نئے صوبوں کا شوشہ!!!

0
3
شبیر گُل

پاکستان میں ایک مرتبہ پھر نئے صوبوں کی بحث چھڑ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسے نقشے زیرِ گردش ہیں جن میں ملک کے چاروں صوبوں کو انتظامی یونٹس کی بنا پر تقسیم دکھایا گیا ہے۔ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام کا معاملہ نیا نہیں بلکہ ماضی میں بھی اس پر گفتگو ہوتی رہی ہے، لیکن وفاقی وزیر محسن نقوی کے بیان کے بعد یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر زبان زدِ عام ہو گیا ہے۔ نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کی اس بحث نے سیاسی ماحول میں گرمی پیدا کر دی ہے، بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی نے اس معاملے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے قائم مقام انتظامی پالیسیوں کے خلاف محاذ کھول لیا ہے۔
تحفظات کا اظہار کرنے والوں کا ماننا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے سندھ پر پیپلز پارٹی کی سیاسی گرفت کمزور پڑ سکتی ہے، جس کے باعث پارٹی کے سیاسی اثر و رسوخ کو دھچکا لگنے کا خدشہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ سندھ کی تقسیم کی سختی سے مخالفت کر رہی ہے۔ تاہم دوسری جانب پیپلز پارٹی سرائیکی اور ہزارہ صوبے کے قیام کی حمایت کرتی نظر آتی ہے، جس کی وجہ سے ناقدین اس دوہرے معیار پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل سے وڈیرہ شاہی اور چند مخصوص خاندانوں کے طویل اقتدار کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا، جبکہ پنجاب کی موجودہ قیادت بھی صوبے کی کسی قسم کی تقسیم کی خواہاں نظر نہیں آتی۔
اس کے برعکس عوامی اور انتظامی سطح پر یہ رائے زور پکڑ رہی ہے کہ صوبوں کی حدود کا نیا تعیین وقت کی اہم ضرورت ہے۔ چھوٹے صوبے بننے سے انتظامی امور میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے اور اختیارات کی حقیقی منتقل مقامی سطح تک ممکن ہو سکے گی۔ اسی تناظر میں حکومت نے سب سے پہلے اسلام آباد کو ایک نئے انتظامی ماڈل میں ڈھالنے کی تیاریاں تیز کر دی ہیں اور وفاقی دارالحکومت کے مستقبل کا نیا خاکہ وزیرِ اعظم کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے، جسے ایک اعلیٰ سطح کی خصوصی کمیٹی نے تیار کیا ہے۔
اس مجوزہ خاکے میں اسلام آباد کے لیے 27 رکنی اسمبلی قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس کی اپنی الگ اسمبلی، چیف ایگزیکٹو اور 27 انتظامی محمحے ہوں گے۔ تجویز کے مطابق اسمبلی کے 21 ارکان براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوں گے، جبکہ قومی اسمبلی کے ہر حلقے سے اسلام آباد اسمبلی کی 7 نشستیں رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کے لیے 5 اور اقلیتوں کے لیے ایک نشست مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ شہر کے چیف ایگزیکٹو کے لیے وزیرِ اعلیٰ یا میئر کا عہدہ تجویز کیا گیا ہے اور تمام 27 انتظامی شعبے مقامی حکومت کے ماتحت ہوں گے۔
صحت، تعلیم، ماحولیات اور شہری سہولیات کی فراہمی مقامی حکومت کی ذمہ داری ہوگی، جبکہ قانون، امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کی حد تک اختیارات وفاق کے پاس ہی رہیں گے۔ اسلام آباد کی یہ مجوزہ اسمبلی صوبائی طرز کی انتظامی اور مالی خودمختاری کی حامل ہوگی اور دارالحکومت کی کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی سمیت دیگر تمام بلدیاتی اداروں کے اختیارات بھی مقامی حکومت کو منتقل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس نئے انتظامی ماڈل کی تیاری میں وفاقی وزرائ احسن اقبال، محسن نقوی، رانا ثنائ اللہ اور مصدق ملک نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے غیر تصدیق شدہ نقشے میں ملک کو 18 مختلف انتظامی یونٹس میں تقسیم دکھایا گیا ہے، جس میں پنجاب کو 6، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو 4، 4 جبکہ سندھ کو 3 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو الگ یونٹ کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ یہ خاکہ اگرچہ باضابطہ طور پر تصدیق شدہ نہیں، مگر وفاقی وزرا کے بیانات کی سمت سے مماثلت رکھتا ہے۔
پاکستان کی سیاست میں نئے صوبوں کی تشکیل ایک ایسا سوال ہے جو ہر دور میں نئی شکل میں سامنے آتا ہے۔ موجودہ حالات میں انتظامی ضروریات، عوامی سہولت اور بہتر حکمرانی کے تقاضوں کو محض سیاسی نعروں کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ جنوبی پنجاب، بہاولپور اور ہزارہ جیسے علاقوں کے مطالبات اس بات کا ثبوت ہیں کہ طاقت اور اختیارات کی مرکزیت ہی اصل مسئلہ ہے۔ ایک عام شہری کے لیے صوبے کے نام سے زیادہ یہ بات اہم ہے کہ اس کے علاقے میں بنیادی سہولیات، سڑکیں، اسکول اور ہسپتال موجود ہیں یا نہیں۔ جب فیصلے عوام سے سینکڑوں میل دور ہوں تو ریاست اور شہری کا تعلق کمزور ہو جاتا ہے۔
چھوٹی انتظامی اکائیاں حکومت کو عوام کے قریب لا سکتی ہیں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنا سکتی ہیں، بشرطیکہ نیا صوبہ محض نئی بیوروکریسی، نئی اسمبلیاں اور نئی مراعات کا نام نہ بنے بلکہ اختیارات کی حقیقی نچلی سطح تک منتقلی کا سبب بنے۔ اس لیے نئے صوبوں کی تشکیل کا معیار صرف زبان یا نسل نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کی بنیاد آئین، عوامی رضامندی، انتظامی ضرورت اور قومی مفاد پر ہونی چاہیے۔ کسی بھی نیا صوبہ بنانے کے لیے آئینی ترمیم، پارلیمانی اتفاقِ رائے، سرحدوں کے تعیین اور مالیاتی ڈھانچے جیسے پیچیدہ مراحل طے کرنے ہوں گے، جو کہ وسیع قومی اتفاقِ رائے کے بغیر ممکن نہیں ہیں۔
ملک کی اہم سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے اکثر اس طرح کے اقدامات کی مخالفت کرتی ہیں، جس کی وجہ سے عام عوام کے بنیادی مسائل التوا کا شکار رہتے ہیں۔ موجودہ سیاسی صورتِ حال میں جہاں گراں باری اور بے روزگاری کے مسائل عام آدمی کو متاثر کر رہے ہیں، وہاں تمام سیاسی قیادت کو ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر عوامی حقوق اور ملک کی پائیدار ترقی کے لیے سنجیدہ قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالی اس مملکتِ خداداد پر اپنی رحمت و برکت نازل فرمائے اور اسے ہر آفت سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here