ٹورنٹو(پاکستان نیوز)کینیڈا اور چین کے درمیان ہونے والے ایک نئے تجارتی معاہدے کے بعد کینیڈائی بندرگاہوں پر چینی ساختہ الیکٹرک گاڑیوں کی پہلی بڑی کھیپ پہنچ گئی ہے جس سے مقامی آٹو مارکیٹ میں ایک نیا رخ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کینیڈا کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پہلی کھیپ میں 2,910 گاڑیاں درآمد کی گئی ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کا حصہ ہیں جس کے تحت کینیڈا سالانہ 49,000 چینی الیکٹرک گاڑیاں درآمد کرنے کی اجازت دے گا۔ اس سے قبل کینیڈا نے ان گاڑیوں پر 100 فیصد اضافی ٹیکس عائد کر رکھا تھا تاہم اب باہمی مذاکرات کے بعد اس ٹیکس کو کم کر کے صرف 6.1 فیصد کر دیا گیا ہے جبکہ اس کے بدلے میں چین نے کینیڈا سے آنے والی زرعی مصنوعات پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں۔
ابتدائی طور پر آنے والی ان گاڑیوں میں بڑی تعداد شنگھائی میں تیار ہونے والی ٹیسلا ماڈل 3 الیکٹرک کاروں کی ہے جبکہ چند دیگر چینی کمپنیوں کی مہنگی اور جدید گاڑیاں بھی جانچ پڑتال اور نمائش کے لیے کینیڈا پہنچائی گئی ہیں۔ کینیڈائی حکومت کا منصوبہ ہے کہ 2027 تک اس کوٹے کا ایک بڑا حصہ سستی گاڑیوں کے لیے مخصوص کیا جائے تا کہ عام صارفین کو 35,000 کینیڈائی ڈالر سے کم قیمت میں برقی گاڑیاں مل سکیں۔ جہاں ایک طرف اس اقدام سے گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی اور خریداروں کے لیے وسیع انتخاب کی امید پیدا ہوئی ہے، وہیں دوسری طرف ملکی سلامتی اور گاڑیوں میں موجود ڈیجیٹل نظام کے ذریعے معلومات کی چوری کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں جبکہ امریکہ کی جانب سے بھی ان گاڑیوں کی سرحد پار نقل و حرکت پر اعتراضات اٹھائے جا سکتے ہیں۔












