کیا پاکستان اب پھر ٹوٹے گا !!!

0
4
رمضان رانا
رمضان رانا

پاکستان میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور انتشار کو دیکھ کر یہ احساس شدّت اختیار کر رہا ہے کہ شاید ملک ایک بار پھر کسی بڑے بحران یا تقسیم کی طرف بڑھ رہا ہے۔ امیر ہو یا غریب، ہر شخص شدید اضطراب کا شکار ہے اور ملک کے موجودہ حالات سے کسی صورت مطمئن نظر نہیں آتا۔ اس بے چینی کی بنیادی وجہ ملک میں حقیقی عوامی قیادت کا شدید فقدان ہے، جو عوام کے بنیادی مسائل کی صحیح معنوں میں نمائندگی کر سکے اور دولت، انصاف نیز عدل کی غیر مساوی تقسیم کو ختم کرنے کے لیے جدوجہد کرے۔ دوسری طرف بھارت جیسے پڑوسی ملک میں عوام اپنے حقوق کے لیے لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکلتے ہیں اور اپنے حکمرانوں کو اپنے مطالبات ماننے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں ہر شخص کے ذہن میں یہ سوال پنپ رہا ہے کہ کیا پاکستان پھر ٹوٹ جائے گا؟ یہ سوچ شاید کسی بیرونی طاقت کے منفی پروپیگنڈے کا نتیجہ ہے، ورنہ پنجابی، سندھی، پختون، بلوچ اور دیگر قومیں یکسانیت اور باہمی تعلق کے باوجود یہ منفی الفاظ کیوں ادا کرتیں۔
اس سوال کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے ماضی کے ان تلخ حقائق اور اسباب پر نظر دوڑانا ہوگی جن کے باعث 1971 میں ملک دو لخت ہوا۔ اس عظیم سوانح کا ایک بڑا سبب بنگالی عوام کو ان کے بنیادی اور سیاسی حقوق سے مسلسل محروم رکھنا تھا، جو طویل عرصے سے صوبائی خودمختاری کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اسکے علاوہ بنگالی عوام کو مغربی پاکستان کے باشندوں کے مقابلے میں کمتر سمجھا جاتا تھا۔ ان تمام ناانصافیوں کے باوجود بنگالی عوام پاکستان سے علیحدگی نہیں چاہتے تھے، بلکہ انہیں ایسے حالات کی طرف دھکیلا گیا۔ جب جنرل ایوب خان نے اپنے وزیر قانون جسٹس منیر احمد کو بنگالی قیادت سے مذاکرات کا حکم دیا تو مقصد یہ تھا کہ وہ پاکستان سے الگ ہو کر ایک کنفیڈریشن بنا لیں، جس میں دو الگ ممالک ہوں گے مگر کچھ امور مشترکہ رہیں گے۔ یاد رہے کہ یہ وہی جسٹس منیر احمد تھے جنہوں نے اپنی فیڈرل کورٹ کے متنازع فیصلے سے قانون ساز اسمبلی کی برطرفی اور گورنر جنرل غلام محمد کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو رد کیا تھا۔ جب جسٹس منیر نے کنفیڈریشن کی تجویز بنگالی قیادت کے سامنے رکھی تو انہوں نے اسے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ ہم تو پاکستان بنانے والے ہیں، ہم اس سے کیسے الگ ہو سکتے ہیں۔ جسٹس منیر نے ان تمام واقعات کا تفصیلی ذکر اپنی کتاب جناح سے ضیا تک میں کیا تھا، جس پر بعد میں پاکستان میں پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر بنگالی عوام خود نہ چاہتے تو پاکستان کا قیام کبھی عمل میں نہ آتا۔
بعد ازاں جنرل یحییٰ خان نے اسی ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے انتخابات کا انعقاد کرایا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ بنگالی قوم انتخابات کا بائیکاٹ کرتی ہے یا نہیں۔ تاہم بنگالی عوام نے مغربی پاکستان کی نسبت زیادہ جوش و خروش سے ووٹنگ میں حصہ لیا اور شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کو بھاری اکثریت سے جتوایا۔ اس کے باوجود جنرل یحییٰ خان نے عوامی لیگ کو اقتدار منتقل کرنے سے انکار کر دیا اور شیخ مجیب سمیت پوری قیادت کو جیلوں میں ڈال کر فوجی آپریشن شروع کر دیا۔ حالانکہ مغربی پاکستان سے منتخب ہونے والی نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ ولی خان اور جمیعت علمائے پاکستان کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی نے ڈھاکہ میں پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کا زوردار مطالبہ کیا تھا، جسے فوجی قیادت نے مکمل طور پر نظرانداز کر دیا۔ اس فوجی آپریشن کے نتیجے میں لاکھوں بنگالی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور بالآخر مشرقی پاکستان، بھارت کی فوجی مداخلت کے بعد، بنگلہ دیش کی صورت میں الگ ہو گیا۔ شیخ مجیب الرحمن آخری وقت تک علیحدگی کے حق میں نہیں تھے۔ اس بات کا ثبوت ان کے جیل گارڈز اور ایک ملٹری افسر کے بیانات سے ملتا ہے کہ ملک ٹوٹنے کی خبر پر شیخ مجیب زار و قطار روئے تھے۔ انہوں نے ماضی میں پاکستان کی حمایت میں بنگال کی گلیوں میں نعرے بلند کیے تھے اور وہ حسین شہید سہروردی جیسے عظیم سیاستدان کے شاگرد تھے، جنہیں قائد اعظم کی خصوصی درخواست پر بھارت سے پاکستان لایا گیا تھا اور جو بعد میں پاکستان کے وزیر اعظم بھی بنے اور بعد میں لبنان میں پراسرار طور پر انتقال کر گئے۔
اس کے برعکس موجودہ بچا کچھا پاکستان 1971 کے مشرقی پاکستان والے حالات میں نہیں ہے۔ یہاں ماضی کی طرح محض جاگیرداروں، اجارہ داروں اور طاقتور طبقات کا تسلط ضرور ہے، جن کی پالیسیوں کی وجہ سے بنگال کو الگ کیا گیا تاکہ وہاں زرعی اصلاحات اور جاگیرداری کا خاتمہ نہ ہو سکے (جس کے لیے مولانا بھاشانی جیسے رہنما کسانوں اور مزدوروں کی قیادت کر رہے تھے)۔ تاہم موجودہ پاکستان کا جغرافیائی اور ڈیموگرافک ساخت بالکل مختلف ہے۔ یہاں ہر صوبے میں دوسرے صوبوں کے لوگ بڑی تعداد میں آباد ہیں اور بنگال کی طرح نسلی یا لسانی طور پر صرف ایک ہی قوم کا مطلق غلبہ نہیں ہے۔ پنجاب میں لاتعداد پختون، بلوچ اور دیگر برادریاں اور خاندان بستے ہیں جو نسلاً پنجابی نہیں ہیں۔ سندھ میں قدیم سندھیوں اور نئے آبادکاروں کی آبادی تقریباً برابر ہو چکی ہے۔ خیبر پختونخوا میں ہندکو اور دیگر زبانیں بولنے والے بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ بلوچستان میں پشتونوں اور بلوچوں کی مشترکہ آبادی ہے، جہاں آدھے کے قریب پشتون آباد ہیں۔ لہٰذا موجودہ پاکستان میں بنگال والی یک لخت علیحدگی کی صورتحال موجود نہیں ہے۔ جب 1971 میں جنگی قیدی بنائے گئے تھے تو کروڑوں بنگالیوں کے درمیان مغربی پاکستان کے شہریوں اور فوجیوں کی مجموعی تعداد محض 90,000 تھی۔
موجودہ پاکستان تمام سرداروں، چوہدریوں، امیروں، جاگیرداروں اور بااثر طبقات کی آماجگاہ ہے، جبکہ پورے ملک کے عام عوام روزگار اور سکونت کے سلسلے میں ایک دوسرے کے صوبوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ باہمی انحصار اور یکجہتی ملک کو جغرافیائی طور پر ٹوٹنے سے محفوظ رکھتی ہے۔ البتہ ملک میں حقیقی عوامی نمائندگی کی شدید قلت کی وجہ سے شدید انارکی اور بے چینی پائی جاتی ہے، جو اگر بروقت کنٹرول نہ کی گئی تو صومالیہ جیسی خانہ جنگی کا باعث بن سکتی ہے۔ اگر عوام کو سچی اور مخلص قیادت مل جائے تو وہ اپنے مسائل خود حل کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ اس کے لیے عوام کو برنی سینڈرز یا محمود ممدانی جیسے نظریاتی رہنماؤں کی ضرورت ہے، جو موجودہ سیاسی نظام میں ناپید نظر آتے ہیں۔ موجودہ سیاستدان عام عوام کے بجائے اعلیٰ اور امیر طبقات سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ طاقتوروں کے بنائے ہوئے کھیل کے قواعد کے تحت سیاست کر رہے ہیں۔
حاصل کلام یہ ہے کہ عوام کو اب اپنے اندر سے ایسی قیادت تلاش کرنا ہوگی جو ان کے مسائل کی حقیقی ترجمان ہو۔ انہیں اپنے ہی گلی محلے اور عام لوگوں میں دیکھنا ہوگا کہ ان کا رہبر کون بن سکتا ہے، اس کا تعلق عام طبقے سے ہے یا وہ بھی انہی کی طرح غربت و افلاس کا شکار ہے۔ اگر کوئی رہنما عوامی سطح سے نہیں اٹھتا تو وہ کبھی بھی عام انسان کا سچا نمائندہ نہیں بن سکتا۔
٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here