گورنر راج!!!

0
3
عامر بیگ

(گزشتہ سے پیوستہ)
کیا گورنر راج کے دوران سکیورٹی کی صورتِ حال بہتر ہوتی ہے؟ کیا شہریوں کی روزمرہ زندگی، کاروبار اور نقل و حرکت معمول پر آتی ہے؟ کیا انتظامیہ سیاسی مخالفین کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ کرتی ہے اور کیا اس اقدام کے لیے واضح آئینی جواز عوام کے سامنے رکھا جاتا ہے؟ اگر سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں، احتجاج پر غیر ضروری پابندیاں یا طاقت کے غیر متناسب استعمال کے واقعات بڑھتے ہیں تو ناراضی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گا۔ اس کے برعکس اگر حکومت شفاف طریقے سے انتظامی ذمہ داریاں پوری کرے، دہشت گردی میں کمی آئے اور شہریوں کو ریلیف ملے تو فیصلے کے بارے میں بعض حلقوں کی رائے مختلف بھی ہو سکتی ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سیاسی غصہ صرف کسی ایک جماعت کے حامیوں تک محدود نہیں رہتا۔
مہنگائی، بے روزگاری، بجلی اور گیس کے اخراجات، کمزور عوامی خدمات اور سیاسی عدم استحکام پہلے ہی شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں، اور ایسے ماحول میں کوئی بھی بڑا سیاسی بحران عوامی بے اطمینانی کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کے سامنے اب دو بڑے چیلنج ہیں: اپنے سیاسی مینڈیٹ اور تنظیمی قوت کا دفاع کرنا اور یہ ثابت کرنا کہ اس کی جدوجہد آئینی و جمہوری حدود کے اندر رہ کر آگے بڑھ سکتی ہے۔ اس سلسلے میں پہلا راستہ قانونی اور پارلیمانی جدوجہد کا ہے، جس کے تحت پارٹی گورنر راج کے آئینی جواز، اس کے طریق? نفاذ اور مدت کو متعلقہ فورمز پر چیلنج کر سکتی ہے، جیسا کہ کر بھی دیا گیا ہے۔ اسی طرح پارلیمان میں بحث، عدالتی چارہ جوئی، دستاویزی شواہد اور سیاسی مذاکرات کے ذریعے اپنے مؤقف کو آگے بڑھانا ایک قابلِ عمل حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ دوسرا راستہ عوامی رابطے کا ہے۔
پی ٹی آئی کو محض احتجاجی بیانیے تک محدود رہنے کے بجائے خیبر پختونخوا کے امن، روزگار، تعلیم، صحت اور ترقیاتی ضروریات کے بارے میں واضح مؤقف پیش کرنا ہو گا، نیز اسے یہ بھی واضح کرنا ہو گا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی، پولیس کی استعداد میں اضافہ اور شہریوں کا تحفظ اس کی ترجیحات میں کس مقام پر ہیں۔ تیسرا پہلو احتجاج کی حکمت عملی کا ہے۔ پْرامن جلسے، قانونی احتجاج اور سیاسی مکالمہ جمہوری حقوق کا حصہ ہیں لیکن تشدد، سرکاری املاک کو نقصان اور شہری زندگی کو غیر ضروری طور پر مفلوج کرنا سیاسی مقصد کو پیچیدہ بنا سکتا ہے، لہٰذا پارٹی قیادت کے لیے کارکنوں کو نظم و ضبط، عدم تشدد اور قانونی حدود کی پابندی کی واضح ہدایات دینا اہم ہو گا۔ پی ٹی آئی کے لیے یہ بھی ضروری ہو گا کہ وہ اپنے سیاسی حامیوں کے جذبات کو تسلیم کرتے ہوئے ایسے راستے اختیار کرے جن سے بحران کا حل ممکن ہو سکے، نہ کہ صوبے اور وفاق کے درمیان محاذ آرائی مستقل شکل اختیار کر جائے۔
دوسری طرف گورنر راج نافذ کرنے کے بعد وفاقی حکومت کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی بلکہ اور بڑھ جاتی ہے، اور اب اسے اپنے فیصلے کے جواز کو عملی نتائج کے ذریعے واضح کرنا ہو گا۔ اگر حکومت نے دہشت گردی اور انتظامی ناکامی کو اس اقدام کی بنیاد بنایا ہے تو عوام یہ جاننا چاہیں گے کہ ان مسائل کے حل کے لیے کیا اقدامات کیے گئے اور ان کے کیا نتائج نکلے۔ اس صورت میں سب سے پہلی ترجیح شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہونی چاہیے، جس کے لیے پولیس اور مقامی انتظامیہ کو مؤثر وسائل، پیشہ ورانہ تربیت اور واضح اختیارات فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے۔۔۔جاری ہے!

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here