ایسی دعائیں جو فانی دنیا کے بجائے اس جہانِ ابدی کے لیے مخصوص ہیں جس کے حسن و جمال کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔ انسان کی عقل اس جزا اور ثواب کا تصور کرنے سے بھی قاصر ہے جو اطاعت گزاروں کے لیے تیار کی گئی ہے اور نہ ہی وہ اس عذاب کی ہولناکی کا گمان کر سکتی ہے جو نافرمانوں کا مقدر بنے گا۔ زندگی کی حقیقت اور اعمال کے پلڑے کا جھکاؤ موت کی پہلی گھڑی میں ہی واضح ہو جاتا ہے، اسی لیے خالقِ کائنات سے التجا ہے کہ وہ موت کی سختیوں کو ہم پر آسان فرما دے اور ہمارا خاتمہ ایمانِ کامل پر مقدر کرے۔
باری تعالیٰ ہمیں اس کٹھن وقت میں شیطان کے ان وسوسوں سے محفوظ رکھ جو انسانی عقل کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قبر کی تنہائی، اس کی وحشت اور عذاب سے تیری پناہ چاہتے ہیں اور حشر کے اس دن کی گھبراہٹ سے امان مانگتے ہیں جب ہر سو بے چینی کا عالم ہوگا۔ الٰہی اس عظیم آزمائش کے روز ہمیں اپنے عرش کا سایہ نصیب فرما اور ہماری سماعتوں کو حضرت محمد مصطفیٰ صل اللہ علیہ وسلم کی مبارک آواز یا امتی یا امتی سے منور فرما دے۔ ساقیِ کوثر کے دستِ مبارک سے وہ جام نصیب ہو جو ابدی پیاس بجھا دے اور جب ہم اپنے نفس کے بوجھ کے ساتھ تیرے سامنے پیش کیے جائیں تو ہمارا حساب آسان فرمانا۔
اے ستار العیوب، ہمارے گناہوں پر حضورِ اکرم صل اللہ علیہ وسلم اور اہلِ دنیا کے سامنے پردہ ڈال دینا اور ہمارا نامہِ اعمال دائیں ہاتھ میں عطا کرنا۔ قیامت کے روز ہمارے نور کو مکمل فرما کر ہمیں پل صراط کی کٹھنائیوں سے بچا لینا اور ہم پر دوزخ کی آگ حرام کر دینا۔ یا غفار، ہمیں ان خوش نصیبوں کی صف میں شامل کر جن کے لیے جنت کے دروازے کھولے جائیں گے جہاں حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ حضور کی اونٹنی کی نکیل تھامے داخل ہوں گے۔ اس ابدی جشن اور نغموں کی محفل میں ہمیں، ہمارے اہل و عیال اور ہر اس شخص کو جگہ عطا فرما جس سے ہمارا کبھی واسطہ رہا ہو۔
پروردگار ہمیں ان لوگوں میں شمار کر جن کو پھر کبھی کوئی غم، تکلیف یا تھکن نہیں چھوئے گی اور ہمیں اپنی خدائی کا واسطہ دے کر رحیق المختوم اور زنجبیل کی نعمتوں سے محروم نہ رکھنا۔ مزید برآں اے مالکِ کل ہمیں ان نیک بختوں میں شامل فرما جن کے چہرے اس دن تر و تازہ اور روشن ہوں گے جب بہت سے چہرے تیرگی میں ڈوبے ہوں گے۔ ہمیں ان صالحین کی رفاقت عطا کر جن کا ٹھکانہ جنت الفردوس کے وہ بالا خانے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور جہاں تیرا دیدار ہر نعمت سے بڑھ کر میسر ہوگا۔ اے اللہ ہماری لغزشوں کو معاف کر کے ہمیں تقویٰ کی اس معراج پر پہنچا دے جہاں نفس مطمئنہ کو تیری رضا کا پروانہ ملتا ہے اور روح تیرے حضور سجدہ ریز ہو کر ابدی سکون پاتی ہے۔ ہماری ان التجاوں کو اپنی بارگاہ میں قبولیت کا درجہ عطا فرما کیونکہ تو ہی دعاوں کو سننے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ آمین یا رب العالمین۔
٭٭٭













