بڑھا تو آگے ایک بھارتی پہلوان تھا جس نے کہا کہ اگر میں پہنچ گیا تو آپ کو راستہ دوں گا اور اگر آپ پہنچ گئے تو مجھے راستہ دینا۔ پھر وہی ہوا کہ اس شخص نے حجر اسود کو چومنے کے بعد مجھے راستہ دے دیا۔ اس دن میں نے سکون سے 25 سے 30 سیکنڈ حجر اسود کو چوما اور شدید رش کے باعث لائن سے باہر بہت مشکل سے نکلا۔اس موقع پر میں بے حد خوش تھا اور جذبات کو بیان کرنے کے لیے الفاظ کم پڑ رہے تھے۔ وہاں ایک بنگالی حافظ قرآن نے ماتھا چوم کر خوش قسمت کہا۔ وہی پٹھان بھائی جس نے پہلے شک ظاہر کیا تھا، بعد میں ملنے پر کہنے لگا کہ آپ پر خاص کرم ہے کیونکہ وہ پاس جا کر بھی چوم نہ سکا، جبکہ اس کے ساتھی نے بتایا کہ وہ بھی بوسہ دینے میں کامیاب رہا۔ اس سفر کے دوران چار دفعہ حجر اسود کو ہونٹوں سے چوما اور پانچویں دفعہ اپنے ہاتھ سے بوسہ لیا۔ اس دن ایک عورت جو میرے پیچھے تھی، وہ بے ہوش ہو گئی تھی جس کو رش سے نکالتے ہوئے میں نے بوسہ چھوڑ دیا تھا۔ سچ کہتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ معجزوں کے شہر ہیں۔










