واشنگٹن (پاکستان نیوز)صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانیوالے تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا پرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے کی سلامتی کے لیے ایک بڑا، اہم اور جرات مندانہ اقدام قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر انتہائی مسرت ہوئی ہے کہ تینوں ممالک نے بالآخر اس دفاعی اتحاد پر دستخط کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مشرق وسطیٰ تیزی سے متحد ہو رہا ہے اور خطے کے ممالک اب زیادہ موثر اور بااعتماد انداز میں اپنا دفاع خود کرنے کے اہل ہوں گے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر کے ان مثبت تاثرات اور تحسین کا خیرمقدم کیا ہے۔ مکہ مکرمہ میں طے پانے والے اس سہ فریقی معاہدے کا اہم ترین نقطہ یہ ہے کہ کسی بھی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس کا بنیادی مقصد اجتماعی دفاعی صلاحیات کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کو روکنا ہے۔ یہ تاریخی معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع اور خطے میں کشیدگی کی لہر جاری ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق یہ اتحاد نہ صرف ارکان کے لیے اجتماعی سیکیورٹی فراہم کرے گا بلکہ خطے اور دنیا بھر میں امن، استحکام اور سلامتی کے فروغ میں بھی فعال کردار ادا کرے گا۔ اس کے علاوہ تینوں برادر ممالک نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔








