فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ
محترم قارئین! حضور نبی کریمۖ کو اللہ تعالیٰ نے سراپا معجزہ بنا کر بھیجا ہے۔ آپ ۖ کے معجزات آپ کی رسالت ونبوت کی دلیل بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بھی دلیل ہیں کہ جب اس کی بنائی ہوئی بہترین مخلوق کی یہ شان ہے تو پھر اس بنانے والے کی عظمت اور شان کا اندازہ کون لگا سکتا ہے؟ اور یہ معجزات اسلام وقرآن کی حقانیت کی بھی دلیل ہیں۔ بہرحال اس آرٹیکل میں ہم نبی پاکۖ کے چند معجزات کا تذکرہ کریں گے ویسے تو آپ ۖ سر کے بالوں سے لے کر پائوں کے ناخنوں تک معجزہ ہی معجزہ ہیں۔ بس اللہ تعالیٰ ان معجزات کے صدقہ سے امت مسلمہ کی تمام پریشانیوں کو حل فرما دے۔ مشکلات کو آسان کردے اور اہل اسلام کو فتح، نصرت اور غلبہ عطا فرما دے۔
ایک دفعہ آپۖ کے ظاہری عہد زریں میں اہل مدینہ قحط کا شکار ہوگئے۔ دوران خطبہ جمعتہ المبارک ایک آدمی نے فریاد کی: یارسول اللہ! گھوڑے ہلاک ہوگئے، بکریاں مر گئیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ ہمارے لئے بارش عطا فرما دے۔ آپ ۖ نے تبھی ہاتھ دعا کیلئے اٹھا دیئے۔ اس وقت آسمان آئینے کی طرح شفاف تھا اور سورج خوب آب وتاب سے چمک رہا تھا یعنی دور دور تک بارش ہونے کا نام ونشان بھی نہیں تھا۔ ہوا چلنے لگی، بادل چھا گئے اور آسمان نے ایسا منہ کھولا کہ صحابہ کرام علیھم الرّضوان آئے تو دھوپ میں تھے لیکن برستی ہوئی بارش میں اپنے گھروں کو گئے۔ پھر متواتر اگلے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ ایک آدمی پھر کھڑا ہوا اور فریاد کی یارسول اللہ! مکان گر گئے ہیں لہذا دعا کریں کہ اللہ اس کو روک دے۔ آپ نے مسکرا کر فرمایا: اے اللہ! ہمیں چھوڑ کر ہمارے اردگرد برسا دے یہ کہنا تھا کہ بادل مدینہ کے اوپر سے ہٹ کر یوں چاروں طرف رہے گویا وہ تاج ہیں۔(بخاری شریف، نسائی شریف، معانی الآثار)
اجابت کا سہرا عنایت کا جوڑا۔۔۔۔دلہن بن کے نکلی دعائے محمدۖ
اجابت نے جھک کر گلے سے لگایا۔ بڑھی جب ناز سے دعائے محمدۖ(اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ) مزید حدیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ بارگاہ نبوت میں فریاد کرنا شرک نہیں بلکہ سنت صحابہ کرام علیھم الرضوان ہے۔ پھر آپ نے قحط جیسی بلا اپنی دعائے مبارک سے دور فرما دی۔ گویا اللہ تعالیٰ کی عطا سے آپ بلائوں کو دفع کرنے والے ہیں۔ یا یوں کہہ لیں کہ اللہ تعالیٰ حضور ۖ کے توسل سے نعمتیں نازل فرماتا ہے اور بلائوں کو دور فرماتا ہے۔
بے ان کے واسطہ کے خدا کچھ عطا کرے۔ حاشا غلط غلط یہ ہوس بے بصر کی ہے اعلیٰ حضرت رضی اللہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ احزاب میں ہم خندق کھود رہے تھے، ایک سخت پتھر نکل آیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے حضور علیہ الصّلواة والسّلام سے عرض کی: خندق کے اندر ایک سخت پتھر نکل آیا ہے۔ آپ نے فرمایا: میں دیکھتا ہوں، آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور حالت یہ تھی کہ بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا تھا۔ ہم لوگوں نے بھی تین دن سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ حضور ۖ نے کدال ہاتھ میں لیا اور پتھر پر مارا۔ وہ سخت پتھر(ایک ہی ضرب سے) ریت کی طرح ریزہ ریزہ ہوگیا۔ میں اپنے گھر آیا اور اپنی بیوی سے کہا کہ آپ ۖ کے لئے کوئی کھانا ہوگا؟ اس نے ایک تھیلا نکالا جس میں ایک صاع( چار کلو) جَو تھے ہمارے پاس بھیڑ کا بچہ تھا جسے میں نے ذبح کیا اور میری بیوی نے آٹا پیسا۔ میں نے گوشت ہنڈیا میں چڑھانے کے بعد حضور علیہ السّلام کی بارگاہ میں جاکر عرض کی: ہم نے جَو کے آٹا اور ایک بھیڑ کا بچہ ذبح کرکے اس سے کھانا تیار کیا ہے۔ آپ چند دوستوں کے ہمراہ تشریف لائیں۔ آپ نے یہ سن کر بلند آواز سے اعلان کیا کہ خندق والو! چلو جابر نے کھانا تیار کیا ہے اور مجھے فرمایا: ہنڈیا چولھے سے نہ اتارنا اور آٹا نہ پکانا جب تک میں نہ آجائوں چنانچہ ہم نے ایسے ہی کیا۔ جب آپ جلوہ فرما ہوئے تو آپ نے ہنڈیا اور آٹے میں اپنا لعاب دہن مبارک ڈالا اور برکت کی دعا فرمائی۔ خندق والے ایک ہزار آدمی تھے میں خدا کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ سب نے کھانا کھایا مگر ہنڈیا بدستور بھری رہی اور آٹا پکایا جاتا رہا جیسا کہ وہ شروع میں تھا۔(بخاری ومسلم مشکٰوة شریف)
ایسے ہزاروں واقعات معجزات کی صورت میں کتب احادیث جن سے بھری پڑی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایسی شانیں اور عظمت عطا فرماتا ہے جن کے ذریعہ پتا چلتا ہے کہ اللہ جل جلالُہ بڑی قدرتوں اور طاقتوں کا مالک ہے۔ باقی اہل سنت وجماعت تو خوش قسمت ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کی دی ہوئی طاقتوں پر یقین رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقائق کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)۔
٭٭٭٭٭٭










