اسرائیل اور ٹرمپ کی جنگ، امن کا ارادہ نہیں!!!

0
7
کامل احمر

ہمارا کالم محض اطلاع فراہم کرنے کے لیے نہیں بلکہ تاریخ کے دریچوں کو وا کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ اگر قارئین ماضی کے واقعات فراموش کر چکے ہیں تو ہم انہیں موردِ الزام نہیں ٹھہراتے کیونکہ جب عوام آٹے، دال، گیس اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کی چکی میں پس رہے ہوں تو انہیں نپولین بونا پارٹ کی فتوحات یا روس کے زار کے کارناموں سے کیا سروکار ہو سکتا ہے۔ تاریخ کے مطالعے سے یہ سوال ابھرتا ہے کہ مصر کے جمال عبدالناصر اور لیبیا کے معمر قذافی کیوں عالمی توجہ کا مرکز بنے یا شاہِ ایران کو کس طرح اقتدار سے بے دخل ہونا پڑا۔ ایوب خان کا دورِ اقتدار ہو یا ضیائ الحق کی اچانک وفات، یہ تمام واقعات تاریخ کا حصہ ہیں۔ پاکستان نے افغان جنگ میں روس کی پسپائی میں اہم کردار ادا کیا اور تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان ہی وہ راستہ رہا جہاں سے مسلم حکمران ہندوستان پر حملہ آور ہوئے۔ مغلوں کی غفلت کا فائدہ اٹھا کر برطانیہ نے ایک منظم منصوبے کے تحت ہندوستان پر قبضہ کیا اور یہاں ریلوے، عدالت، پولیس، اسکول اور فوج جیسے ادارے قائم کیے۔ جب ان کا مقصد پورا ہو گیا تو وہ اقتدار چھوڑ کر اپنے وطن لوٹ گئے۔ برطانیہ کا راج کسی دور میں پوری دنیا پر محیط تھا جبکہ فرانس اور اسپین بھی اپنی نوآبادیات پھیلا رہے تھے۔ اسپین نے جن علاقوں کا رخ کیا وہاں غلامی کو رواج دیا لیکن ساتھ ہی نئے ممالک کی بنیاد بھی رکھی۔ برطانیہ کے جانے کے بعد ہندوستان نے اس نظام کو تبدیل کرنے کے بجائے اسے اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔ وہاں کا بنیادی مسئلہ بڑھتی ہوئی آبادی ہے جو اب چین سے بھی تجاوز کر چکی ہے اور چند خاندان ملک کی دولت پر قابض ہو کر کھرب پتی بن چکے ہیں۔ انہوں نے ایک ایسا کارپوریٹ نظام وضع کر لیا ہے کہ عوام کی مشکلات کے باوجود وہ دنیا کی بڑی جمہوریت کہلاتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان مسلسل آزمائشوں اور آفتوں کا شکار ہے۔ ماضی میں اگر ایک طبقہ بدعنوانی میں ملوث تھا تو اب زمامِ اقتدار ایسے ہاتھوں میں ہے جن پر سنگین الزامات ہیں۔ گزشتہ تین سالوں سے سیاسی قیادت کو قید کر کے عوام میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ امن و امان کا مصنوعی تاثر قائم رہے لیکن عوامی شعور کے بہتے دریا کو روکنا ممکن نہیں ہوتا۔موجودہ دور میں پنجاب کی حکومت ہو یا وفاق، شاہانہ اخراجات اور کرپشن کی داستانیں عام ہیں۔ مریم نواز کے زیرِ انتظام حکومت میں عوامی مفاد کے بجائے ذاتی آسائشوں اور طیاروں کی خریداری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ مقتدر حلقوں کو عوامی ہمدردی سے کوئی سروکار نہیں ہے اور تمام سیاسی و انتظامی معاملات مبینہ طور پر امریکہ کی نگرانی میں چل رہے ہیں۔ تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ موجودہ قیادت نے امریکہ کو کن شرائط پر مطمئن کیا ہے کیونکہ عوام کو اس اتحاد سے کوئی ریلیف نہیں ملا۔ امریکہ جو اپنے عوام کا معاشی استحصال کر رہا ہے، وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر عالمی سیاست میں خطرناک کھیل رہا ہے۔ اس کھیل میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کا خاندان بھی شامل ہے جو غزہ پر قبضے اور سعودی عرب میں دی لائن جیسے جدید شہر کی تعمیر کے منصوبوں کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب میں سیاحت کے نام پر ایسی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں جو روایتی سماجی ڈھانچے سے متصادم ہیں۔ حج اور عمرہ جیسے مقدس فریضے کو بھی سیاحت کی شکل دی جا رہی ہے اور محرم کی پابندیوں میں نرمی کر کے خواتین کو بغیر محرم سفر کی اجازت دی گئی ہے۔ رواں سال رمضان کے دوران عمرہ زائرین کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے تجاوز کر گئی جو ایک بڑی معاشی سرگرمی ہے۔ دوسری جانب ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے جواب میں حزب اللہ اور یمن بھی اس تنازع میں شامل ہو چکے ہیں۔ اسرائیل اپنی جنگجو پالیسی کے تحت لبنان کو نشانہ بنا رہا ہے لیکن خود امریکی عوام میں اسرائیل کے لیے ہمدردی کم ہو رہی ہے۔ پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب کے وزرائ خارجہ جنگ بندی کے لیے کوشاں ہیں لیکن اقوامِ متحدہ کی بے بسی کے سامنے یہ کوششیں محض ایک مذاق معلوم ہوتی ہیں۔ امریکہ ایک طرف بمباری کی حمایت کرتا ہے اور دوسری طرف امن کی بات چیت کا راگ الاپتا ہے۔
جب سے موجودہ امریکی صدر برسرِ اقتدار آئے ہیں ان کی پالیسیاں عالمی برادری کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی نے اسرائیل کو دفاعی طور پر دباؤ میں ڈال دیا ہے لیکن مجموعی طور پر ایران کا جانی و مالی نقصان زیادہ ہوا ہے۔ اقوامِ متحدہ اس تمام صورتحال میں خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے جو اس کے قیام کے بنیادی مقصد کی نفی ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد اس ادارے کی بنیاد اس لیے رکھی گئی تھی کہ عالمی جنگوں کو روکا جا سکے اور انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے لیکن پانچ مستقل ارکان کو ویٹو کا حق دے کر انصاف کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ ماضی میں دوسرے سیکرٹری جنرل ڈاگ ہیمرشولڈ کی ایک فضائی حادثے میں ہلاکت کو بھی ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا جاتا ہے کیونکہ وہ افریقی ممالک میں امن کے لیے مخلص تھے۔ ان کے بعد یو تھانٹ اور دیگر سربراہان آئے لیکن اقوامِ متحدہ وقت کے ساتھ ایک بے اختیار ادارہ بن کر رہ گیا۔ سابق امریکی صدر آئزن ہاور نے اپنے آخری خطاب میں ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کے خطرات سے آگاہ کیا تھا اور آج امریکہ کے اٹھانوے فیصد قانون ساز اسی کمپلیکس سے فنڈنگ حاصل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنگی جنون کو ہوا دی جاتی ہے تاکہ اسلحہ ساز فیکٹریاں چلتی رہیں اور بے گناہ انسانوں کا خون بہتا رہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ اقتدار میں مشرقِ وسطیٰ کے حالات مزید کشیدہ ہوئے اور انہوں نے اسرائیل کی بھرپور پشت پناہی کی۔ اب دنیا کی نظریں مڈ ٹرم الیکشن پر لگی ہیں کیونکہ تب تک امریکہ کی عالمی ساکھ مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ موجودہ عالمی نظام میں طاقتور ممالک نے خود کو قانون سے بالاتر سمجھ لیا ہے جو کہ عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here