حضور مجاہد کی ولادت، حصول علم دین اور اس کا پس منظر
سید اولاد رسول قدسی مصباحی
قسط 6
حضور مجاہد ملت کی مناظرانہ شان اور علمی تمکنت کی چند جھلکیاں:
حضور مجاہد ملت کی مناظرانہ شان کا اندازہ خود مجاہد ملت کے اس چیلنج سے کیا جاسکتا ہے کہ آپ نے ایک اشتہار میں مولانا ابوالاعلیٰ مودوی کو چیلنج کرتے ہوئے لکھا:۔
”فقیر کی گذارش ہے کہ چودھویں صدی کے خود ساختہ مجتہد جناب مولانا مودودی صاحب اگر ہندوستان آکر بجائے تمام احادیث کریمہ جن پر کامل عبور ایک مجتہد کے لیے ضروری ہے، صرف ایک حدیث کے متعلق فقیر کے تمام سوالات کا شافی جواب دے دیں تو علاوہ سفر خرچ کے فقیر ایک ہزار روپیہ پیش کرے گا اور کسی ایک بھی سوال کا جواب معقول نہ دے سکیں تو انعامی رقم میں سے ایک پیسے کے بھی مستحق نہ ہوں گے اور بلاعلم وتحقیق مسئلہ بتا کر احادیث کریمہ کی رو سے زمین وآسمان کے فرشتوں کے لعنتی اور دین کی آفت نیز اجر علی النار ہوں گے۔
لہذا جماعت اسلامی ہند کے تمام ذمے داروں سے گذارش ہے کہ وہ اپنے خود ساختہ مجتہد صاحب کو ہندوستان بلائیں اور تحقیقات کا مظاہرہ کریں اور حقیقت کے ظاہر ہو جانے پر گمراہی سے توبہ کریں۔ ”
حضور مجاہد ملت نے ایک مشہور غیر مقلد مناظر عبدالرئوف جھنڈا نگری کو للکارتے ہوئے فرمایا
”اے امام اعظم کو قیاس بتانے والے امام اعظم تو امام اعظم یہ امام اعظم کے غلاموں کے غلاموں کے غلاموں کا ایک ادنیٰ غلام ہے اس کے سامنے آئو اور جو حدیث تم نے خوب سمجھی ہے اور خوب سمجھ کر پڑھا ہے اس کو صرف پڑھ کر بتا دو۔”
(نوائے حبیب، مجاہد ملت نمبر، ص٢٢٩۔٢٣٠)
ہزار چیلنج کے باوجود غیر مقلد مولویوں میں سے کوئی بھی سامنے نہیں آیا اور پورے مجمع میں ایک سناٹا چھا گیا، جناب جھنڈا نگری کا حال ایسا تھا جیسے کاٹو تو خون نہ نکلے۔ جب بریلی شریف کے ایک تاریخی مناظرے میں دیو بندیوں کے صدر مولوی اسمٰعیل سنبھلی نے سامعین کو یہ کہہ کر دھوکا دینا چاہا کہ…….
مسلمانو! ہماری صورت دیکھو ہم داڑھی رکھتے ہیں، ہم نماز پڑھتے ہیں، کلمہ پڑھتے ہیں، حج کرتے ہی، زکوٰة دیتے ہیں، دینی مدرسہ چلاتے ہیں، جن میں فقہ وتفسیر حدیث کی تعلیم دیتے ہیں، ہمارے دیو بند کا مدسہ اتنا لمبا چوڑا ہے مگر یہ لوگ ہم کو کافر کہتے ہیں اگر ہم کافر ہوتے تو یہ سب کیوں کرتے….
٭٭٭٭٭٭











