عالمی آٹزم آگاہی کا دن… شعور، قبولیت اور حوصلے کا سفر!!!

0
5

ہر سال 2 اپریل کو دنیا بھر میں عالمی آٹزم آگاہی کا دن منایا جاتا ہے۔ 2008 میں اقوامِ متحدہ کی منظوری کے بعد اس دن کا آغاز اس عہد کے ساتھ کیا گیا کہ معاشرے کو آٹزم کے بارے میں شعور فراہم کیا جائے اور ان خاص افراد کی آواز بن کر ان کے جذبات کو سمجھا جائے جو الفاظ کے استعمال سے قاصر ہونے کے باوجود اپنے دلوں میں احساسات کا ایک وسیع جہان رکھتے ہیں۔آٹزم کوئی بیماری نہیں بلکہ ایک ایسی حالت ہے جس میں ہر فرد اپنی منفرد صلاحیتوں کے ساتھ نمایاں ہوتا ہے۔ یہ کیفیت انسان کی گفتگو، سماجی میل جول اور رویوں کے اظہار کو ایک مختلف انداز عطا کرتی ہے۔ آٹزم کے ساتھ جینے والے بچے اور بڑے اس کائنات کو ایک الگ نگاہ سے دیکھتے ہیں جہاں خاموشی کے بھی گہرے معنی ہوتے ہیں اور رنگوں کے ذریعے جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ان افراد کے لیے چھوٹی سے چھوٹی کامیابی، جیسے کسی لفظ کا درست تلفظ یا جوتے کے تسمے باندھنا، ایک عظیم فتح کی مانند ہوتی ہے۔اس سفر میں ہر دن صبر، حوصلے اور بے پناہ محبت کی ایک نئی آزمائش ثابت ہوتا ہے۔ اکثر ایسے والدین دیکھنے کو ملتے ہیں جو اپنی تمام تر خواہشات اور خوابوں کو پسِ پشت ڈال کر اپنے بچوں کی تربیت، علاج اور سیکھنے کے مراحل میں دن رات مصروف رہتے ہیں۔ وہ ہر مسکراہٹ میں امید کی کرن تلاش کرتے ہیں اور ہر آنسو کو دعا میں بدل دیتے ہیں۔ تاہم، معاشرے کے نامناسب رویے اکثر ان کے لیے ایک مشکل دیوار بن جاتے ہیں۔ بعض لوگ صورتحال کو سمجھنے کے بجائے تنقید اور طنز کا سہارا لیتے ہیں جس سے یہ والدین خود کو تنہا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ ہمت نہیں ہارتے اور اس یقین کے ساتھ جدوجہد جاری رکھتے ہیں کہ ان کا بچہ ایک دن اپنی صلاحیتوں کو ثابت کر کے دکھائے گا۔ایک متاثرہ خاندان کے مشاہدے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کس طرح ایک بچہ الفاظ کے بجائے رنگوں اور خاکوں کے ذریعے اپنی بات بیان کرتا ہے۔ اس کے کینوس پر موجود مسکراتا ہوا سورج اس بات کی علامت تھا کہ وہ روشنی کو ایک منفرد زاویے سے دیکھنے کا فن جانتا ہے۔ اس کے والدین کی آنکھوں میں موجود فخر کی چمک کسی بھی دنیاوی اعزاز سے کہیں زیادہ قیمتی تھی۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آٹزم محض آگاہی تک محدود نہیں بلکہ یہ مکمل قبولیت اور معاشرتی شمولیت کا پیغام ہے۔ تعلیمی اداروں، دفاتر اور عوامی مراکز میں ایسے اقدامات ناگزیر ہیں جو نہ صرف اس کیفیت کے بارے میں فہم پیدا کریں بلکہ ان افراد کو مساوی مواقع بھی فراہم کریں۔ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مختلف ہونا کسی طور غلط نہیں بلکہ یہ زندگی کے رنگوں کا ایک نیا پہلو ہے۔ حکومت اور معاشرے کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان افراد کے لیے مخصوص تعلیمی مراکز، تربیت یافتہ اساتذہ اور آسان طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں۔ قومی پالیسیوں میں وہ ہمدردی اور احساس جھلکنا چاہیے جو ان خاندانوں کے دکھ، امیدوں اور خوابوں کی ترجمانی کر سکے۔عالمی آٹزم آگاہی دن کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ کوئی بچہ خود کو کم تر محسوس نہ کرے، کوئی بھی والدین اس جدوجہد میں تنہا نہ رہیں اور کسی بھی معصوم کا خواب ادھورا نہ رہے۔ ہمیں مل کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں ہر فرد، خواہ وہ لفظوں میں بات کرے یا خاموشی سے اپنے جذبات کا اظہار کرے، اسے ہر مقام پر محبت، عزت اور احترام میسر ہو۔ اس کالم کی اشاعت کا بنیادی مقصد معاشرتی شعور کی بیداری اور متاثرہ خاندانوں کے لیے ہمدردی و مثبت رویوں کا فروغ ہے تاکہ تعلیمی اور حکومتی سطح پر ایک مستحکم سپورٹ سسٹم وضع کیا جا سکے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here