ڈاکٹر مقصود جعفری: صدر آزاد کشمیر کیلئے نئی ویژن!!!

0
5

پروفیسر ڈاکٹر مقصود جعفری کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے کیونکہ وہ ایک ایسی ہمہ جہت علمی، ادبی اور فکری شخصیت ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے قلم بلکہ اپنے عملی کردار کے ذریعے بھی مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر زندہ رکھا۔ آج جب آزاد کشمیر کو ایک مضبوط، باوقار اور عالمی سطح پر مثر قیادت کی ضرورت ہے تو ڈاکٹر مقصود جعفری کو صدر آزاد کشمیر کے منصب کے لیے ایک ناگزیر انتخاب قرار دینا ہر لحاظ سے درست معلوم ہوتا ہے۔ ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ علم و ادب کی خدمت سے عبارت ہے جہاں انہوں نے پاکستان اور بیرون ملک جامعات میں انگریزی ادب کے پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں جس سے ان کی علمی گہرائی اور عالمی فکری رجحانات پر گرفت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ وہ محض ایک استاد ہی نہیں رہے بلکہ ایک ایسے مفکر کے طور پر ابھرے جنہوں نے اپنی تحریروں میں قومی اور بالخصوص کشمیری مسائل کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔ ان کی تحریریں محض جذباتی نہیں ہوتیں بلکہ دلیل، تحقیق اور تاریخی حوالوں سے مزین ہوتی ہیں جو انہیں دیگر معاصر لکھاریوں سے ممتاز بناتی ہیں۔ان کی سب سے بڑی طاقت ان کی کثیر لسانی مہارت ہے کیونکہ وہ اردو، انگریزی اور فارسی سمیت کئی زبانوں پر مکمل عبور رکھتے ہیں اور انہی زبانوں میں انہوں نے اپنی فکری کاوشوں کو دنیا تک منتقل کیا۔ انگریزی زبان میں ان کی کتب دی پلائٹ آف کشمیر، کشمیر انڈر سیج اور انڈیپینڈنٹ آئیڈیاز عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کی حساسیت کو سمجھنے میں کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کتب میں انہوں نے نہ صرف کشمیر کی تاریخی حیثیت کو واضح کیا بلکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی بھرپور کوشش بھی کی۔ اسی طرح اردو میں ان کے شعری مجموعے اور کالمز قومی شعور کو بیدار کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں جبکہ فارسی میں ان کی تحریریں ان کے بلند پایہ ادبی ذوق اور کلاسیکی روایت سے گہری وابستگی کو ظاہر کرتی ہیں۔یہ بات بھی نہایت قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر مقصود جعفری نے خود کو صرف تحریر و تقریر تک محدود نہیں رکھا بلکہ عملی سیاست اور پالیسی سازی میں بھی فعال حصہ لیا۔ وہ آزاد کشمیر کی حکومت کے ساتھ بطور مشیر وابستہ رہے جہاں انہوں نے اپنے علم اور وسیع تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے اہم ریاستی امور میں رہنمائی فراہم کی۔ یہی عملی تجربہ انہیں ایک ایسا مکمل رہنما بناتا ہے جو صرف نظریات ہی نہیں بلکہ زمینی حقائق اور عملی اقدامات کی اہمیت کو بھی گہرائی سے سمجھتا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ ایک ایسا حساس اور دیرینہ تنازعہ ہے جسے عالمی سطح پر مثر انداز میں پیش کرنے کے لیے ایک ایسی قیادت درکار ہے جو علمی، سفارتی اور ابلاغی صلاحیتوں سے لیس ہو۔ ڈاکٹر مقصود جعفری اس معیار پر پورا اترتے ہیں کیونکہ وہ بین الاقوامی زبان میں مثر گفتگو کرنے اور عالمی فورمز پر اپنا مقف مدلل انداز میں پیش کرنے کی مکمل اہلیت رکھتے ہیں۔آج کے دور میں جہاں سیاست اکثر وقتی مفادات کے گرد گھومتی نظر آتی ہے وہاں ڈاکٹر مقصود جعفری جیسے نظریاتی اور اصول پسند افراد کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ وہ ایک ایسے مدبر ہیں جو ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر قومی نصب العین کے لیے سوچتے ہیں اور ان کی پوری زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلے کو محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک مقدس ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر آزاد کشمیر کو ایک مضبوط اور باوقار قیادت فراہم کرنی ہے تو ان جیسے اہل اور باصلاحیت فرد کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہیں صدر آزاد کشمیر کے لیے موزوں ترین شخصیت قرار دینا نہ صرف ایک دانشمندانہ فیصلہ ہوگا بلکہ یہ کشمیری عوام کی حقیقی نمائندگی کا ضامن بھی بن سکتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر مقصود جعفری وہ شخصیت ہیں جو علم، تجربہ، وژن اور جذبے کا حسین امتزاج ہیں اور وہ نہ صرف کشمیر کاز کے سچے ترجمان ہیں بلکہ ایک ایسے رہنما بھی ہیں جو اس مسئلے کو عالمی سطح پر نئی جہت دے سکتے ہیں، لہذا موجودہ حالات میں انہیں صدر آزاد کشمیر کے لیے ہر صورت ایک انتہائی اہم اور ناگزیر شخصیت تسلیم کیا جانا چاہیے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here