صحافت سے وابستہ رہنے کے ناطے میں یہاں کے مسلم اور پاکستانی معاشرے کے جذبات کو بہت قریب سے دیکھ رہا ہوں۔ اس وقت امریکہ میں رہنے والے پاکستانی اور دیگر مسلمان شدید تشویش اور بے چینی کا شکار ہیں۔ اس تشویش کی بڑی وجہ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کا وہ نیا فیصلہ ہے جس کے تحت 2009 میں ایک فوجی اڈے پر فائرنگ کرنیوالے سابق فوجی اہلکار ندال ملک حسان کو دی جانیوالی سزائے موت کو نشریاتی ذرائع پر براہ راست دکھانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس خبر کے سامنے آتے ہی امریکی مسلمانوں میں ایک خوف اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ عوام اس قدم کو محض ایک قانونی عمل نہیں بلکہ سیاسی اور مذہبی تعصب کا نتیجہ سمجھ رہے ہیں۔
مسلم کمیونٹی کا یہ ماننا ہے کہ ٹرمپ اور ان کے ساتھی اس پرانے واقعے کو صرف اس لیے اتنے بڑے پیمانے پر نمایاں کر رہے ہیں کیونکہ اس جرم کا مرتکب ایک مسلمان تھا اور اس کے والدین کا تعلق فلسطین سے تھا۔ اگر یہی دل دہلا دینے والا کام کسی غیر مسلم شہری یا کسی سفید فام شخص نے کیا ہوتا تو شاید اس معاملے کو یوں بڑھا چڑھا کر پیش نہ کیا جاتا اور نہ ہی اس کی سزائے موت کو ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کرنے کا کوئی حکم دیا جاتا۔ امریکہ کی تاریخ میں متعدد بار غیر مسلم افراد نے اس سے کہیں زیادہ بڑے اور خوفناک قتل عام کیے ہیں لیکن ان کے مقدمات کو اس طرح سے ہر وقت ابلاغی ذرائع کی زینت نہیں بنایا گیا اور نہ ہی ان کے جرم کا بدلہ پورے مذہبی یا نسلی گروہ سے لینے کی کوشش کی گئی۔
مسلم کمیونٹی واضح طور پر یہ محسوس کر رہی ہے کہ اس تمام تر کارروائی کے پیچھے ٹرمپ اور ان کے سیاسی گروہ کا مقصد اسلام سے خوف اور نفرت پھیلا کر اپنی سیاست کو چمکانا ہے۔ سزائے موت کی براہ راست نشریات کا انتظام کر کے امریکی مسلمانوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان کی حیثیت اس ملک میں برابر کے شہریوں کی نہیں ہے۔ اس فیصلے کے ذریعے نہ صرف ایک قیدی کو سزا دی جا رہی ہے بلکہ پوری کمیونٹی کو خوفزدہ کرنے کا سانچہ تیار کیا جا رہا ہے۔ جب کسی مجرم کے جرم کو اس کے مذہب اور فلسطینی اصل سے جوڑ کر اشتہار بنایا جائے گا تو اس سے عام امریکیوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نادانستہ طور پر تعصب اور نفرت مزید بڑھے گی۔
ایک پاکستانی امریکی اور ایک مسلم صحافی ہونے کے ناطے مجھے اپنے ارد گرد رہنے والے والدین کی فکر سب سے زیادہ ستاتی ہے۔ ہمارے بچے یہاں کے اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور روزگار کے لیے مختلف اداروں میں کام کرتے ہیں۔ اس قسم کی نشریات اور حکومتی بیانات کے بعد ہمارے بچوں کے لیے تعلیمی اداروں اور کام کی جگہوں پر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کیخلاف زبانی اور برتاؤ کی سطح پر تضحیک کے واقعات بڑھنے کا شدید خدشہ موجود ہے۔ جب بھی امریکہ میں اس طرح کا ماحول بنایا جاتا ہے تو اس کا سب سے پہلا نشانہ باحجاب خواتین، داڑھی رکھنے والے مرد اور مساجد بنتی ہیں۔ لوگ راستوں اور بازاروں میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگتے ہیں، جو کہ اس ملک کے آئین اور بنیادی انسانی حقوق کے بھی خلاف ہے۔
اس معاملے کا ایک اور دردناک پہلو یہ ہے کہ مجرم کا تعلق فلسطین سے جوڑ کر ان لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑکا جا رہا ہے جو پہلے ہی اپنے وطن میں جاری ظلم اور تشدد سے دکھی ہیں۔ ٹرمپ اور ان کے ساتھی اس بات کا فائدہ اٹھا کر فلسطین اور مسلمانوں کا ایک غلط اور خطرناک تاثر قائم کر رہے ہیں۔ اس طرح کے بیانیے سے ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں کو ایک بار پھر ایک خاص دائرے میں بند کیا جا رہا ہے تاکہ باقی آبادی کے سامنے انہیں خطرناک بنا کر پیش کیا جا سکے۔ یہ صورتحال صرف ایک شخص کی سزا تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ہمارے وجود، ہماری عزت اور ہماری شناخت کی بقا کا مسئلہ بن چکی ہے۔
امریکہ کی بنیاد مساوات اور مذہبی آزادی کے اصولوں پر رکھی گئی تھی، لیکن موجودہ حکومتی رویے ان اعلیٰ اصولوں کے بالکل برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارا مقصد کسی مجرم کے غلط کام کا دفاع کرنا بالکل نہیں ہے کیونکہ ہر جرم کی سزا قانون کے مطابق ملنی چاہیے اور ملزم کا نام چاہے کچھ بھی ہو۔ لیکن جب قانون کے نافذ کرنے کے طریقے کو ایک مخصوص قوم یا مذہب کی تحقیر کے لیے استعمال کیا جائے تو اس پر آواز اٹھانا ہر شہری کا حق ہے۔ ہمیں بحیثیت پاکستانی اور مسلمان متحد ہو کر اس ناانصافی اور اسلام سے خوف پھیلاؤ کی پالیسی کا سول حقوق کی تنظیموں کے ساتھ مل کر قانونی اور سیاسی میدان میں مقابلہ کرنا ہوگا۔ اگر ہم آج خاموش رہے تو آئندہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے اس ملک میں باوقار زندگی گزارنا اور بھی مشکل ہو جائے گا۔













