ایران کی سرزمین پر امریکی برّی افواج کے اترنے کا تصور اب محض کسی فکری نشست یا نظریاتی بحث کا حصہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک ایسے بھیانک تزویراتی ڈراؤنے خواب کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جس کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ مارچ 2026 کے ان تپتے ہوئے دنوں میں جب جنگ کے بادل گہرے ہو رہے ہیں، واشنگٹن سے آنے والی خبریں اس امر کی نشان دہی کر رہی ہیں کہ پینٹاگون اب محض فضائی بمباری پر اکتفا کرنے کے بجائے اپنے پیادہ دستوں کو ایرانی حدود میں داخل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے اعلیٰ حکام کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں اس جارحانہ عزائم کا اظہار دراصل ایک ایسی مہم جوئی کا آغاز ہے جس کا انجام ماضی کی بڑی فوجی ناکامیوں سے مختلف نظر نہیں آتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی بڑی طاقت نے زمینی حقائق اور حریف کی برسوں کی دفاعی تیاریوں کو نظر انداز کر کے کسی غیر ملکی سرزمین پر قدم رکھنے کی کوشش کی، اسے ذلت آمیز پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔ برطانوی فوج کی گیلی پولی مہم اس کی ایک واضح مثال ہے جہاں ساحل پر اترنے والے دستوں کو بدترین شکست ہوئی تھی اور آج امریکہ اسی نقشِ قدم پر چلتا ہوا نظر آ رہا ہے۔پینٹاگون کی حالیہ منصوبہ بندی کا محور اس کی وہ ایلیٹ فضائی یونٹ ہے جو چند گھنٹوں کے اندر دنیا کے کسی بھی کونے میں ہزاروں فوجی اتارنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ اس تیز رفتار اور ہلکی طاقت کو استعمال کر کے ایران کے ساحلی مراکز یا جزیرہ خارگ جیسے اسٹریٹجک مقامات پر قبضہ کیا جا سکتا ہے تاکہ تہران کی تیل کی برآمدات اور بحری گزرگاہوں پر گرفت مضبوط کی جا سکے۔ تاہم یہ سوچ ایک ایسی دیوانگی کے سوا کچھ نہیں جس میں حریف کی ٹیکنالوجی اور مزاحمتی صلاحیت کو یکسر فراموش کر دیا گیا ہے۔ ایران نے گزشتہ چالیس برسوں کے دوران اپنا دفاعی ڈھانچہ اسی زمینی حملے کو روکنے کے لیے تیار کیا ہے جسے زیرِ زمین میزائلوں کے شہروں سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ امریکی پیادہ دستوں کا مقابلہ کسی روایتی فوج سے نہیں بلکہ ڈرونز اور میزائلوں کی اس بارش سے ہوگا جس کا توڑ فی الحال پینٹاگون کے پاس بھی موجود نہیں ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ کوئی جنگی مہم نہیں بلکہ ایک ایسا خودکش مشن ہے جہاں امریکی فوجی ایک ایسے جال میں پھنس جائیں گے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔اس صورتحال کا سب سے ہولناک پہلو عالمی معیشت کی ممکنہ تباہی ہے۔ اگر امریکی دستے ایرانی سرزمین پر قدم رکھتے ہیں تو آبنائے ہرمز، جو دنیا کی سب سے اہم آبی گزرگاہ ہے، مستقل طور پر تہران کے کنٹرول میں چلی جائے گی۔ اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں اس بلندی تک پہنچ سکتی ہیں جس کا تصور بھی محال ہے، جس سے عالمی رسد کا نظام درہم برہم ہو جائے گا اور مہنگائی کا وہ طوفان آئے گا جو جدید انسانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ ڈالر کی ساکھ اور امریکہ کی فوجی برتری کا بھرم اس وقت خاک میں مل جائے گا جب کروڑوں ڈالر مالیت کے جنگی جہاز اور ٹینک چند ہزار ڈالر کے سستے ڈرونز کا شکار بنیں گے۔ واشنگٹن کے پالیسی ساز اس حقیقت سے نظریں چرا رہے ہیں کہ ایرانی دفاعی نظام اب پہلے جیسا نہیں رہا بلکہ یہ کہیں زیادہ مہلک اور جدید ہو چکا ہے۔ زمینی حملہ واپسی کے تمام راستے بند کر دے گا اور امریکہ ایک ایسی دلدل میں دھنس جائے گا جس کا کوئی اختتام نظر نہیں آتا۔جنگ کے اس نئے مرحلے میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اگر امریکی دستے مقتل میں پھنس گئے اور جانی نقصان حد سے تجاوز کر گیا تو سیاسی دباؤ کے تحت ایٹمی ہتھیاروں کی طرف رجحان بڑھے گا، جو پوری انسانیت کے لیے موت کا پیغام ثابت ہو سکتا ہے۔ موجودہ امریکی قیادت بظاہر ایرانیوں کی اپنی خود مختاری کے لیے جان دینے کے عزم کو سمجھنے میں ناکام رہی ہے۔ یہ محض دو ریاستوں کی جنگ نہیں ہوگی بلکہ یہ ایک ایسی علاقائی آگ کو بھڑکائے گی جس میں پڑوسی ممالک بھی شامل ہونے پر مجبور ہو جائیں گے۔ جب تک واشنگٹن کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ ادارہ جاتی نرگسیت سے باہر نہیں نکلتے اور یہ تسلیم نہیں کرتے کہ ان کی طاقت ہر جغرافیے میں ناقابلِ شکست نہیں ہے، تب تک دنیا ایک ہولناک تباہی کے دہانے پر کھڑی رہے گی۔ یہ وقت طاقت کے نشے میں مہم جوئی کا نہیں بلکہ ہوش مندی سے زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کا ہے، ورنہ تاریخ کا یہ باب امریکہ کی تزویراتی تدفین کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
٭٭٭















