حضور مجاہد ملت ایک تعارف !!!

0
3

حضور مجاہد کی ولادت، حصول علم دین اور اس کا پس منظر
سید اولاد رسول قدسی مصباحی۔ قسط 5
آپ کی شان علمی اور مناظرانہ صلاحیت کی اس سے بڑھ کر دلیل کیا ہوگی کہ حضرت صدر الافاضل جیسی شخصیت نے آپ کے عین جوانی کے عالم میں بڑے بڑے مناظروں میں بحیثیت مناظر پیش کیا۔ اور آپ نے جتنے مناظرے کیے سب انتہائی کامیاب اور بدعقیدوں کے مناظروں کو خوب دھول چٹوائی۔ یہاں تک کہ ایک مناظرے کے موقع پر حضرت صدر الافاضل علیہ الرحمہ نے حضور مجاہد ملت کو مناظر بنایا تو حریف نے کہا کہ یہ نوجوان مجھ سے کیا مناظرہ کرے گا۔ تو اس پر صدر الافاضل علیہ الرحمہ نے گرجدار آواز میں جواب دیا کہ مناظر حبیب الرحمن ہی رہیں گے۔ تمہیں ان کی عمر کا اندازہ ہے لیکن ان کے علم کا اندازہ نہیں صرف یہی نہیں بلکہ آپ نے مزید فرمایا مولانا حبیب الرحمن کی جیت میری جیت اور ان کی ہار میری ہار۔
جب مناظرے کی بات چھڑ گئی تو اس سلسلے میں رئیس القلم مناظر اہل سُنّت حضرت علامہ ارشد القادری صاحب کا یہ قول قابل ذکر ہے آپ فرماتے ہیں کہ ”یہ بالکل امر واقع ہے کہ مناظرے کے اصول ورموز، بحث واستد لال کے ضابطے اور گفتگو کے قواعد و آداب کا جو بھی سرمایہ میرے پاس ہے وہ حضور مجاہد ملت ہی کا عطا کردہ ہے۔ ”شمس العلماء حضرت قاضی شمس الدین جونپوری علیہ الرحمہ جو حضور مجاہد ملت کے ہم سبق ساتھی تھے۔ فرماتے ہیں ”اگر یہ کہا جائے کہ ہم عصروں اور ہم عمروں میں یہ مرتبہ کسی کو حاصل نہ تھا تو مبالغہ نہیں ہوگا”۔ پاسبان ملت حضرت مشتاق احمد نظامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ”حضرت کو مناظرے سے والہانہ شغف تھایوں کہنا مناسب ہوگا کہ آپ مناظرے کو سونگھا کرتے تھے اور بسا اوقات بن بلائے پہنچ جاتے تھے۔ ” شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ”ہندوستان کے طول وعرض میں ہونے والے مناظروں میں کوئی ایسا مناظرہ نہ ہوگا جس میں حضور مجاہد ملت شریک نہ ہوئے ہوں اور جس مناظرے میں شریک ہوئے ہمیشہ صدر بنائے گئے اور ہر جگہ ثابت فرما دیا کہ صدارت کا کام ان سے اچھا کوئی نہیں انجام دے سکتا۔ مناظروں میں کبھی کبھی صدرین میں نوک جھونک ہو جایا کرتی ہے۔ جب کبھی ایسا موقعہ آیا حضرت نے ہمیشہ مقابل کو ایسا ساکت کیا کہ فبھت الذی کفر کا منظر سامنے آگیا۔ ”
٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here