عالمی منظر نامے پر اس وقت آگ اور خون کا ہولناک کھیل جاری ہے اور وقت کا پہیہ سپر پاور امریکہ اور اسرائیل کے گرد گھوم رہا ہے۔ یہ جنگ ہر سمت تباہی برسا رہی ہے جس کے نتیجے میں انسانی لاشے فضاؤں میں اڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ہولناک منظر نامہ دو جنونی شخصیات کی ہٹ دھرمی کا شاخسانہ ہے۔ بحر احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز کی بندش نے پوری دنیا کی معیشت کو مفلوج کر دیا ہے۔ مہلک ہتھیاروں اور میزائلوں کے ذریعے ایران، اسرائیل اور خلیج میں امریکی فوجی اڈوں کی تباہی کے مناظر سامنے آ رہے ہیں جبکہ بارود کے شور میں انسانوں کی دلدوز چیخیں دب کر رہ گئی ہیں۔امریکی فوجی اپنے اڈوں کی تباہی کے بعد میدان چھوڑ کر ہوٹلوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں جہاں ایرانی میزائل اور ڈرون انہیں نشانہ بنا رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ خارگ جزیرے پر قبضے اور آبنائے ہرمز کو بزور قوت کھلوانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں جس کے جواب میں ایرانی عسکری ترجمان نے بھرپور جنگ کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ امریکہ کی 50 ریاستوں میں لاکھوں افراد جنگ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں جبکہ اسرائیل میں بھی عوام نیتن یاہو کے خلاف سڑکوں پر ہیں۔ نیتن یاہو کے ایما پر ایران پر حملہ کرنے کے بعد اب امریکہ کے لیے اس دلدل سے نکلنا مشکل ہو گیا ہے کیونکہ اسرائیل اسے نکلنے نہیں دے رہا۔ایران نے اپنی ثابت قدمی سے سپر پاور کا گھمنڈ توڑ کر خطے میں اسرائیل کی بالادستی کا خاتمہ کر دیا ہے۔ 50 سالہ معاشی پابندیوں کے باوجود ایران نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ ناقابل شکست رہنے کے دعویدار اب مذاکرات کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ یہ دراصل امریکہ کے زوال کی دستک ہے اور اس کی فولادی دیواروں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ غزہ کے مظلوموں کی آہیں رنگ لا رہی ہیں اور وہ جو کبھی بربریت پر خوشیاں مناتے تھے اب خود بنکروں میں زندگی کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ اسرائیلی آرمی چیف کے مطابق مسلسل جنگ سے فوجیوں کے اعصاب جواب دے چکے ہیں اور بیس ہزار فوجیوں کی کمی کا سامنا ہے۔امریکہ اس جنگ کو جیتنے میں ناکامی کے بعد اب ایرانی تیل کے ذخائر پر قبضے کے منصوبے بنا رہا ہے۔ خلیجی بندرگاہوں کی بندش سے پاکستان کی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور کراچی کی بندرگاہوں پر ہزاروں کنٹینرز پہنچ رہے ہیں۔ اب تک کی جنگ میں درجنوں امریکی طیارے اور متعدد فوجی اڈے تباہ ہو چکے ہیں۔ ایران کے پاس میزائلوں کے وسیع ذخائر موجود ہیں جو اس جنگ کو طویل عرصے تک جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکہ یہ جنگ ہار چکا ہے اور اب مزید تابوت اٹھانے کی سکت نہیں رکھتا۔اب پاکستان، ایران، روس اور چین مستقبل کے فیصلہ ساز بن کر ابھر رہے ہیں اور سرمایہ داری نظام اپنے بوجھ تلے دب رہا ہے۔ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کو اب کہیں جائے پناہ نہیں ملے گی۔ دشمن کی چالوں کے مقابلے میں اللہ کی تدبیر ہی بہترین ہے اور اس بحران کے بعد مسلمان ایک عظیم طاقت بن کر ابھریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق ایک مومن کی جان و مال کی حرمت کعبہ سے بھی زیادہ ہے۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت تمام مسلمانوں اور وطن عزیز پاکستان کی حفاظت فرمائے اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنائے۔ آمین۔














