مغربی والدین کی تنہائی!!!
آج کل دیکھنے میں آیا ہے کہ والدین کی نافرمانی ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ بچوں کو یا تو سکھایا نہیں جاتا یا ماحول کے اثرات ہیں کہ ان کے دل میں والدین کے لیے وہ جذبہ نہیں پایا جاتا جو ان کے دلوں میں والد یا والدہ کے لیے محبت اور احترام پیدا کرے۔ جذبہ محبت، جذبہ اطاعت اور جذبہ احترام وہ عناصر ہیں جو کسی بھی اولاد کے دل میں ہوں تو وہ والدین کا خیال رکھتے ہیں، والدین سے بدتمیزی نہیں کرتے اور والدین کی خدمت کو بوجھ نہیں سمجھتے۔
مغربی ماحول کے زیر اثر بچے والدین کے ساتھ شروع سے ہی اطاعت و فرمانبرداری کا رویہ نہیں رکھتے۔ والدین انہیں کچھ کہیں تو وہ بات پولیس، اسکول اور اساتذہ تک پہنچ جاتی ہے۔ وہ باپ جو بچوں کے لیے کمانے جاتا ہے اور اگر گھر آکر غصے اور جھنجھلاہٹ میں کچھ بول دے تو اس کی اپنی اولاد اس کو ترکی بہ ترکی جواب دیتی ہے۔ اگر ماں غصہ کرے، پڑھائی کی طرف توجہ دلائے یا کسی اور بات سے منع کرے تو دوسرے دن دوستوں سے ماں کی شکایت یوں کی جاتی ہے جیسے کسی پڑوس کی خاتون کی بات ہو رہی ہو۔ ایک زمانہ تھا جب کوئی یہ سوچنا بھی نہیں تھا کہ اسے اپنے والدین کی برائی بھی کرنی ہے۔ یہ اماں ابا کا حق ہوتا تھا کہ بچوں کو پیار بھی کریں، ان کے لیے کما کر بھی لائیں اور انہیں سرزنش بھی کریں۔ کچھ سخت گیر باپ تو لڑکوں کی پٹائی بھی کر دیتے تھے۔ سخت گیر مائیں لڑکیوں سے گھر کے کام لیتی تھیں اور ساتھ ساتھ ڈانٹتی بھی رہتی تھیں، پھر بھی کوئی لڑکا یا لڑکی یہ سوچتا بھی نہیں تھا کہ وہ والدین کی برائی باہر جا کر اپنے دوستوں سے کرے۔ اب تو بچوں کے دلوں سے والدین کی عزت بھی اتر جاتی ہے اور محبت بھی، لہٰذا ایسے بچے بڑے ہو کر کیا والدین کی خدمت کریں گے۔ خدمت کے لیے قربانی اور محبت کا جذبہ چاہیے، جو کہ اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب والدین کی خدمت کو سراہا جائے، ان کے تھوڑے کیے کو بہت مانا جائے اور ان کا شکر گزار رہا جائے۔ والدین ہی کی پرورش اور نگرانی میں ہم پلتے بڑھتے اور شعور کو پہنچتے ہیں، اور وہ جس غیر معمولی قربانی، بے مثل جاں فشانی اور انتہائی شفقت سے ہماری سرپرستی فرماتے ہیں، ان کا تقاضہ ہے کہ ہمارا سینہ ان کی عقیدت، احساس مندی، عظمت اور محبت سے سرشار ہو۔ ہمارے دل کا ہر حصہ ان کا شکر گزار ہو، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی شکر گزاری کے ساتھ ساتھ ان کی شکر گزاری کی بھی تاکید فرمائی ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ ہم نے وصیت کی کہ میرا شکر ادا کرو اور اپنے ماں باپ کے شکر گزار رہو۔
ہر وقت کی ناشکری اور ہر بات پر ماں باپ سے شکایت آج کل کے بچوں نے اپنا شعار بنا لیا ہے۔ جب آپ کسی کے شکر گزار نہیں رہیں گے تو اس کا احسان کیسے مانیں گے، اس کے احسان کا بدلہ کیسے چکائیں گے اور اس کے بڑھاپے میں اس کی خدمت کیسے کریں گے۔ جب بچپن میں والدین کی باتیں برداشت نہیں ہوئیں تو جوانی میں، جب کہ دوسری مصروفیات اور پریشانیاں پیچھے لگی ہوئی ہیں، والدین کی برداشت بھی کم ہو جاتی ہے؛ ایسے میں ان کا غصہ اور ان کی بیماریاں کیسے برداشت کریں گے۔ اسی لیے تحمل اور اخلاق بچپن ہی سے سکھایا جاتا ہے، مگر آپ کس کو الزام دیں گے؟ ان والدین کو جو خود تحمل اور برداشت سے کام نہ لیتے تھے اور اخلاق کے عادی نہ تھے، یا پھر اس ماحول کو جہاں بچوں کو اخلاق سکھایا نہیں جاتا اور مذہب سے دور رکھا جاتا ہے، یا پھر ان بچوں کو جو خود غرض ہوچکے ہیں اور انہیں یہ احساس ہی نہیں کہ جب وہ بے بس بچے تھے تو ان کا خیال کس نے رکھا اور ان کو شعور تک کس نے پہنچایا۔
وجہ جو بھی ہو، آج کل کے والدین اولاد سے وہ توقع رکھ ہی نہیں سکتے جو پہلے کے والدین رکھتے تھے۔ آج کل کے والدین تنہا ہوچکے ہیں اور اس تنہائی کو دور کرنا اگر ممکن ہے تو وہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ وہ والدین جو یہ سمجھتے ہیں کہ اولاد کیوں آج کل والدین سے دور ہو رہی ہے، وہ اپنی آنے والی نسلوں کو یہ ضرور بتائیں کہ ان سے کہاں کیا غلطی ہوئی جو آج ان کی اولاد ان سے دور ہوگئی۔ اگر ان کو کہیں بھی اپنی کوئی غلطی نظر نہ آئے تو پھر یہ ضرور سوچ لیں کہ یہ ماحول کا اثر ہے۔ اس لیے جو والدین ابھی اپنے چھوٹے بچوں کی تربیت کر رہے ہیں، ان کو چاہیے کہ بچوں کو اچھا ماحول دینے کی کوشش کریں، انہیں اپنے سے قریب رکھیں، گھر کے ماحول کو بوجھل نہ ہونے دیں اور اللہ سے عاجزی کے ساتھ دعا کرتے رہیں کہ اپنے بچوں کے لیے جو محنت وہ کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں اس کا بہترین صلہ دے اور ان کی اولاد ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائے۔











