محترم قارئین کرام، آپ کی خدمت میں سید کاظم رضا نقوی کا سلام پہنچے۔ آج ایک حساس موضوع کو چنا ہے، کیونکہ دنیا میں تین سے پانچ فیصد افراد ایسے پیدا ہوتے ہیں جن کو کوئی نہ کوئی معذوری ہوتی ہے۔ یہ معذوری پیدائشی بھی ہوتی ہے اور بعض اوقات جب بچہ بڑا ہو تب سامنے آتی ہے۔ میں اپنی زندگی میں خود ایسے کچھ جاننے والوں سے واقف ہوں جنہوں نے معذوری کو اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ ایسے چند لوگوں کی مثالیں مندرجہ ذیل ہیں:
ہمیں ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا کی روشن مثال ملتی ہے۔ یہ پاکستان کے پہلے نابینا جج کی تقرری کی سبق آموز کہانی ہے۔ 2017 میں لاہور کے ایک نابینا نوجوان وکیل نے سول جج کی سیٹ کے لیے تحریری امتحان دیا۔ اس امتحان میں ہزاروں امیدواروں نے حصہ لیا اور جب نتائج سامنے آئے تو اس نوجوان نے تحریری امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ مگر افسوس کہ اس نابینا وکیل کو اتنی شاندار کامیابی کے باوجود جج بننے کے لیے منتخب نہیں کیا گیا۔ یوسف سلیم پیدائشی طور پر نابینا تھے، مگر پڑھ لکھ کر اور قانون کی تعلیم حاصل کرکے وہ اس قابل ہوئے تھے اور وہ کئی بار کے گولڈ میڈلسٹ بھی تھے۔ یوسف نے پھر ایک کوشش کی اور دوبارہ سول جج کے امتحان میں حصہ لیا، لیکن اس بار بھی نابینا ہونے کی وجہ سے انہیں انٹرویو میں فیل کردیا گیا۔ جب یوسف سلیم کا معاملہ میڈیا کے ذریعے سامنے آیا تو سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس کا نوٹس لیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی بینائی سے محروم شخص دوسری تمام شرائط پوری کرتا ہے تو اسے جج بننے سے محض اس بنیاد پر نہیں روکا جاسکتا۔ لاہور ہائی کورٹ کو یوسف سلیم کے معاملے پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت دی گئی، بالآخر سلیکشن کمیٹی نے ان کی تقرری کی سفارش کردی اور 26 June 2018 کو یوسف سلیم نے پاکستان کے پہلے نابینا سول جج کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا اور وہ آج تک کامیابی کے ساتھ منصف کی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں۔
اسی طرح پروفیسر حافظ نسیم الدین بھی معلومات عامہ کے فروغ میں مصروف عمل چند اہم لوگوں میں شامل ہیں۔ آپ 1962 میں سکھر میں پیدا ہوئے۔ 1976 میں حفظ کی سعادت حاصل کی، پھر 1976 میں ہی کراچی تشریف لائے اور 1982 میں اسکول فار بلائنڈ سے میٹرک کیا۔ 1987 میں نیشنل کالج سے گریجویشن اور 1990 میں جامعہ کراچی سے پاکستان اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔ آپ نے دوران طالب علمی پاکستان ٹیلی ویڑن کے پروگرام ذوق آگہی، میزان، ذوق و شوق، یونیورسٹی چیلنج اور ریڈیو پاکستان کے پروگرام رحمت اللعالمین، ذہانت شرط ہے، آزادی کوئز اور منزل جیسے پروگراموں میں انعامات اور ایوارڈز حاصل کیے۔ پاکستان ٹیلی ویڑن کے سب سے مقبول پروگرام نیلام گھر سے سات مسلسل پروگرام جیت کر آپ نے ایشیا کا سب سے بڑا انعام سوزوکی کار جیتی اور ماسٹر مائنڈ کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ نیلام گھر سے کار جیتنے کے بعد مختلف تنظیموں نے آپ کو ایوارڈز دیے، جن میں اقوام متحدہ یوتھ ایوارڈ، روٹری انٹرنیشنل ایوارڈ، نیشنل کالج کی طرف سے گولڈ میڈل اور سوہنی دھرتی ایوارڈ شامل ہیں۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف بلائنڈ کی جانب سے 1985 میں گورنر سندھ جنرل جاندار نے ایوارڈ دیا اور حاتم علوی بریل لائبریری کی جانب سے 1986 میں گورنر سندھ اشرف تابانی نے گولڈ میڈل سے نوازا۔ اس کے بعد بھی مختلف اداروں اور تنظیموں نے آپ کی ذہانت اور خدمات کو دیکھ کر متعدد اعزازات دیے۔
پروفیسر حافظ نسیم الدین نے عمر بھر معلومات عامہ کی خدمت کی۔ پہلے بطور طالب علم مقابلے میں حصہ لیتے رہے، پھر پاکستان کوئز سوسائٹی کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے کالجوں میں معلوماتی پروگرام منعقد کرانے لگے۔ انہوں نے کوئز ماسٹر، محقق اور سوال و جواب لکھنے جیسے تمام کام بخوبی انجام دیے۔ پروفیسر حافظ نسیم الدین نے معلومات عامہ کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھا، بلکہ سوال و جواب یعنی کوئز کی شکل میں متعدد کتب مرتب کرکے شائع کیں، جن میں پاکستان کے پچاس سال معلومات کے آئینے میں، حیات مادر ملت ایک نظر میں، پاکستان کے ماہ و سال، شہید ملت لیاقت علی خان اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو آپ کی چند اہم تصانیف ہیں۔ پروفیسر حافظ نسیم الدین خاتون پاکستان کالج، گلشن اقبال کالج اور خواتین کالج فریئر روڈ میں پاکستان اسٹڈیز کے استاد رہے اور لیکچرار سے ترقی کرتے ہوئے پروفیسر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے، جو کہ ان کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ آپ نے اپنے دوستوں اور شاگردوں کا ایک وسیع حلقہ بنایا جو ان کے ساتھ معلومات عامہ کے فروغ میں آج بھی مصروف عمل ہے۔
محترم قارئین کرام، ہم کو چاہیے کہ نہ صرف ایسے افراد کی عزت کریں جو کسی بھی معذوری کا شکار ہیں، بلکہ ان کو معاشرے کا فعال فرد بننے میں ان کی مکمل مدد بھی کریں۔ اللہ تعالی نے کسی بھی انسان کو بے کار یا بے مقصد پیدا نہیں فرمایا، مگر ہماری عقل و سمجھ اس حقیقت کو سمجھنے سے اکثر قاصر رہتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اگلے ہفتے تک آپ سے اجازت چاہتے ہیں۔











