میں نے اپنے ایک کالم میں ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کے بارے میں ”زمین پر فرشتہ” کے نام سے لکھا تھا اور اب میں دوسرے فرشتہ کے نام سے شروع کر رہا ہوں اور وہ نام ہے ڈاکٹر عبدالباری خان جنہوں نے اپنے پیشہ ورانہ زندگی کو ضرورت مندوں کے علاج اور پاکستان میں معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے وقف کیا ہوا ہے۔ ڈاکٹر عبدالباری خان کراچی میں پیدا ہوئے جبکہ ان کے خاندان کا تعلق پشاور سے تھا انہوں نے اعلیٰ تعلیم کراچی سے حاصل کی وہ ڈائو میڈیکل کالج کے طالبعلم رہے اور 1986ء میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی، ڈاکٹر عبدالباری خان کی زندگی میں ایک اہم موڑ کراچی میں ہونیوالے بم دھماکوں کے واقعات تھے اس دوران انہوں نے زخمیوں کی مشکلات اور سرکاری ہسپتالوں میں علاج کیلئے درکار وسائل کی کمی کو قریب سے دیکھا اس کے بعد انہوں نے ٹھان لی کہ ایک ایسا ہسپتال قائم کی اجائے جہاں مریض کو اس کی مالی حیثیت کی وجہ سے علاج سے محروم نہ ہونا پڑے۔ 2007ء میں انہوں نے کراچی کے علاقے کورنگی میں انڈس ہسپتال کی بنیاد 150 بستروں پر مشتمل ہسپتال سے کی جہاں مریضوں کا معیاری علاج مفت کیا جانے لگا۔ وقت گزرنے کیساتھ یہ ادارہ ترقی کرتا گیا اور اس کی خدمت ایک ہسپتال تک محدود نہ رہیں بلکہ یہ انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کی شکل اختیار کر گیا۔ اس نیٹ ورک نے مختلف علاقوں میں ہسپتالوں، بنیادی مراکز صحت اور دیگر طبی پروگراموں کے ذریعے اپنی خدمات کو وسعت دی اس ہسپتال میں کوئی کیش کائونٹر نہیں ہے۔ تمام مریضوں کا معیاری طبی علاج بالکل مفت کیا جاتا ہے اور یہ ادارہ عطیات، مخیر حضرات کے تعاون اور دیگر وسائل کے ذریعے اپنی خدماتی جاری رکھے ہوئے ہے اسی سلسلے میں ہیوسٹن چیپٹر نے ایک فنڈریزنگ ڈنر کا اہتمام میریٹ ہوٹل شوگر لینڈ میں کیا تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے حمزہ نے کیا۔ بچوں نے پاکستان کا قومی ترانہ خوبصورت انداز میں پیش کیا۔ نظامت کے فرائض صابرینہ مُعید نے خوبصورتی سے ادا کیے اور اپنے پہلے اسپیکر دھنانی گروپ کے محمد علی دھنانی کو بلایا انہوں نے انڈس کے بارے میں اپنے تاثرات اور تجربات بیان کیے۔ ڈاکٹر فیاض فیض اور ڈاکٹر محمد حنیف جو فرینڈز آف انڈس کے صدر ہیں تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ڈاکٹر احسان رضوی نے ڈاکو منٹری کے ذریعے تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ڈاکٹر شاہد حسنین جو ہیوسٹن چیپٹر کے صدر ہیں انہوں نے فواد کوچین والا اور پاکستان کے نامور فنکار ثانیہ سعید اور احسن خان کیساتھ مل کر فنڈریزنگ میں 1.6 ملین ڈالر جمع کیے جس میں مشہور بزنس مین شاہد ہاشمی کے 50 ہزار ڈالر بھی شامل تھے۔ پروگرام چند وجوہات کی بناء پر دیر سے شروع ہوا۔ ثانیہ سعید نے بھی انڈس ہسپتال کیساتھ اپنی دیرینہ وابستگی کے بارے میں بتایا۔ احسن خان کو اسٹیج پر بلا کر ان کے ڈراموں کی تشہیر کی گئی اور اس میں ٹائم ضائع کیا گیا جس کی وجہ سے وہاں موجود لوگوں کو شکایت ہوئیں احسن خان نے اپنی باتوں سے لوگوں کو محظوظ کیا اور لوگوں نے اپنی محبت کا دل کھول کر اظہار کیا۔ لوگوں نے دل کھول کر عطیات دیئے۔ پورا ہال لوگوں سے بھرا ہوا تھا اور سونے پہ سہاگہ ٹیمپورا ریسٹورنٹ کے عمدہ کھانوں نے محفل کا لُطف دوبالا کر دیا۔ ڈنر کے بعد ہیوسٹن کے اُبھرتے ہوئے فنکار سہیل حیدر جو اب ایک قوال گروپ بنا چکے ہیں انہوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ والنٹیئرز کو ڈاکٹر شگفتہ نقوی کے ہاتھوں تعریفی اسناد دی گئیں۔ تمام مہمانوں، اسپانسروں، میڈیا کا سب کا شکریہ ادا کیا گیا ڈاکٹر شاہد حسنین نے فرداً فرداً سب کا شکریہ ادا کیا۔ لوگوں نے ثانیہ سعید اور احسن خان کیساتھ ایک گھنٹہ تک تصاویر کھنچوائیں۔ اس طرح انڈس ہسپتال کا یہ گالا 2026ء اپنے اختتام کو پہنچا۔ فواد کوچین والا کی محنت اور خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔
٭٭٭














