انسانیت کے موضوع پر مرتب کردہ اس تحریر میں ایک نہایت سبق آموز واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ مبارک ہے کہ ضعیف اور کمزور لوگوں کو ڈھونڈنے میں میری مدد کرو کیونکہ تمہارے رزق اور نصرت کا سبب یہی ضعیف طبقہ بنتا ہے۔ دنیا میں انسانوں کی کثرت کے باوجود انسانیت کا جوہر کہیں کہیں ہی نظر آتا ہے۔ بلاشبہ خدمتِ خلق کا درجہ بعض اوقات محض رسمی عبادت سے بھی بلند ہو جاتا ہے کیونکہ دوسروں کی مدد سے حاصل ہونے والا قلبی اطمینان ہی انسان کے چہرے پر حقیقی مسرت لاتا ہے۔
ایک مشاہداتی واقعے کے مطابق ایک معصوم بچہ صرف دس روپے لے کر پلاؤ فروخت کرنے والے کے پاس آیا۔ وہاں موجود کارندے نے رقم کم ہونے کی وجہ سے چاول دینے سے انکار کر دیا لیکن اس سے قبل کہ کوئی دوسرا مداخلت کرتا، ریڑھی کے مالک نے خود آگے بڑھ کر نہ صرف وہ رقم قبول کی بلکہ انتہائی شفقت کے ساتھ بچے کو چاول فراہم کر دیے۔ موجودہ دور کی کمر توڑ مہنگائی میں اس طرزِ عمل پر جب سوال کیا گیا تو دکاندار کا جواب انسانیت کی اعلیٰ مثال تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ بچوں کے لیے مہنگائی کے کوئی معنی نہیں ہوتے اور وہ اکثر پانچ یا دس روپے لے کر آتے ہیں۔ اگرچہ یہ رقم پیکنگ اور سلاد کے اخراجات کے لیے بھی ناکافی ہے، مگر ہر معاملے میں دنیاوی منافع تلاش نہیں کرنا چاہیے۔
دکاندار نے مزید بتایا کہ وہ دیگ میں چکن کی چھوٹی بوٹیاں خاص طور پر انہی غریب بچوں کے لیے ڈالتا ہے تاکہ جب وہ چاولوں میں گوشت دیکھ کر مسکرائیں تو اسے اپنی دعاؤں اور نمازوں کی قبولیت کا احساس ہو۔ یہ طرزِ فکر محض ایک جواب نہیں بلکہ انسانیت کا عظیم درس ہے جس میں غریبوں کے احساس اور محبت کا خالص جذبہ پوشیدہ ہے۔ یہی وہ روحانیت ہے جو انسان کے چہرے پر مستقل سکون کا باعث بنتی ہے۔ اگر زندگی کی ہر سرمایہ کاری صرف دنیاوی فائدے کے لیے ہوگی تو آخرت کے دائمی سفر میں انسان کے پاس کچھ نہیں بچے گا۔ لہٰذا زندگی میں کچھ سرمایہ کاری ایسی بھی ہونی چاہیے جس کا ثمر اس دن ملے جب کوئی کسی کا مددگار نہیں ہوگا۔
مٹی کی مورتوں کا ہے میلہ لگا ہوا
آنکھیں تلاش کرتی ہیں انساں کبھی کبھی
٭٭٭













