قارئین اور عزیزانِ وطن! قدرت کے رنگ نرالے ہیں کہ کل تک جو چھ ہزار سالہ تہذیب کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے دعوے کرتے تھے، آج وہی اپنی خفت مٹانے کے بہانے تلاش کر رہے ہیں۔ ممتاز دانشور ڈاکٹر شاہد چغتائی کا کہنا ہے کہ امریکہ کی ظاہری شان و شوکت تو شاید قائم رہے لیکن اس کی عالمی بالادستی کا سورج اب غروب ہونے کو ہے، جس پر منیر نیازی کا یہ شعر صادق آتا ہے کہ!
کتابِ عمر کا اک اور باب ختم ہوا
شباب ختم ہوا اک عذاب ختم ہوا
حقیقت تو یہ ہے کہ جب قدرت کسی عروج کو زوال میں بدلنا چاہتی ہے تو اس کا اپنا ایک نظام حرکت میں آتا ہے اور ڈاکٹر شاہد صاحب کی پیشگوئی اب درست ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہے کہ امریکی اقتدار کا شباب اب تیزی سے ڈھلان کی طرف گامزن ہے۔ آج کے ٹاک شوز اور پوڈ کاسٹ میں وہ پہلی سی بات نہیں رہی کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ پرجوش بیانات اب سنائی نہیں دیتے، البتہ بھارتی میڈیا نے اپنا رخ اب پاکستان کی جانب موڑ لیا ہے اور وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حوالے سے نازیبا زبان استعمال کرنے پر اتر آیا ہے۔ بھارتی صحافت میں پایا جانے والا یہ اضطراب دراصل اس حسد کا نتیجہ ہے کہ ٹرمپ نے بھارت کے بجائے پاکستان کو اہمیت کیوں دی، جو کہ سراسر مقدر اور قومی وقار کا معاملہ ہے۔
اسی تناظر میں حامد میر جیسے سینئر صحافی کا ایک بھارتی اینکر عارفہ خانم شیروانی کو دیا گیا حالیہ انٹرویو نہایت افسوسناک ہے جس میں انہوں نے ایران سے تعلقات کی بنیاد مسلکی تقسیم پر رکھنے کی کوشش کی۔ حامد میر کا یہ کہنا کہ پاکستان کے بانی شیعہ تھے اور مفکرِ پاکستان سنی، اس لیے ہمارے ایران سے تعلقات مضبوط ہیں، سراسر تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ اس نام نہاد دانشوری پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان کسی خاص مسلک کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا؟ پاکستان کی بنیاد تو صرف کلمہ طیبہ پر رکھی گئی تھی اور ہمارا کلمہ مسلکی تقسیم سے پاک ہے۔ قائد اعظم کی زندگی کے مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جب تحریکِ پاکستان کے دوران مختلف مکاتبِ فکر کے علمائ نے ان سے ان کے مسلک کے بارے میں سوال کیا تو قائد نے نہایت بصیرت کے ساتھ جواب دیا کہ میرا وہی مسلک ہے جو اللہ کے رسول کا تھا یعنی میں صرف ایک مسلمان ہوں۔ اگر قائد اعظم اس وقت مسلکی بحث میں الجھ جاتے تو آج ہم ایک آزاد ریاست کے بجائے غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہوتے۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جس کی اساس لا الہ الا اللہ ہے اور قائد اعظم سے لے کر علامہ اقبال تک، ہمارے تمام اکابرین صرف اور صرف مسلمان تھے جن کی فکر کا محور اتحادِ امت تھا۔
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں













