ایک زمانہ تھا جب پوری دنیا میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں سرکاری طور پر صرف سچ بولا جاتا ہے۔ اْن دنوں، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے اہم ادارے بھی سرکاری اور غیر سرکاری خبروں کی تشہیر اس وقت ہی کرتے تھے جب انہیں اطمینان ہو جاتا تھا کہ یہ سچائی کے بنیادی اصولوں کے معیار پر پورا اترتی ہیں۔ یہ چالیس سال قبل کی بات ہے جب میں نے اپنی امریکی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ یہ ضرور تھا کہ ان دنوں، یہاں کے میڈیا میں بین الاقوامی خبروں کو بہت کم جگہ ملتی تھی لیکن نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، اے بی سی، سی بی ایس اور این بی سی جیسے ادارے بڑے اعلیٰ معیار کے سمجھے جاتے تھے۔ پھر جب کیبل کا زمانہ آیا تو سی این این پر خبروں کے انبار لگ گئے لیکن لوگ CNN کی ہر خبر کو بالکل سچ سمجھ کر اس پر ایمان لے آتے تھے۔ وائیٹ ہاؤس اور دیگر سرکاری محکموں کی جانب سے بھی جاری ہونے والی رپورٹوں کو اکثر ”عین حق” ہی سمجھا جاتا تھا۔ ایسے لگتا تھا کہ یہاں سبھی غالب کے معتقد ہیں،
صادق ہوں اپنے قول کا غالب خدا گواہ
کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے
دنیا کے حالات نے جب کروٹ بدلی اور روس کی عظیم طاقت کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے تو امریکہ بہادر واحد سپر پاور بن کر ابھرا۔ واحد طاقت ہونے کے نشے نے صدر ریگن سے، ٥٨٩١۔٧٨٩١ میں، ”ایران۔کانٹرا” جیسا اسکینڈل کروایا۔ امریکی کانگریس کو نظر انداز کرکے فنڈز کا غلط استعمال ہوا اور امریکی عوام سے پہلے جھوٹ بولا گیا اور پھر معافی مانگ لی گئی۔ بڑے بش صاحب کے دور میں، ایک سازش کے تحت، عراق پر کویت پر ”قبضہ” کرنے کے جرم میں حملہ کیا گیا۔ بعد ازاں، چھوٹے بش کے زمانے میں صدام پر ”WMD” بنانے کا جھوٹا الزام لگا کر لاکھوں معصوموں اور مظلوموں کی جانیں لے لی گئیں۔ ان تمام بڑے بڑے جھوٹوں کے زیرِ سایہ یہاں کے امریکی معاشرے میں چھوٹے چھوٹے سرکاری جھوٹ بھی خوب پنپتے رہے۔ اس اخلاقی تنزلی کی انتہا اب آج ٹرمپ سرکار کی امریکی حکومت ہے جو 24/7 مسلسل جھوٹ پر جھوٹ بولتی رہتی ہے اور یہاں کا ”معیاری” میڈیا، اس سے بھی بڑھ چڑھ کر غلط بیانیوں کا پلندہ بن چکا ہے۔ اس امریکی تنزلی میں صیہونیت کا بھی بڑا ہاتھ ہے جس نے بڑے عرصے سے میڈیا اور کانگریس پر جھوٹ کے سہارے اپنا ناجائز تسلط قائم کیا ہوا ہے۔ راحت اندوری کے الفاظ میں،
جھوٹوں نے جھوٹوں سے کہا ہے سچ بولو
سرکاری اعلان ہوا ہے سچ بولو
گھر کے اندر جھوٹوں کی ایک منڈی ہے
دروازے پر لکھا ہوا ہے سچ بولو
اِن دنوں، جھوٹ کا موجودہ طوفان، اس دنیا کے سب سے کمزور ترین، غزہ کے معصوم بچوں اور خواتین سے جا ٹکرایا ہے۔ روایتی میڈیا تو زیادہ تر جھوٹ کے ساتھ ہی ہے لیکن سوشل میڈیا نے انسانیت کو کافی حد تک جھنجھوڑا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی لبنان اور ایران پر جاری جارحیت بھی جھوٹ کے سائے میں پنپنے کی کوشش میں مصروف ہے لیکن کسی نے صحیح کہا تھا کہ ”جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے”۔ اس اردو ضرب المثل کا مطلب ہے کہ جھوٹ زیادہ دیر تر چھپا نہیں رہ سکتا اور سچ سامنے آکر ہی رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ظالم اپنے ایک جھوٹ کو چھپانے کیلئے روزانہ دس مزید جھوٹ گھڑ تے رہتے ہیں لیکن بات بن نہیں پا رہی۔ اسی لئے تو قتیل شفائی یہ نصیحت کر گئے ہیں۔
کھلا ہے جھوٹ کا بازار، آؤ سچ بولیں
نہ ہو بلا سے خریدار، آؤ سچ بولیں
بظاہر تو دنیا کی واحد سپر پاور کے پاس بے پناہ وسائل، ہتھیار اور ٹیکنالوجی موجود ہے اور ایران جیسے کمزور ملک کیلئے اس کا مقابلہ کرنا بالکل ناممکن نظر آتا ہے لیکن صرف اس وجہ سے کہ ایران اس وقت سچ والی سائیڈ پر ہے اور امریکہ جھوٹ کا استعارہ بن چکا ہے، اس قرآنی آیت کی روشنی میں، ہم امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑ رہے۔
ترجمہ: اور کہہ دو کہ حق آگیا اور باطل نابود ہوگیا۔ بے شک باطل نابود ہونے والا ہی ہے۔












