فیضان محدث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

0
4

فیضان محدث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

محترم قارئین اللہ تعالیٰ کے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کی عظمت و شان کا کیا کہنا جن کا ہر ذکر ہدایت کا روشن مینارہ ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کے فضائل بیان کیے جا رہے ہیں۔ دوپہر کی کڑی دھوپ میں آگ کی طرح تپتی چٹان کے نیچے دبی ایک زندہ لاش کو دیکھ کر مکے کے ایک تاجر نے امیہ بن خلف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شاید تمہیں معلوم نہیں کہ اس نے کتنا سنگین جرم کیا ہے۔ صفا و مروہ کے تمام مشرکین جس رسول کے خلاف صف آراء ہیں یہ بدبخت اسی کا کلمہ پڑھتا ہے اور شب و روز اسی کا دم بھرتا ہے۔ اس کے تصور و خیال میں ہر وقت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد بسی رہتی ہے۔ امیہ نے اسے بار بار سمجھایا کہ تو ایک حبشی نڑاد غلام ہے اور عرب کے رسول سے تیرا کیا رشتہ ہو سکتا ہے لیکن جب ظلم کی حد ہو گئی تو امیہ نے تیور بدل کر پوچھا کہ تمہاری اس فہمائش پر وہ کیا جواب دیتا ہے۔ تاجر نے بتایا کہ بلال کا کہنا ہے کہ تم نے میرا جسم خریدا ہے میرا دل نہیں خریدا اور غلامی کے فرائض کا تعلق صرف اعضاء و جوارح سے ہے دل سے نہیں لہذا میں تمہاری خدمت سے کبھی انکار نہیں کروں گا لیکن ضمیر کی آواز اور دل کی امنگوں پر تمہارا کوئی حق تسلیم کرنے سے قطعاً قاصر ہوں۔
ایسی دلکش اور زیبا ہستی کے ساتھ روح کی وابستگی کیلئے رنگ و نسل کی ہم آہنگی بالکل ضروری نہیں ہے اور حبشی نژاد ہونا محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے مانع نہیں ہے۔ امیہ نے نہایت تمسخر کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا موقف سنا تو اسے محسوس ہوا کہ وہ مکے کی رائے عامہ کے خلاف بغاوت کے بھرپور جذبے سے لیس ہو چکے ہیں اور اب انہیں راہِ راست پر لانا ممکن نہیں۔ امیہ نے غصے میں آ کر کہا کہ ایسے سرکش کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لئے یہ سزائیں ابھی ناکافی ہیں۔ پھر آسمان سے چنگاریاں برساتی دوپہر میں تپتے ہوئے انگاروں پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو لٹا دیا گیا اور سینے پر وزنی چٹان رکھ دی گئی تاکہ تڑپتا ہوا بدن کروٹ نہ بدل سکے۔ اس وحشیانہ ظلم کے دوران چربی پگھل رہی تھی اور مکے کے اوباش تالیاں بجا کر ناچ رہے تھے مگر اس لرزہ خیز استبداد کے باوجود حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی زبان پر احد احد کا ورد جاری تھا۔ تسلیم و رضا کا یہ حیرت انگیز نظارہ چشمِ فلک نے پہلے کبھی نہ دیکھا ہو گا جہاں ایک طرف تازیانے تھے اور دوسری طرف عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا غیر متزلزل عزم تھا۔
امیہ نے جب دھمکی دی کہ اگر اب بھی باز نہ آئے تو جلا کر راکھ کر دوں گا تو فضا میں یہ صدا گونجی کہ میں آخری سانس تک کلمہ پڑھتا رہوں گا کیونکہ یہ محبت میرے دل کی دھڑکنوں میں جذب ہو چکی ہے۔ وفاداری کی یہ موت ہلاکت نہیں بلکہ حیاتِ جاوید ہے۔ اسی دوران جب چاندنی رات مکے کی پہاڑیوں پر نور برسا رہی تھی تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دربارِ رسالت میں حاضر ہوئے۔ ان کے چہرے پر غم کے گہرے بادل تھے جسے دیکھ کر سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیریت دریافت فرمائی۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی تکالیف نہیں دیکھی جاتیں۔ ظالم نے انہیں دہکتی آگ پر لٹایا ہے مگر وہ جان نثار اب بھی آپ کے تصور میں گم ہے۔ یہ درد انگیز داستان سن کر رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں نم ہو گئیں اور آپ نے فرمایا کہ ابوبکر گھبراؤ نہیں کیونکہ حق کا سورج زیادہ دیر گہن میں نہیں رہتا اور وہ دن قریب ہے جب اہل ایمان کی دنیا بلال کو اپنا آقا کہے گی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر عرض کیا کہ یا رسول اللہ مجھے اجازت عطا فرمائیں کہ میں حضرت بلال کو خرید کر آزاد کر دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے بڑھ کر دین کی کیا سعادت ہو گی کہ اپنے بھائی کو قید و بند سے رہائی دلائی جائے۔ بلاشبہ مصیبت زدوں کی امداد خدا کے نزدیک محبوب ترین عمل ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here