فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

0
6

فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

محترم قارئین! مہمان اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے مہمان کے آنے پر خوشی اور محبت کا اظہار کرناچاہئے اور نہایت خوش دلی، وسعت قلبی اور عزت واکرام کے ساتھ اُس کا استقبال کرنا چاہئے۔ تنگ دلی، بے رخی، سہرد مہری اور کڑھن کا اظہار ہرگز نہ کرنا چاہئے نبی کریمۖ کا ارشاد گرامی ہے کہ جو لوگ اللہ اور یوم آخرت پر یقین رکھتے ہیں انہیں اپنے مہمان کی خاطر تواضع کرنی چاہئے(بحاری ومسلم) خاطر تواضع کرنے میں وہ ساری باتیں داخل ہیں جو مہمان کے اعزز واکرام، آرام و راحت، سکون ومسرت اور تسکین جذبات کے لئے ہوں۔ خندہ پیشانی اور خوش اخلاقی سے پیش آنا، ہنسی خوشی کی باتوں سے دل بہلانا، عزت واکرام کے ساتھ بیٹھنے لیٹنے کا انتظام کرنا، اپنے معزز دوستوں سے تعارف اور ملاقات کرانا، اس کی ضروریات کا لحاظ رکھا، نہایت خوش دلی اور فراخی کے ساتھ کھانے پینے کا انتظام کرنا اور خود بنفس نفس خاطر مدارات میں لگے رہنا۔ یہ سب باتیں اکرام مہمان میں داخل ہیں۔
نبی پاکۖ کا اپنا طریقہ کار یہ تھا کہ خود بنفس نفیس مہمان کی خاطر داری فرماتے۔ جب آپ ۖ مہمان کو اپنے دستر خوان پر کھانا کھلاتے تو باربار فرماتے، اور کھایئے اور کھایئے مہمان کے آنے پر سب سے پہلے اس سے دعا سلام کرنا چاہئے، اور خیروعافیت معلوم کرنی چاہیئے۔ قرآن پاک میں ہے: ترجمعہ: کیا آپ کو ابراہیم کے معزز مہمانوں کی حکایت بھی پہنچی ہے کہ جب وہ ان کے پاس آئے تو آتے ہی سلام کیا، ابراہیم نے جواب میں سلام کیا علیھم الصّلٰوةُ والسّلام دل کھول کر مہمانوں کی خاطر تواضع کرنی چاہئے۔ اور اچھے سے اچھا میسر ہو تو مہمانوں کے سامنے فوراً پیش کرنا چاہئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے مہمان جب آئے تو حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے انکے لئے فوراً کھانے کا انتظار فرمایا اور جو موٹا تازہ بچھڑا انہیں میسر تھا اسی کا گوشت بھون کر مہمانوں کی خدمت میں پیش کیا جیسا کہ قرآن پاک میں ہے: ترجمہ: تو جلدی سے گھر میں جاکر ایک موٹا تازہ بچھڑا (ذبح کرکے بھنوا) لائے اور مہانوں کے سامنے پیش کیا۔ فَرَاغَ اِلیٰ اَھِلہِ کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ آپ علیہ السّلام چپکے سے گھر میں مہمانوں کی خاطر تواضع کرنے کا انتظام کرنے کے لئے چلے گئے۔ اس لئے کہ مہمانوں کو دکھا کر اور جتا کر ان کے کھانے پینے اور خاطر تواضع کرنے کی دوڑ دھوپ ہوگی تو وہ شرم اور میزبان کی تکلیف کی وجہ سے منع کریں گے اور پسند نہ کریں گے کہ ان کی وجہ سے میزبان کسی غیر معمولی زحمت میں پڑے اور پھر میزبان کے لئے موقع نہ ہوگا کہ وہ خاطر خواہ خاطر داری کرسکے۔ نبی رحمت، شفیع امت علیہ الصّلواة والسّلام نے مہان کی خاطر داری پر جس انداز سے ابھارا ہے اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے حضرت ابو شریح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میری ان دو آنکھوں نے دیکھا اور ان دو کانوں نے سنا ہے جب کہ نبی اکرمۖ یہ ہدایت دے رہے تھے۔ جو لوگ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں انہیں اپنے مہمان کی خاطر تواضع کرنی چاہئے۔ مہمان کے انعام کا موقع پہلا شب و روز ہے۔(بخاری و مسلم) پہلے شب و روز کو انعام سے تعبیر کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح انعام دینے والا دل کی انتہائی خوشی اور محبت کے گہرے جذبات کے ساتھ انعام دیتے ہوئے روحانی سرور اور خوشی محسوس کرتا ہے ٹھیک یہی کیفیت پہلے شب و روز میزبان کی ہونی چاہئے۔ اور جس طرح انعام لینے والا مسرت وشادمانی کے جذبات سے سرشار انعام دینے والے کے احساسات کی قدر کرتے ہوئے اپنا حق سمجھ کر انعام وصول کرتا ہے۔ ٹھیک اسی کیفیت کا مظاہرہ پہلے شب و روز میں مہمان کو بھی کرنا چاہئے اور بغیر کسی جھجھک کے اپنا حق سمجھتے ہوئے خوشی اور قربت کے جذبات کے ساتھ میزبان کی پیش کش قبول کرنی چاہئے۔
تین دن تک انتہائی شوق اور ولولے کے ساتھ میزبان کے تقاضے پورے کرنے چاہیئں تین دن تک کی ضیافت مہمان کا حق ہے اور حق ادا کرنے میں مئومن کو انتہائی فراخ دل ہونا چاہئے۔ پہلا دن خصوصی خاطر مدارات کا ہے۔ اس لئے پہلے روز مہمان نوازی کا پورا پورا اہتمام کرنا چاہئے۔ بعد کو دونوں میں اگر وہ غیر معمولی اہتمام نہ رہ سکے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ نبی پاکۖ کا ارشاد گرامی ہے: ترجعہ: اور مہمان نوازی تین دن تک ہے اس کے بعد میزبان جو کچھ کرے گاوہ اس کے لئے صدقہ ہوگا۔(بخاری ومسلم) دستر خوان پر خوردونوش کا سامان اور برتن وغیرہ مہمانوں کی تعداد سے کچھ زیادہ ہی رکھنے چاہئیں ہو سکتا ہے کہ کھانے کے دوران کوئی اور صاحب آجائیں اور پھر ان کیلئے انتظام کرنے کو دوڑنا بھاگنا پڑے۔ اور اگر برتن اور سامان پہلے سے موجود ہوگا توآنے والا بھی سبکی کے بجائے مسرت اور عزت افزائی محسوس کرے گا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر گزار رہیں گے تو اسی میں نفع ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو حقائق کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)۔
٭٭٭٭٭٭

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here