برازیل میں جمہوری فتح اور امریکی مڈ ٹرم انتخابات!!!

0
5
جاوید رانا

امریکہ میں بیٹھ کر جب ہم برازیل کے حالیہ انتخابات اور اس کے بین الاقوامی اثرات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونیوالی سیاسی ہلچل کا براہ راست اثر امریکہ کی اندرونی سیاست بالخصوص آنیوالے وسط مدتی انتخابات پر پڑتا ہے۔ بالخصوص شکاگو اور بالعموم امریکہ بھر میں مقیم پاکستانی اور مسلمان کمیونٹی کے مسائل کو دیکھیں تو ہمیں برازیل کے اس معرکے اور امریکہ کے آنے والے وسط مدتی انتخابات میں ایک گہرا تعلق نظر آتا ہے۔ برازیل میں بائیں بازو کے رہنما 82 سالہ لولا ڈاسلوا کی تاریخی کامیابی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب عوام دائیں بازو کی شدت پسندی، معاشی ناہمواری اور تارکین وطن دشمن پالیسیوں سے تنگ آ جاتے ہیں تو وہ ووٹ کی طاقت سے ایک بڑا انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔ یہی صورتحال اس وقت امریکہ کے اندر بھی پنپ رہی ہے جہاں ہمارے ووٹرز اور تارکین وطن آنیوالے وسط مدتی انتخابات کے ذریعے ملکی سیاست کا رخ موڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات ملکی سیاست کا ایک ایسا اہم موڑ ہوتے ہیں جو کانگریس اور سینیٹ میں طاقت کا توازن طے کرتے ہیں اور موجودہ انتظامیہ کی پالیسیوں کو یا تو تقویت دیتے ہیں یا انہیں لگام ڈالتے ہیں۔ شکاگو سمیت امریکہ بھر میں آباد پاکستانی اور مسلمان کمیونٹی گزشتہ چند برسوں سے جن مشکلات کا شکار رہی ہے، ان میں مہنگائی، تارکین وطن کے حقوق پر پابندیاں، شہری آزادیوں کا کٹاؤ اور معاشی عدم استحکام سرفہرست ہیں۔ برازیل کے انتخابات نے یہ دکھایا کہ جب سیاسی جماعتیں سرمایہ داروں اور اشرافیہ کے مفادات کو ترجیح دیتی ہیں اور عام آدمی، مزدور اور اقلیتوں کے حقوق کو نظر انداز کرتی ہیں تو عوام سڑکوں اور پولنگ بوتھ پر نکل کر تبدیلی کا راستہ خود چن لیتے ہیں۔ برازیل کے ووٹرز نے جس طرح پہلے مرحلے کی ناکامی کے باوجود دوسرے مرحلے میں زبردست واپسی کی اور دائیں بازو کی قوم پرستی کو شکست دی، وہی جذبہ ہمیں امریکہ کے آنیوالے وسط مدتی انتخابات میں بھی دہرانا ہوگا۔
ہمارے لیے یہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ امریکہ کے اندر دائیں بازو کی جو سیاست آج کل عروج پر ہے، اس کا نشانہ براہ راست تارکین وطن، مسلمان اور رنگ برنگی نسلیں بنتی ہیں۔ برازیل میں بھی بالکل یہی کھیل کھیلا جا رہا تھا جہاں مذہب، قوم پرستی اور خوف کی سیاست کو بنیاد بنا کر عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن شاندار عوامی بیداری نے اس سازش کو ناکام بنا دیا۔ جب ہم امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں بھی بالکل ایسے ہی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ہماری کمیونٹی کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ ہمارے ووٹ کی طاقت صرف مقامی یا بلدیاتی سطح تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ واشنگٹن کے ایوانوں میں ہماری آواز کو بلند کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اگر ہم آنیوالے انتخابات میں منظم ہو کر ووٹ نہیں ڈالیں گے تو وہ قوتیں اقتدار پر قابض ہو جائیں گی جو تارکین وطن کی مخالفت اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کو اپنا سیاسی ہتھیار بناتی ہیں۔
برازیل کے اس الیکشن سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا، سوشل نیٹ ورکس اور جدید پروپیگنڈا کس طرح انتخابی نتائج کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن عوام کا اتحاد اور شعور ان تمام ہتھکنڈوں کو مات دے سکتا ہے۔ امریکہ میں بھی وسط مدتی انتخابات سے پہلے پروپیگنڈا اور غلط معلومات کے ذریعے ووٹرز کو گمراہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ شکاگو اور دیگر شہروں میں مقیم پاکستانیوں اور مسلمانوں کو اس بات کا پختہ عزم کرنا ہوگا کہ وہ اس قسم کے منفی ہتھکنڈوں کا شکار نہ ہوں اور اپنے حقیقی مسائل جیسے کہ روزگار کے مواقع، بچوں کی معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات اور مساوی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔ برازیل کے عوام نے ثابت کر دیا کہ جمہوریت میں اصل طاقت عوام کے پاس ہوتی ہے، اور یہی اصول امریکہ کے وسط مدتی انتخابات پر بھی سو فیصد صادق آتا ہے۔
آخر میں، ایک ذمے دار شہری اورصحافی کی حیثیت سے میں اپنے تمام قارئین اور کمیونٹی کے افراد سے یہی کہوں گا کہ برازیل کی یہ سیاسی تبدیلی ہمارے لیے ایک بیداری کا پیغام ہے۔ امریکہ میں آنیوالے وسط مدتی انتخابات ہمارے مستقبل کا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ میں ہمارے حقوق محفوظ رہیں، ہماری مساجد، تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز امن اور آزادی کیساتھ کام کریں، اور ہماری آنیوالی نسلیں فخر کے ساتھ زندگی گزار سکیں، تو ہمیں ایک متحد طاقت بن کر ابھرنا ہوگا۔ برازیل کے لوگوں کی طرح ہمیں بھی پولنگ بوتھ تک پہنچنا ہوگا اور یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اقلیتیں اور تارکین وطن اس ملک کا کمزور حصہ نہیں بلکہ اس کی اصل طاقت ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here