کبھی کبھی شہر انسان کو اپنے حصار میں لے لیتے ہیں، مگر اس کے دل تک نہیں پہنچ پاتے۔ کچھ شہر روشنیوں سے بھرے ہوتے ہیں، مگر ان کے باسی اپنے اندر اندھیرے لیے پھرتے ہیں۔ کہیں فلک بوس عمارتیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں اور کہیں انسان اپنے ہی دل کی گہرائیوں میں تنہا ہوتا ہے۔ شاید جدید دنیا کا ایک بڑا المیہ یہی ہے کہ رابطے کے ذرائع بڑھتے جا رہے ہیں، مگر ایک دوسرے کو سننے کا وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔ جب بھی پاکستان سے امریکہ پہنچتی ہوں اور طویل فضائی سفر کے بعد نیویارک کے ایئرپورٹ سے باہر نکلتی ہوں تو ایک مانوس خوشی محسوس ہوتی ہے۔ گھر کی طرف جاتے ہوئے میرے شوہر کا ایک جملہ ہمیشہ سنائی دیتا ہے کہ اب آپ نے مرکزی چوراہے والے راستے سے گھر جانا ہوگا۔ میرا جواب بھی ہمیشہ ایک سا ہوتا ہے کہ جی بالکل۔ مجھے نیویارک کی روشنیاں، بلند عمارتیں، بڑے بڑے بل بورڈز، جگمگاتی اسکرینیں اور دنیا بھر سے آئے سیاحوں کے ہنستے مسکراتے چہرے اچھے لگتے ہیں، مگر اس بے پناہ ہجوم میں کھڑے ہوکر کبھی ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ اتنی روشنی، اتنا شور اور اتنی رنگینی کے باوجود انسان کے اندر اتنی خاموشی کیوں ہے؟ اور ہجوم میں بھی تنہائی کیوں ہے؟
یہ صرف احساس نہیں، بلکہ ایک عالمی حقیقت ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں ہر سال سات لاکھ سے زیادہ افراد خودکشی کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ 15 سے 29 سال کے نوجوانوں میں خودکشی موت کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ ڈپریشن، اضطراب، تنہائی، مالی مشکلات، رشتوں کے بحران اور زندگی کے شدید حالات انسان کو گہری مایوسی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ 10 ستمبر عالمی یومِ خودکشی کی روک تھام ہمیں اسی خاموش بحران کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس سال کا موضوع خودکشی کے بارے میں بیانیہ تبدیل کرنا ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ خاموشی اور شرمندگی کے بجائے ہمدردانہ اور ذمہ دارانہ گفتگو کو فروغ دیا جائے۔ امریکہ میں 988 ہیلپ لائن اسی سوچ کی ایک عملی مثال ہے۔ 988 پر کال یا پیغام کے ذریعے ذہنی یا جذباتی بحران میں مبتلا شخص تربیت یافتہ مشیر سے رابطہ کر سکتا ہے۔ یہ صرف ایک نمبر نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے کہ مشکل کی گھڑی میں انسان کو اکیلا نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔
پاکستان میں بھی ذہنی صحت ایک اہم مسئلہ ہے۔ مالی مشکلات، بے روزگاری، تعلیمی دباؤ، گھریلو تنازعات، رشتوں کی کشیدگی اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا دباؤ نوجوانوں سمیت معاشرے کے مختلف طبقات کو متاثر کر رہا ہے۔ لیکن ہم اکثر ذہنی اذیت کو کمزوری سمجھ لیتے ہیں۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ حوصلہ کرو، مگر یہ پوچھنا بھول جاتے ہیں کہ تمہیں کس چیز نے توڑ دیا ہے۔ ہمارے مذہبی اور معاشرتی ورثے میں صبر، ہمدردی اور ایک دوسرے کا سہارا بننے کی تعلیم موجود ہے۔ اگر ہم فیصلہ سنانے کے بجائے سننا سیکھ لیں تو شاید بہت سی خاموش زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔ رنگین دنیا کی اصل خوبصورتی اس وقت ہے جب اس کی روشنی انسان کے دل تک بھی پہنچے۔ شاید ہمیں ہر دل میں ایک 988 پیدا کرنے کی ضرورت ہے، ایسا دل جو کسی کی خاموشی سن سکے اور وقتِ ضرورت صرف اتنا کہے کہ میں تمہیں سننے کے لیے موجود ہوں۔










