دنیا بھر کے جمہوری اور مہذب ملکوں میں بلدیاتی نظام کو ایک لازمی جزو قرار دیا جا چکا ہے کیونکہ اس کے بغیر شہریوں کو بنیادی خدمات کی فراہمی ممکن نہیں ہوتی۔ اس نظام کے تحت دیہاتوں اور شہروں کے چھوٹے علاقوں سے عوامی نمائندے منتخب ہو کر براہ راست عوام کی خدمت کرتے ہیں اور ان کے سربراہ کو میئر کہا جاتا ہے۔ آج نیویارک شہر کے میئر ممدانی کی مثال ہمارے سامنے ہے جن کی آواز ملک کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کم اہمیت نہیں رکھتی۔ اس کے برعکس پاکستان میں بلدیاتی نظام یا تو سرے سے ناپید ہے یا اسے بے اختیار رکھا گیا ہے جس کا زیادہ تر فعال وجود فوجی ادوار میں ہی نظر آیا۔ سویلین حکومتوں کے دوران بلدیاتی نظام کو دانستہ طور پر کمزور رکھا جاتا ہے تاکہ ملک کے مختلف علاقوں کے بااثر افراد اور صوبائی اسمبلیوں کے نمائندگان کو زیادہ سے زیادہ اختیارات اور فنڈز مل سکیں۔ اگرچہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کا اصل فریضہ قانون سازی ہے مگر یہ لوگ ترقیاتی کاموں کے نام پر کروڑوں اور اربوں روپے کے فنڈز حاصل کرتے ہیں اور شاہانہ طرز زندگی بسر کرتے ہیں جبکہ ان کے گرد مسلح دستوں کا پہرہ انہیں عوام کے غیظ و غضب سے دور رکھتا ہے۔پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب اس وقت مکمل طور پر بلدیاتی نمائندگی سے محروم ہے اور وہاں کونسلر، ناظم یا میئر جیسے عوامی عہدیداران موجود نہیں ہیں۔ اگرچہ صوبائی سطح پر انتظامی امور چلائے جا رہے ہیں لیکن گلی کوچوں کی صفائی، اسکولوں کی دیکھ بھال اور مقامی مسائل کے حل کے لیے کوئی ذمہ دار موجود نہیں جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں ایک بڑے المیے سے کم نہیں ہے۔ باقی تینوں صوبوں میں اگرچہ عدالتوں کے احکامات پر بلدیاتی انتخابات ہوئے لیکن وہاں کے منتخب نمائندے بھی اختیارات کی کمی کا رونا روتے نظر آتے ہیں۔ کراچی، پشاور اور کوئٹہ جیسے بڑے شہروں کے شہری بنیادی سہولیات کو ترس رہے ہیں کیونکہ مقامی نمائندوں کو دیوار سے لگا کر تمام فنڈز صوبائی اسمبلی کے ارکان کو دے دیے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے بڑے شہر اور قصبے گندگی کے ڈھیر بن چکے ہیں اور عوام مجبوراً ماضی کے بلدیاتی نظام کو یاد کرتے ہیں جب کراچی میں عبدالستار افغانی، نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ اور مصطفیٰ کمال جیسے میئرز نے شہر کی خدمت کی تھی۔
عالمی سطح پر لندن کے میئر صادق خان اور دیگر بڑے شہروں کے سربراہان جمہوریت کا اصل چہرہ مانے جاتے ہیں۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان استنبول کے میئر رہے اور ایران کے سابق صدر محمود احمدی نڑاد تہران کے میئر کے طور پر اپنی خدمات پیش کر چکے ہیں جس کے بعد وہ ملکی قیادت تک پہنچے۔ پاکستان میں جاگیرداری، وڈیرہ شاہی اور مقتدر طبقات کی اجارہ داری کی وجہ سے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ بااثر لوگ نہیں چاہتے کہ ایک عام آدمی ان کے اقتدار میں شریک ہو۔ اسی طرز عمل نے ماضی میں بنگال کو اختیارات سے محروم رکھا جس کا نتیجہ علیحدگی کی صورت میں نکلا حالانکہ بنگالی قوم قیام پاکستان کی بانی تھی۔ آج بھی ملک میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور حکمران یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ عوام کو نظام میں شامل کیے بغیر ملک کی بقا ممکن نہیں ہے۔ پاکستان کو اس وقت وزیروں اور مشیروں کے بجائے ایک مضبوط بلدیاتی نظام کی ضرورت ہے تاکہ عوام اپنے کونسلروں اور ناظموں کے ذریعے بنیادی مسائل حل کرا سکیں اور ملک کو جدید دنیا کے ہم پلہ لایا جا سکے۔ اس سنگین صورتحال پر تمام محب وطن حلقوں کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)











