ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی اور محدود پیمانے پر ہونے والی جنگی جھڑپوں نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کو عالمی سیاست کا مرکز بنا دیا ہے۔ اگرچہ یہ تنازع فی الوقت مکمل جنگ کی شکل اختیار نہیں کر سکا تاہم دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی، خلیجی خطے میں غیر معمولی فوجی نقل و حرکت اور پراکسی محاذوں پر بڑھتی تپش نے دنیا بھر میں شدید تشویش کو جنم دیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں امریکہ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے معاشی پابندیوں کے شکنجے کو مزید سخت کیا جس کے جواب میں ایران نے بھی اپنے جوہری پروگرام میں برق رفتار پیش رفت کے اشارے دے کر واضح کر دیا کہ وہ کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ کے سامنے سرنگوں ہونے والا نہیں۔ اس کے بعد دونوں جانب سے محدود فضائی حملوں، پیچیدہ سائبر کارروائیوں اور اتحادی گروہوں کے ذریعے ایک دوسرے کے مفادات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوا جو تاحال وقفے وقفے سے جاری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دونوں فریق بڑے پیمانے پر ہونے والی جنگ کے بھیانک نتائج سے بخوبی آگاہ ہیں اسی لیے براہ راست اور ہمہ گیر تصادم سے تاحال گریز کیا جا رہا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے پاکستان نے ایک ذمہ دار علاقائی طاقت کے طور پر ثالثی کی کوششوں کا آغاز کیا ہے۔ اسلام آباد کی سفارتی حکمت عملی کا محور یہ رہا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے کشیدگی کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفود نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں پل کا کردار ادا کیا ہے جبکہ دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ بھی مسلسل مشاورت کا عمل جاری رکھا گیا ہے۔ تاہم پاکستان کی ان مخلصانہ کوششوں کو کئی کٹھن چیلنجز کا سامنا ہے جن میں سب سے بڑی رکاوٹ دونوں فریقین کے درمیان پایا جانے والا گہرا عدم اعتماد ہے۔
امریکہ خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور جوہری عزائم کو محدود کرنے پر بضد ہے جبکہ ایران اپنی خودمختاری اور دفاعی صلاحیتوں پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں کیونکہ جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی کو وہ اپنا مسلمہ حق تصور کرتا ہے۔ مزید برآں عالمی طاقتوں کے باہمی مفادات نے اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے جس سے ثالثی کے عمل میں کامیابی کی شرح متاثر ہو رہی ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں اگرچہ کسی فوری اور مکمل حل کی توقع رکھنا شاید حقیقت پسندی نہ ہو لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر پاکستان اور دیگر دوست ممالک کا سفارتی دباؤ اور مکالمہ تسلسل سے جاری رہا تو کشیدگی میں کمی اور کسی حد تک مفاہمت کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ حتمی طور پر ایران اور امریکہ دونوں کو یہ ادراک کرنا ہوگا کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہو سکتی اور اگر مذاکرات سنجیدگی سے کیے جائیں تو ایک مثبت پیش رفت کی گنجائش موجود ہے۔ پاکستان کی یہ سفارتی کاوشیں اسی درست سمت کی جانب ایک اہم قدم ہیں جس کا دارومدار اب بڑی طاقتوں کی نیت اور حکمت عملی پر ہے۔ پاکستان کی دلی خواہش ہے کہ یہ تصادم طول نہ پکڑے کیونکہ بصورت دیگر پاکستان کے لیے اس جنگ میں کسی ایک فریق کا ساتھ دینے سے باز رہنا ممکن نہ ہوگا جو کہ افغان جنگ سے بھی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے اور پاکستان اس نوعیت کے کسی بھی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا۔














