امریکہ میں تعطیلات کا سب سے بڑا ہفتہ وار تعطل اس ہفتے ختم ہو گیا۔ گیس کی قیمت 4.29 ڈالر ہی رہی اور ہائی ویز پر گاڑیوں کا ہجوم دیکھنے کو ملا جس سے محسوس ہوا کہ امریکی بے حد خوش ہیں اور انہیں کوئی شکایت نہیں، چاہے قیمت 6 ڈالر فی گیلن ہی کیوں نہ ہو جائے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ ہے کہ مہنگائی ختم ہو چکی ہے اور امریکہ ایک بار پھر عظیم بن رہا ہے۔ وہ پچھلے ہفتے ناسا کاؤنٹی کی نمائش گاہ میں گورنر کی انتخابی مہم کے سلسلے میں آئے تھے اور ان کا اب بھی یہی ماننا ہے کہ انہوں نے عوام کے لیے وہ کام کیے ہیں جو ان سے پہلے بننے والے صدور نہ کر سکے۔ بات یہ درست ہے کہ ان کے دور میں کسی نئی جنگ کا آغاز نہیں ہوا، لیکن گیس کبھی اتنی مہنگی نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی کسی تیل کی کمپنی نے اس سے پہلے 15 کروڑ ڈالر کا منافع کمایا تھا۔
شیئر مارکیٹ مہنگائی کے زمانے میں شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہی اور دو ماہ سے کم عرصے میں مینوفیکچرنگ کے شعبے سے 72 ہزار ملازمین کی ملازمتیں ختم ہو گئیں۔ نہ ہی اس سے پہلے کسی صدر نے صبح و شام ذرائع ابلاغ پر آ کر اس قدر بیانات دئیے ہوں۔ یہ سن کر لوگ حیران رہ جائیں گے کہ صدر ٹرمپ سندھ اور پنجاب کے روایتی سیاست دانوں کی مانند بڑھ چڑھ کر دعوے کرتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے پاس اخلاقیات نام کی ایک چیز ہے اور ان کا اپنا دماغ ہی انہیں روک سکتا ہے۔ تاہم 60 اور 70 سال کی عمر کے بعد دماغ کی کارکردگی اور فیصلوں کی سمت کے بارے میں کوئی حتمی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ یہ بات صدر نے نیویارک ٹائمز کی نمائندہ کیٹی راجرز کے اس سوال کے جواب میں کہی تھی جس میں پوچھا گیا تھا کہ کیا کوئی ایسی چیز ہے جو ان کی طاقت پر حاوی ہو یا انہیں کچھ کرنے سے روکتی ہو۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے پاس کوئی ایسی حکمت عملی نہیں جو ملک اور عوام کی حقیقی بہتری کے لیے ہو۔ ایک فلمی گیت کے بول تھے:
بستی بستی پربت پربت گاتا جائے بنجارہ
صدر ٹرمپ گاتے تو نہیں بلکہ ہاتھ ہلا ہلا کر بات کرتے ہیں، اور اگر ان کے ہاتھ کے اشاروں کو دیکھا جائے تو یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ اصل میں کیا کہنا چاہ رہے ہیں، لہٰذا اس موضوع کو مزید طویل کرنے کی ضرورت نہیں۔
اب ذرا پاکستان کی صورتحال پر غور کریں جہاں ملٹری آمر نے عمران خان کو اڈیالہ جیل میں بند کر رکھا ہے اور معافی کے بعد مذہبی اور شہری آزادیوں کی بات کی جاتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کہا جا رہا ہو کہ چابی کسی اور کے پاس ہے اور وہی آ کر دروازہ کھولے گا۔ یہ سوچنے کی بات ہے کہ اصل چابی کہاں ہے؟
جب پچھلے ہفتے یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ عمران خان کو الشفاء ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے تو دنیا کے 80 سے زائد ممالک نے حکومت سے رابطہ کیا۔ علیم خان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کو الشفاء منتقل نہ کیا گیا تو شدید سبکی ہوگی، لیکن اس بے حس حکومت اور جنرل عاصم منیر پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اب دنیا کی سیاست، کھیل اور ثقافت ایسے افراد سے بھر چکی ہے جو تمام حدیں پار کر چکے ہیں۔
اگر کرکٹ پر بات کی جائے تو اس کھیل کو نااہل قیادت نے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انگلینڈ سے دو ٹیسٹ میچ ہارنے کے بعد، تیسرے ٹیسٹ سے پہلے آدھے کھلاڑیوں کو واپس بھیج دیا گیا۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ عمر گل اور سرفراز احمد کو کوچنگ کے لیے لایا گیا ہے، لیکن سیریز کے دوران ہی یہ اندازہ ہو گیا کہ محسن نقوی اور عاقب جاوید کو پاکستان کی فتح سے کوئی دلچسپی نہیں اور وہ صرف اپنا کھیل کھیل رہے ہیں۔ بعد میں دونوں نے خود کو الگ کر لیا اور محسن نقوی نے ان کی جگہ مائیک ہیسن کو مقرر کیا جو ان کے فیصلوں پر خاموش رہیں۔ مشہور کرکٹر میتھیو ہیڈن کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اپنے کھلاڑیوں کو مکمل آزادی اور اعتماد کے ساتھ کھیلنے کا موقع دے تو یہ ٹیم دنیا کی کسی بھی بڑی ٹیم کے سامنے کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔ دوسری جانب سابق آل راؤنڈر عماد وسیم نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ ٹیم تاریخ کی کمزور ترین ٹیموں میں سے ایک ہے، اور کاؤنٹی کرکٹ کے دوران بھی یہ تبصرے سننے کو ملے کہ اگر انگلینڈ تینوں ٹیسٹ نہ جیتا تو یہ ان کے لیے باعثِ ندامت ہوگا۔
ایک دور تھا جب دنیا بھر میں مقیم پاکستانی، بھارت اور پاکستان کا میچ اپنی مصروفیات چھوڑ کر دیکھا کرتے تھے۔ ویسٹ انڈیز، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے ساتھ مقابلے انتہائی دلچسپ ہوا کرتے تھے۔ جب ویسٹ انڈیز کی ٹیم اپنے عروج پر تھی، تب حنیف محمد نے ٹیسٹ میچ میں 337 رنز کی تاریخی اننگز کھیلی تھی اور اس وقت عبدالحفیظ کاردار ٹیم کے قائد تھے۔ قائدین کے ذکر سے یاد آیا کہ 1987 میں پاکستان کے فوجی حکمران نے بھارت کے خلاف سیریز کے لیے عمران خان کو خصوصی طور پر طلب کیا تھا۔ اس وقت کے حکمران ضیاء الحق کو عمران خان کی صلاحیتوں پر پورا اعتماد تھا کہ وہ بھارتی سرزمین پر ان کی ٹیم کو شکست دے سکتے ہیں، اور نتائج نے اس کو ثابت بھی کیا۔ جب بنگلور میں کھیلے گئے 1987 کے آخری ٹیسٹ کے لیے اقبال قاسم کو پاکستان سے بلایا گیا تو عمران خان کی حکمت عملی اور تدبر کی بدولت پاکستان نے بھارت کو اس کے گھر میں شکست دے کر تاریخ رقم کی۔ اگر یہی دانشمندی سیاست میں قائم رہتی تو پاکستان آج ترقی کی بلندیوں پر ہوتا، لیکن موجودہ دور کے سیاست دان کھیل اور سیاست کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے ملک کے وقار کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔











